آرمی چیف نے پورا سچ بول دیا توعمران منہ نہیں دکھا پائے گا


معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ عمران خان کی دیکھا دیکھی اب ان کی خوشنودی کی خاطر انکے ہمنوا اسد عمر نے بھی جھوٹ بولنا شروع کر دیا ہے جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ تحریک انصاف جھوٹوں کی جماعت ہے۔ صافی نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ اب بھی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے اگر پورا سچ سامنے رکھ دیا تو عمران خان کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ لہذا بہتر ہے کہ وہ اپنی حد میں رہیں اور جھوٹے دعووں سے ملک کا نقصان کرنے سے باز آ جائیں۔

روزنامہ جنگ کے لئے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے ایک اہم کردار جنرل عمر کے بیٹے اسد عمر نے اب اپنے کپتان کی تقلید کرتے ہوئے یہ جھوٹ داغ دیا ہے کہ ایک موجودہ باوردی افسر نے بھی امریکی سازش کے موقف کی تائید کی تھی۔ لیکن صافی کے بقول اس باوردی افسر سے میں نے خود بات کی۔ وہ ایک پروفیشنل ،کم گو اور محب وطن انسان ہیں۔ ان کی ساکھ اسد عمر سے ہزار گنا زیادہ ہے اور میری معلومات کے مطابق اسد عمر اس فوجی افسر کے بارے میں آدھا سچ بول کر اور بات کو غلط رنگ دے کر فساد پھیلانے کو کوشش کر رہے ہیں۔

 اپنی حکومت گرنے کی وجہ امریکی سازش کو قرار دینے والے عمران خان کو چیلنج کرتے ہوئے سلیم صافی کہتے ہیں کہ عمران خان کی اپنی وزارت عظمی کے دوران بھی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کا جو 37واں اجلاس ہوا تھا اس میں بھی خط کے حوالے سے کسی سازش کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ اس میٹنگ کے دوران نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر معید یوسف نے سیکورٹی کمیٹی کو ایک سابق پاکستانی سفیر اسد مجید خان کے خط کے حوالے سے بریف کیا تھا، جو انہوں نے دفتر خارجہ کو بھیجا تھا اور اس میں انکی ایک سینیئر امریکی عہدیدار ڈونلڈ لو کے ساتھ ملاقات کی روداد لکھی گئی تھی۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ اگر اس خط میں کسی جگہ سازش یا پھر حکومت بدلنے یا عدم اعتماد وغیرہ کا ذکر ہو تو عمران یا ان کے ترجمان دکھادیں۔ آج عمران اور ان کے ساتھی اسد عمر اس کمیٹی کے اجلاس سے متعلق جو جھوٹے دعوے کر رہے ہیں تو وہ اس پریس ریلیز کا حصہ نہیں ہیں جو نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کے بعد عمران حکومت نے خود جاری کی تھی۔ اس پریس ریلیز میں سازش میں "ریجیم چینج” کے الفاظ کیوں نہیں جن کا آج ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے اور لوگوں کو ماموں بنانے کی کوشش کی جارہی ہے؟۔

