آرمی چیف کو خط لکھنے پر جنونی گورنر کے محاسبے کا مطالبہ

عمرانڈو بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اپنے کپتان کی خوشنودی کے لیے آئین اور قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اس حد تک آگے نکل گئے ہیں کہ اب موصوف نے آرمی چیف کو خط لکھ کر یہ مطالبہ کردیا ہے کہ پنجاب میں حمزہ حکومت کو ختم کرنے کے لیے ان کا ساتھ دیا جائے۔ دوسری جانب قانونی حلقوں نے آرمی چیف سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واحیات خط کا نوٹس لیا جائے اور فوج سے غیر آئینی مطالبہ کرنے اور اسے سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کرنے والے گورنر کا سخت محاسبہ کیا جائے۔
یاد رہے کہ عمرانڈو بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے کپتان کے ذاتی وفادار گورنر پنجاب عمر چیمہ نے ایک خط میں آرمی چیف سے پنجاب میں آئینی فریم ورک پر عمل درآمد کروانے اور عوام کا وفاق اور صوبائی حکومتوں پر اعتماد بحال کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔ موصوف نے لکھا کہ پنجاب میں سیاسی صورت حال پر عوام میں ابھی تک بے چینی پائی جاتی ہے۔ یہاں ایک طرف عدالتی احکامات پر حمزہ شہباز سے وزارت اعلیٰ کا حلف لیا گیا جس کے بعد سے صوبے میں حکومت کی تبدیلی پر ردعمل بڑھتا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ گورنر نے پہلے تو نومنتخب وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز سے حلف لینے سے انکار کیا اور اب وہ نئی حکومت کے قیام کو غیرآئینی قرار دے رہے ہیں۔ موصوف نے آرمی چیف کے علاوہ وزیر اعظم شہباز شریف کو بھی ایک خط لکھ مارا ہے جس میں پنجاب میں حمزہ کی غیر آئینی حکومت کو ختم کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کامطالبہ کیا گیا ہے۔ گورنر نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ جمعہ کو آرمی چیف سے ملاقات کر کے ساری صورت حال سے آگاہ کریں گے۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ آرمی چیف سے سیاست میں ملوث ہونے کا غیر آئینی مطالبہ کیسے کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ اپنے کپتان کی خوشنودی کی خاطر گورنر پنجاب نے صدر عارف علوی کیساتھ مل کر حمزہ شہباز کے حلف کو تقریباً ایک ماہ تک روکے رکھا اور عدالتی حکام کو بھی نظرانداز کرتے رہے جس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کو حمزہ سے حلف لینے کا حکم دیا۔ گورنر پنجاب کا ذہنی توازن اس حد تک بگڑ چکا ہے کہ انہوں نے حمزہ شہباز کو حلف دلوانے کا حکم جاری کرنے والے لاہور ہائیکورٹ کے جج کے خلاف بھی نااہلی کا ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ آرمی چیف کو لکھے گئے اپنے خط میں عمر چیمہ نے پوچھا ہے کہ پنجاب میں ایک ’غیر آئینی‘ شخص نے آ کر کس قانون کے تحت حمزہ شہباز سے حلف لیا ہے؟ انہوں نے پریس کانفرنس میں سوال کیا کہ ’کوئی قانون دان بتائے کہ سپیکر قومی اسمبلی کس طرح وزیر اعلیٰ سے حلف لے سکتا ہے۔ تاہم شاید موصوف بھول گئے کہ سپیکر کو وزیر اعلیٰ سے حلف لینے کا حکم لاہور ہائی کورٹ نے دیا تھا۔
عمر چیمہ نے دعوی ٰکیا کہ میں اپنے آئینی اختیارات استعمال کر رہا ہوں اور سمجھتا ہوں کہ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا استعفیٰ درست نہیں تھا اس لیے اسے مسترد کر دیا اور وہ بحال ہوگئے۔ بظاہر اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھنے والے گورنر پنجاب نے یہ بھی بتایا کہ میں نے سید یوسف رضا گیلانی سمیت کئی لوگوں کو عید کے تحفے کے طور پر آئین کی کتاب بھجوائی ہے تاکہ وہ اسے پڑھیں۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ بہتر ہوتا کہ عمر چیمہ پہلے خود آئین پاکستان کا مطالعہ کر لیتے۔
