ملک ریاض نے ایک مرتبہ پھر قانون کی دھجیاں بکھیر دیں


بحریہ ٹاون کے مالک اور پاکستان کے ارب پتی بزنس ٹائیکون ملک ریاض حسین ایک مرتبہ پھر قانون کی دھجیاں بکھیرنے کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔
تازہ ترین واقعے میں سول ایوی ایشن اتھارٹی نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر کووِڈ 19 کی پابندیوں سے انحراف کرنے پر ملک ریاض اور ان کی اہلیہ کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔ ملک ریاض اور ان کی اہلیہ بینا ریاض کی جانب سے کووِڈ 19 کا ٹیسٹ کروانے سے انکار پر ایئرپورٹ کے چیف آپریٹنگ آفیسر/ ایئرپورٹ منیجر نے اپنی سفارشات کراچی میں سی اے اے ہیڈکوارٹر میں اعلیٰ حکام کو بھجوائی ہیں۔ یاد رہے کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی لاہور نے نے یکم مئی کو ملک میں آنے والے مسافروں کے لیے نئے پروٹوکولز جاری کیے تھے جس میں تمام بین الاقوامی ایئر لائنز کو ہدایت کی گئی تھی کہ تمام مسافروں اور عملے کے ایس او پیز پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا تھا کہ تمام مسافروں کو آمد پر آر اے ٹی کروانا ہوگا جس پر عملدرآمد نہ ہونے کا نتیجہ سخت سزا کی صورت میں نکلے گا۔
اب علامہ اقبال انٹر نیشنل ائیر پورٹ پر سول ایوی ایشن اتھارٹی کے چیف آپریٹنگ آفیسر اختر مرزا نے کراچی ہیڈ آفس کو ارسال کردہ مراسلے میں کہا ہے کہ ملک ریاض، ان کی اہلیہ بینا اور ان کے ساتھ ایک اور مسافر نے دبئی سے لاہور پہنچنے پر دو مرتبہ کووِڈ ٹیسٹ کروانے سے یکسر انکار کیا، ایک مرتبہ ایئر پورٹ پر اور دوسری مرتبہ جب ایک ٹیم ان کی بحریہ ٹائون کی رہائش گاہ پر بھیجی گئی۔ سرکاری مراسلے میں کہا گیا کہ ’16 مئی کو بحریہ ٹاؤن کے سی ای او دیگر 4 مسافروں کے ہمراہ ایک چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعے دبئی سے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اسٹینڈ نمبر 2 پر اترے تھے۔ مراسلے کے مطابق ‘امیگریشن کی کارروائیوں کے بعد ڈیوٹی پر موجود سی اے اے کے عملے نے ان سے کووڈ ٹیسٹ کروانے کی درخواست کی لیکن انہوں نے ایسا۔کرنے سے صاف انکار کر دیا اور باہر کی جانب چل دیے۔
بعدازاں سی اے اے عملے نے انہیں دوبارہ حکومتی ہدایات کے بارے میں بتایا لیکن ‘بحریہ ٹاؤن کے سی ای او، ان کی اہلیہ بینا اور انکے ساتھی مسافر محمود قریشی بغیر ٹیسٹ کروائے ہی ایئرپورٹ سے باہر نکل گئے’۔ تاہم ملک ریاض کے ساتھ آنے والے دیگر مسافروں نے ٹیسٹ کروایا جس کا نتیجہ منفی آیا۔
ایئرپورٹ منیجر کے مطابق بعد میں لاہور ایئرپورٹ کے طبی عملے کی ایک ٹیم ان کی رہائش گاہ پر بھجوائی گئی لیکن انہوں نے کووڈ ٹیسٹ کے لیے نمونے دینے سے صاف انکار کردیا اور عملے کو جھاڑا بھی۔دوسری جانب کنٹونمنٹ ڈویژن کے ایس پی آپریشن سید علی نے کہا کہ پولیس کو مذکورہ بالا مسافروں کے خلاف ابھی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی اور اگر لاہور ایئر پورٹ کے عملے نے کوئی باقاعدہ شکایت رجسٹر کروائی تو ملک ریاض کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔ لیکن جیسا کہ سب سب جانتے ہیں کہ اس ملک میں قانون طاقتور کی باندی ہے لہذا ملک ریاض کے خلاف کسی بھی قسم کی قانونی کاروائی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button