آرمی ایکٹ بل کی حمایت کرنے پر نیشنل پارٹی نے سینیٹر کو پارٹی سے نکال دیا

نیشنل پارٹی نے اپنے سینیٹر اشوک کمار کو سینیٹ میں پارٹی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت کرنے پر پارٹی سے بے دخل کردیا۔ اس کے ساتھ ان کی بنیادی رکنیت بھی معطل کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کے خلاف ووٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم ان کی پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار نے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سینیٹ میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔ عبدالمالک بلوچ کا مزید کہنا تھا کہ اشوک کمار نے پارٹی کی سیاسی سوچ اور فلسفے کی نفی کی۔
نیشنل پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ الیکشن کمیشن پاکستان کو ریفرنس ارسال کرکے پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی کرنے پر ڈاکٹر اشوک کمار کا بحیثیت سینیٹر انتخاب ڈی نوٹیفائی کرنے کی درخواست کرے گی۔
خیال رہے کہ 7 جنوری کو قومی اسمبلی میں پاکستان آرمی، نیوی اور ایئرفورس ایکٹ ترامیمی بلز 2020 کی منظوری کے بعد انہیں سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں گئے تھے، جہاں اس کی منظوری دی گئی تھی۔بعد ازاں گزشتہ روز ہوئے اجلاس میں سینیٹر ولید اقبال نے قائمہ کمیٹی دفاع کی تینوں ترامیمی بلز سے متعلق رپورٹ پیش کیں۔
ایوان میں ان ترامیمی بلز کو پیش کرنے کے وقت نیشنل پارٹی کے 4 سینیٹرز نے مخالفت کی جب کہ ایک سینیٹر ڈاکٹر اشوک کمار نے بل کی حمایت کی تھی۔ اس کے علاوہ جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) نے احتجاج کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کرگئے تھے۔