یاد رہے کہ گورنر پنجاب کی انکی غیر آئینی حرکتوں کے بعد وزیراعظم شہباز شریف صدر عارف علوی کو گورنر کو ہٹانے کی سمری بھیج چکے ہیں جس پر ابھی تک عمل نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب اپنے ایک بچگانہ خط میں عمر چیمہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو لکھا ہے کہ آپ نے اپنے اختیارات کا غیر آئینی استعمال کرتے ہوئے ملک میں ایک سیاسی بحران پیدا کر دیا ہے۔ حمزہ شہباز نے آپ کا بیٹا ہونے کا ناجائز فائدہ اٹھایا، لیکن مجھے کوئی طاقت غیر قانونی اقدامات روکنے سے روک نہیں سکتی۔
خط کے متن کے مطابق گورنر پنجاب کا کہنا ہے کہ غیر آئینی اور غیر قانونی جعلساز وزیر اعلیٰ نے پنجاب کو یرغمال بنایا ہوا ہے، اورمیں نے اس صورت حال سے وزیر اعظم پاکستان اور دیگر آئینی اداروں کے سربراہان کو مطلع کر دیا ہے۔
عمر سرفراز چیمہ نے وزیر اعظم کے نام خط میں لکھا کہ آپ صوبے میں سیاسی اور قانونی تعطل سے آگاہ ہیں، اس حوالے سے کچھ اہم وجوہات سے آپ کو آگاہ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں، انہوں نے یہ بچگانہ موقف اختیار کیا کہ عثمان بزدار کا بطور وزیراعلیٰ استعفیٰ متنازع ہے، مسلم لیگ (ن) نے پنجاب اسمبلی میں اکثریت کے لیے ڈی فیکٹو ممبران کی مکروہ حمایت حاصل کی، وزیراعلیٰ کے متنازع الیکشن کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا، اس تمام غیر آئینی عمل کا مرکزی کردار حمزہ ہے، جس نے وزیراعظم کا بیٹا ہونے کا فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ حمزہ کے متنازع الیکشن کی رپورٹ مجھے پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ نے بھجوائی ہے۔ رپورٹ میں سیکرٹری اسمبلی نے فراڈ الیکشن بارے قانونی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا، میڈیا نے بھی متنازع الیکشن دنیا کو دکھایا، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بھی وزیر اعلیٰ کے الیکشن کو غیر قانونی قرار دیا، ایڈووکیٹ جنرل نے ڈپٹی سپیکر کے نتیجے میں بھی قانونی خامیوں کی نشاندہی کی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ جو بھونڈی حرکتیں کر رہے ہیں اس سے نہ صرف ان کا بلکہ عمران خان کا بھی مذاق بن رہا ہے اور وہ واضح آئین شکنی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری حکومت میں گورنر آرمی چیف کو سیاسی مداخلت کی دعوت نہیں دے سکتا۔ تاہم سیاسی طور پر خطوط لکھے جاتے ہیں جن کی اتنی اہمیت نہیں ہوتی۔ ناقدین کے مطابق گورنر پنجاب جو کر رہے ہیں اس سے حمزہ شہباز کو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن وہ جلد تبدیل ضرور ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جس پارٹی کی وفاق میں حکومت ہو وہی صوبوں میں گورنر تعینات کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔ موجودہ وفاقی حکومت بھی عمر چیمہ کو تبدیل کرنے پر عمل شروع کر چکی ہے۔
واضح رہے کہ حمزہ شہباز کے حلف کی تقریب گورنر ہاؤس لاہور میں ہوئی جہاں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ان سے حلف لیا۔
گورنر پنجاب نے اس وقت بھی اس عمل کو غیر آئینی قرار دے کر گورنر ہاؤس میں عملے کو یرغمال بنانے کا الزام عائد کیا تھا لیکن پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر نے حمزہ شہباز کی حلف برداری کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔
