فوج میں اب بھی کون سے لوگ عمران کے حمایتی ہیں؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان وقت سے پہلے نیا الیکشن کروانے کا مطالبہ منوانے میں کامیاب ہو گئے تو وہ جیت کی صورت میں ایک فسطائی آمر بن جائیں گے جو تمام جمہوری اصولوں، آئین اور قوانین کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دے گا۔ لیکن اگر وہ ہار جاتے ہیں تو الیکشن نتائج کو اسی طرح چیلنج کریں گے جس طرح وہ آج موجودہ نظام کو غیر مستحکم کرنے اور اسے غیر قانونی قرار دینے کے لیے کررہے ہیں۔ لہٰذا جب تک عمران خان کے امپورٹڈ حکومت کے بیانیے کا موثر توڑ نہیں ڈھونڈا جاتا اور اس جن کو دوبارہ بوتل میں ڈالنے کا راستہ تلاش نہیں کیا جاتا تب تک پاکستان میں سیاسی استحکام کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔
نجم سیٹھی کے بقول، مسجد نبوی میں ہونے والے افسوس ناک واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران اپنے امپورٹڈ اور چور حکومت کے بیانیے کو کس حد تک بڑھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ یعنی ریاست مدینہ بنانے کے دعوے دار نے اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے مسجد نبوی کو بھی نہیں بخشا۔ بیرون ملک رہنے والے عمران کے قریبی ساتھیوں اور شیخ رشید کی سربراہی میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے اس واقعے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کے ثبوت سامنے آچکے ہیں۔ عمران خان کی ان تمام تر کوششوں کا بنیادی مقصد نئے انتخابات کا فوری انعقاد ہے۔ لیکن بقول سیٹھی، یہ ستم ظریفی ہے کہ صرف ایک ماہ قبل عمران خان اس بات پر اصرار کر رہے تھے کہ ان کی حکومت کو ”جمہوریت“ کے وسیع تر مفاد میں اپنی مدت پوری کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے جبکہ پی ڈی ایم کی قیادت اس کے بالکل برعکس اصرار کر رہی تھی۔ تحریک انصاف اپنے لیے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کو یقینی بنانے کی فکر میں تھی تا کہ جب بھی الیکشن ہوں، اسکو فراہم کیے گے اتحادی اور الیکٹ ایبلز اس کے ساتھ ہی رہیں۔ تاہم ایسا نہ ہو پایا اور عمران حکومت سے آؤٹ ہو گئے۔
لیکن بقول نجم سیٹھی عمران کے اقتدار سے باہر ہونے کے باوجود اب بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ درمیانے درجے کے اکثریتی فوجی افسران ان کے پرستار ہیں اور سب کچھ ہونے اور دیکھنے کے باوجود ان کو ہیرو تسلیم کرتے ہیں۔ نومبر میں آرمی چیف اور فوجی قیادت کی تبدیلی یا تو اس رومانس کو مزید تقویت دے سکتی ہے یا اسے تبدیل کر سکتی ہے جس کے سنگین مضمرات ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف جلد از جلد الیکشن کے ذریعے دوبارہ اقتدار میں آنے کا موقع چاہتی ہے جب کہ پی ڈی ایم حکومت کو لمبا چلانا چاہتی ہے۔
اپنے تازہ تجزیے میں نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ نئی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے اعتراف کیا ہے کہ یہ حکومت اگلے سال کے آخر میں ہونے والے عام انتخابات تک اپنی مدت پوری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس سے دونوں شریف برادران کے درمیان معاملہ طے سمجھاجانا چاہیے۔
نواز شریف دو وجوہات کی بنا پر فوری انتخابات چاہتے تھے: پہلی، انتخابی نتائج مسلم لیگ نون کی حمایت میں اور تحریک انصاف کی مخالفت میں آنے کا امکان تھا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں ن لیگ کام کرنے کا، جب کہ پی ٹی آئی بدانتظامی کا مایوس کن ریکارڈ رکھتی ہے۔ اسکے علاوہ تحریک انصاف نے اسی بادشاہ گر سے بگاڑ لی جو اسے اقتدار میں لایا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ وسط مدت میں معاشی بحران کے گہرا ہونے کی پیش گوئی تھی۔ اس وجہ سے نئی حکومت عوام سے دور جب کہ تحریک انصاف دوبارہ اپنی سانسیں بحال کرنے کے قابل ہوسکتی تھی۔
