کیا پاکستان پڑھے لکھے ہنر مندوں سے خالی ہو جاۓ گا؟

اس وقت پاکستان میں ہر کوئی اسی کوشش میں نظر آتا ہے کہ اسے کسی نہ کسی طرح کسی مغربی ملک کی امیگریشن مل جائے۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی اونچی اڑان، روز افزوں افراطِ زر اور ملک کو درپیش معاشی و سیاسی عدم استحکام نے نہ صرف اچھے روزگار کا حصول مشکل بنا دیا ہے بلکہ جس اچھے طرزِ زندگی کے لئے پڑھے لکھے افراد پاکستان میں رہنے کو ترجیح دیتے تھے، ان عوامل کے باعث اب وہ بھی تذبذب کا شکار نظر آتے ہیں . امیگریشن بیورو کے ایک تجزئیے میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران پاکستان کے تین لاکھ 95ہزار سے زیادہ افراد نے روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک رُخ کیا گزشتہ برس بھی تقریباً آٹھ لاکھ افراد نے بہتر روزگار کی تلاش میں بیرونِ ملک کا رُخ کیا تھا لیکن اوورسیز پاکستانیوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود گزشتہ مالی سال کے دوران ترسیلاتِ زر میں 13.6فیصد کمی واقع ہوئی۔ پاکستان سے زیادہ تر دو قسم کے افراد بیرونی ممالک کا رُخ کرتے ہیں، ایک وہ جو بہت زیادہ مجبوری میں باہر جاتے ہیں،دوسرے وہ جو اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنے ہنر میں ماہر ہوتے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں پاکستان میں اپنا اچھا مستقبل نظر نہیں آتا۔ آج سے پانچ چھ سال پہلے تک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور صاحبِ حیثیت لوگ یہ حساب کتاب ضرور لگاتے تھے کہ پاکستان میں رہ کر بے شک وہ تھوڑا کم کمائیں گے لیکن یہاں خرچے بھی کم ہیں اور وہ یہاں رہ کر اپنے گھر والوں کیساتھ زیادہ وقت گزار سکتے ہیں۔ مزید یہ کہ یہاں انہیں ڈرائیور، نوکر، باورچی اور مالی وغیرہ بھی با آسانی اور کم اجرت پر میسر ہوتے ہیں لیکن بیرونی ممالک میں ان افراد کی خدمات بہت مہنگی پڑتی ہیں۔ یوں بیرونی ممالک کے فائدوں اور نقصانات کا پاکستان کے ساتھ موازنہ کرکے کچھ یہاں رہنے کا فیصلہ کر لیتے تھے۔ پاکستان میں رہ کر وہ اتنا کما لیتے تھے کہ یہاں ایک متمول زندگی بسر کر سکیں۔ آمدنی اچھی ہونے کی وجہ سے یہ سال میں کسی بیرونی ملک کا ایک آدھ چکر بھی لگا لیتے تھے جس کے ویزے کے حصول میں انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔ پھر ایک اور زیادتی جو پاکستان میں تنخواہ دار طبقے کے ساتھ ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ سارا ٹیکس انہی سے وصول کیا جاتا ہے۔ شہباز رانا کی طرف سے فائل کی گئی ایک خبر کے مطابق پاکستان کا تنخواہ دار طبقہ برآمد کنندگان اور ریٹیلرز سے دو سو گنا زیادہ ٹیکس دیتا ہے، جو کہ حیران کن بھی ہے اور پریشان کن بھی۔ اس بھاری ٹیکس کے عوض اگر انہیں صحت، تعلیم اور سیکورٹی کی اچھی سہولتیں میسر ہوتیں تو بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن جن بنیادی سہولتوں کیلئے عوام سے ٹیکس اکٹھا کیا جاتا ہے ان کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں۔ پچھلے دنوں ایک مغربی ملک کی طرف سے ایک اچھے بھلے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اپنے شعبے میں ماہر پاکستانی کے ویزہ کی منسوخی کا لیٹر سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ جس کی وجہ یہ امر قرار دیا گیا کہ پاکستان میں روز افزوں غربت اور مہنگائی، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور معاشی و سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ہمیں یہ یقین نہیں کہ آپ واپس پاکستان جائیں گے۔ بیرونی ممالک کے ویزے کے حصول کیلئے جتنے پاپڑ اب بیلنا پڑتے ہیں پہلے نہیں بیلنا پڑتے تھے۔ شاید انہی وجوہ کی بنا پر پاکستان میں کسی کو ویزہ ملنا ایک بڑی کامیابی تصور کی جاتی ہے اور ویزہ نہ ملنا ناکامی اور باعثِ شرمندگی تصور ہوتا ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد کیلئے میسر مواقع میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔ آج کل وہی لوگ کامیاب تصور کئےجاتے ہیں جنہوں نے پاکستان سے باہر اپنا کاروبار جما رکھا ہے یا جو ڈالرز میں کماتے ہیں۔ پاکستان میں لیکن جب کوئی شخص کوئی کاروبار شروع کرنے لگتا ہے تو سارا نظام اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس وہ افراد جو مضبوط خاندانی پس منظر یا افسر شاہی سے مضبوط تعلقات رکھتے ہیں، وہ کامیاب ہو جاتے ہیں۔ پھر یہاں کوئی صنعت لگانا یا کوئی بھی اور کاروبار کرنا بہت مشکل ہے لیکن کوئی رہائشی اسکیم بنا کر بیچنا اتنا ہی آسان ہے۔ امریکی مائیگریشن انسٹیٹیوٹ کے مطابق، پاکستان کے وہ ہنرمند افراد، جو امریکہ کا رُخ کرتے ہیں، کی مقامی افراد کے مقابلے میں کمائی بھی دگنی کے قریب ہے اور امریکی معیشت میں ان کا حصہ بھی قابلِ قدر ہے۔

کینیڈا میں بہت سے بھارتی ہنرمند افراد یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ان کے لئے اب بھارت واپس جانے میں زیادہ فائدہ ہے، کیونکہ بھارت کی معیشت بھی مضبوط ہو رہی ہے اور بھارت میں رہ کر وہ کینیڈا سے زیادہ بچت کر سکتے ہیں۔ یہ ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے کہ جہاں ہمارے ہمسایہ ملک میں ان کے اعلی دماغ واپس اپنے ملک جانا چاہ رہے ہیں وہاں ہمارے ہاں ملک سے باہر جانے کے جنون میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستانی حکومت اب بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کی بات کر رہی ہے، خصوصی اکنامک زون بنانے کی بات کر رہی ہے، لیکن ملکی معیشت کی بہتری کیلئے ان اقدامات کیساتھ ساتھ برین ڈرین کا سلسلہ روکنا بھی ضروری ہے تاکہ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد پاکستان میں رہ کر ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈال سکیں

Back to top button