سلیم صافی کہتے ہیں کہ اس اجلاس کے حوالے سے عمران خان نے پوری چالاکی سے کام لیا۔ مثلاً نیشنل سیکورٹی کے ممبران میں نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر کے علاوہ وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیر خزانہ اور وزیر اطلاعات ممبر ہوتے ہیں لیکن اس روز عمران نے اجلاس میں اپنے ہمنوائوں اور من پسند وزیروں کو بھی بلایا جبکہ اصل متعلقہ وزیر یعنی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی موجود نہیں تھے۔ اس اجلاس میں عمران اور ان کےساتھیوں نے پورا زور لگایا کہ سروسز چیفس کو سازش کے مفروضے پر ہمنوا بنا سکیں لیکن ظاہر ہے کہ نہ صرف ڈی جی آئی ایس آئی حقائق کا انبار لائے تھے بلکہ ان کے ساتھ واشنگٹن کے سفارتخانے میں موجود ڈیفنس اٹیچی کا ان پٹ بھی موجود تھا اور ان سب کو ریجیم چینج کا مفروضہ غلط لگ رہا تھا۔ اس لئے کوئی بھی اس جھوٹے بیانئے کو ماننے کو تیار نہ ہوا۔ میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ اس کے منٹس تمام شرکا کو تقسیم کئے جائیں گے تاکہ ان کے دستخط لئے جاسکیں، یہ معمول کی کارروائی ہوتی ہے لیکن عمران نے منٹس شرکا کو نہیں بھجوائے اور اپنے چہیتوں اور مشیروں کے ساتھ بیٹھ کر مرضی کی ایک پریس ریلیز جاری کی لیکن چونکہ میٹنگ میں سازش اور ریجیم چینج کے مفروضے کو سروسز چیفس اور ڈی جی آئی ایس آئی نے غلط قرار دیا تھا، اس لئے پریس ریلیز میں بھی سازش کا ذکر نہ کرسکے۔ اب جبکہ کبھی عمران خان، کبھی شیخ رشید اور کبھی اسد عمر وغیرہ اپنے جھوٹ کے بیانئے پر سروسز چیفس کو گواہ بنائیں گے تو ان سب کا ترجمان یعنی ڈی جی آئی ایس پی آر وضاحت تو کرے گا؟۔ حقیقت یہ ہے کہ اب بھی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے اگر پورا سچ سامنے رکھ دیا تو عمران کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔ پہلی بات تو یہ کہ مداخلت اور سازش میں فرق ہے ۔ مداخلت وہ ہوتی ہے جو سامنے نظر آجائے اور سازش درپردہ ہوتی ہے۔

سلیم صافی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بعض اوقات کسی دوسرے ملک کے کسی عہدیدار کے پاکستان بارے ریمارکس کو بھی مداخلت سمجھا جاتا ہے۔ چند روز قبل افغانستان کے طالبان کی حکومت نے پاکستانی سفیر کو طلب کیا اور پاکستانی طیاروں کی ٹی ٹی پی کے خلاف بمباری کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دے کر احتجاج کیا لیکن اس کا یہ مطلب نہ طالبان نے لیا اور نہ ایسا ہوسکتا ہے کہ پاکستان طالبان کی حکومت کو تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ جب پہلی مرتبہ آصف زرداری روس جارہے تھے تو امریکہ اتنا ناراض تھا کہ ہیلری کلنٹن نے خود فون کرکے زرداری سے کہا کہ اگر وہ روس گئے تو پھر دونوں حکومتوں کا ساتھ چلنا مشکل ہوجائے گا لیکن کیا اس کا مطلب یہ تھا کہ امریکہ نے اس کے بعد زرداری حکومت کو گرا دیا؟ ایٹمی دھماکوں سے قبل امریکہ نے نواز شریف کو لالچ بھی دی اور دھماکوں کرنے کی صورت میں بدترین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں لیکن کیا اس کے بعد انہوں نے نواز شریف کو حکومت سے نکالا؟۔دوسری بات یہ کہ امریکہ جیسے ممالک بیانات کو نہیں دیکھتے بلکہ جو ان کے مفادات کے خلاف کرے تب اس کے خلاف سازش کرتے ہیں ۔ اب عمران نے جتنی خدمت امریکہ کی کی ہے کسی حکومت نے نہیں کی انہوں نے تو چین کے ساتھ تعلقات خراب کرکے سی پیک کے منصوبوں کی تفصیلات آئی ایم ایف کے ذریعے امریکہ سے شئیر کیں۔ امریکی بے وقوف نہیں کہ وہ ایسی حکومت کو گراتے جس کو لانے کیلئے انہوں نے گولڈ سمتھ وغیرہ کے ذریعے 20 سالہ سرمایہ کاری کی تھی ۔ امریکہ نے حکومت بدلنے کی سازش کرنی ہوتی ہے تو وہ پہلے سے سفیر کو بلا کر اطلاع نہیں دیتا۔ نارتھ کوریا کی حکومت بدلنا چاہتا ہے تو اس کے سفیر کو نہیں بتاتا۔ وہ ایران کی حکومت کو بدلنا چاہ رہا تھا تو سفیر کو بلا کر اطلاع نہیں دے رہا تھا۔ بقول صافی، افسوس ناک امر یہ ہے کہ عمران کی دیکھا دیکھی اب ان کی خوشنودی کے لئے ان کے ہمنوائوں نے بھی جھوٹ بولنا شروع کر دیا ہے اور یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف جھوٹوں کی جماعت ہے۔

Back to top button