لیکن نجم سیٹھی کے بقول، شہباز شریف اور آصف زرداری کی اپنی ایک سوچ تھی۔ ان کا خیال تھا کہ وہ بحال شدہ پاور پلیٹ فارم استعمال کر کے الیکٹ ایبلز کی مدد سے رائے دہندگان تک اپنی رسائی بڑھا سکتے ہیں۔ اس طرح تحریک انصاف کی نشستوں کی تعداد کم کی جا سکتی ہے۔ ان کی یہ دلیل بھی غالب آ چکی ہے کہ اگلے الیکشن جیتنے کے لیے موجودہ حکومت کو طول دینا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے شہباز شریف حکومت ابھی تک اپنی حکمت عملی طے کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارتی دکھائی دیتی ہے۔ اس نے ابھی تک یہ فیصلہ نہیں کیا کہ عمران خان کے ”چور، امپورٹڈ گورنمنٹ“ کے مقبول بیانیے سے کیسے نمٹا جائے؟ یہ بیانیہ شہری علاقوں کے درمیانی طبقے میں مقبول ہے۔ کیااس کے مقابلے پر کسی طاقت ور بیانیے کو سامنے لا کر عمران خان کے بیانیے کا اثر زائل کیا جائے یا اس میں موجود خامیوں کی بھرپور تشہیر کی جائے؟
نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ مسجد نبوی میں ہونے والےحالیہ واقعے سے پی ٹی آئی کے خلاف بننے والی فضا وقتی ہے، عمران اور ان کے ساتھیوں کے خلاف غداری کے مقدمات درج کرنے کی باتیں بھی ہوا میں کی جارہی ہیں اور کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جا رہا۔ اس دوران یہ فیصلہ بھی کرنا ہو گا کہ عمران خان کو شہباز شریف حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے دھرنوں اور مظاہروں کی کھلی چھٹی ملنی چاہیئے یا انہیں روکنے کے لئے اقدامات کیے جانے چاہئیں؟ بقول سیٹھی، سوال یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی کی میڈیا مہم کا مقابلہ کیسے کیا جائے جو شہباز حکومت کے خلاف زوردار طریقے سے مورچہ زن ہے؟ ایسے میں حکومت کو ایک موثر جوابی بیانیہ تیار کرنا چاہیے جو ان لوگوں کو اپنے ساتھ جوڑ سکے جو عمران کے بیانیے کو ناپسند کرتے ہیں؟ اس کے علاوہ قلیل مدتی معاشی حل پر بھی توجہ دینی چاہیے تا کہ عمران عوام کی مشکلات کا سیاسی فائدہ نہ اٹھا پائیں؟ نجم کہتے ہیں کہ اگر نئی حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام کے سامنے مکمل طور پر جھک گئی تو لوگوں کے مسائل دوچند ہوجائیں گے اور بے چینی پھیل جائے گی؟ اس لیے عوام کو معاشی ریلیف دے کر اپنے ساتھ ملانا ضروری ہے۔ اسکے علاوہ اسے اپنے اتحادی شراکت داروں کو بھی اس طرح اپنے ساتھ ملا کر رکھنا ہے کہ اقتدار کی کشتی نہ الٹ پائے۔ سیٹھی کہتے ہیں کہ دوسری جانب عمران خان کے پاس آگے بڑھنے کی حکمت عملی قطعی اور طے شدہ ہے۔ وہ حکومت کو قبل از وقت الیکشن پر مجبور کرنا چاہتے ہیں کیونکہ اس صورت میں انکے اقتدار میں واپسی کے امکانات تین عوامل کی وجہ سے بہت زیادہ لگتے ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ عمران نے ادارے کی ”غیر جانب داری“ کو کامیابی سے ہدف تنقید بناتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کو پچھلے قدموں پر جانے پر مجبور کردیا ہے اور یہ تنقید اسٹیبلشمنٹ کی اپنی نچلی اور درمیانی صفوں سے آئی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی غیر جانب داری بنیادی طور پر عمران خان کے گھر جانے کا باعث بنی۔ درمیانی طبقے سے تعلق رکھنے والے کاروباری افراد، سرکاری افسران اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خاندان، جن میں حاضر سروس بھی ہیں اور ریٹائر بھی، عمران خان کے ساتھ اور مورثی سیاسی خاندانوں کے خلاف ہیں۔ باپ بیٹے کی حکمران جوڑی تو انہیں ایسے مشتعل کرتی ہے جیسے بیل کو سرخ کپڑا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب نئی حکومت سنگین انتظامی یا مالی پریشانی کا شکار ہو گی تو اسے بھی اسٹیبلشمنٹ سے کسی مثبت حمایت کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عمران خان نے عدلیہ اور الیکشن کمیشن کا محاصرہ کر رکھا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اس کے مفادات کے خلاف کوئی فوری فیصلہ نہ لے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ عمران خان نئی حکومت کی توجہ معیشت کو مستحکم کرنے سے ہٹانے کے لیے احتجاج کا راستہ اپنائے ہوئے ہیں۔ ان کے حامی شہری نوجوان پر جوش ہیں اور دھرنوں اور لانگ مارچ کے لیے تیار ہیں۔ ایسے میں اگر شہباز کی ایک بھی اتحادی جماعت علیحدہ ہوتی ہے تو ان کی حکومت دھڑام سے نیچے آن گرے گی اور نئے الیکشن کا راستہ بحال ہو جائے گا۔ لہٰذا شہباز شریف کو اپنا ہر اگلا قدم پھونک پھونک کر رکھنا ہو گا۔
