آزاد کشمیر حکومت بھی تحریک انصاف کے ہاتھوں سے سرکنے لگی

آزاد کشمیر کی حکومت بھی تحریک انصاف کے ہاتھوں سے جاتی نظر آتی ہے کیونکہ آزاد کشمیر میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار پی ٹی آئی پر کاری ضرب اس وقت لگی جب صدر ریاست آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود نے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کیخلاف بغاوت کرتے ہوئے فارورڈ بلاک کے قیام کا اعلان کر دیا۔

ذرائع کے مطابق اب آزاد کشمیر کی وزارت عظمی کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے امیدوار کا مقابلہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور فارورڈ بلاک کے متفقہ امیدوار سے ہو گا تاہم دوسری طرف مسلم لیگ ن آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر کا کہنا ہے کہ پاور شیرنگ فارمولے کے تحت ہمارا اتحاد پیپلز پارٹی کے ساتھ تھا. اگر وزیر اعظم کا امیدوار پیپلز پارٹی سے ہوتا تو ہم اسے ووٹ دینے کے پابند تھے لیکن پیپلز پارٹی نے فارورڈ بلاک سے معاملات طے کرتے وقت ن لیگ کو اعتماد میں نہیں لیا اور نہ ہی ہی فارورڈ بلاک نے ن لیگ سے رابطہ کیا ہے اگر صورتحال جوں کی توں رہی تو ن لیگ 7 ووٹ کے ساتھ اپنا فیصلہ کرنے میں آزاد ہوگی۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کا رد عمل سامنے آنے کے بعد فارورڈ بلاک کی طرف بیرسٹر سلطان محمود نے ن لیگ کے ساتھ مذاکرات شروع کر دیئے ہیں تاکہ انہیں فارورڈ بلاک کے امیدوار چودھری رشید کی حمایت پر آمادہ کیا جا سکے۔ ۔

خیال رہے کہ سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کی ہائی کورٹ سے نااہلی کے بعد وزارت عظمی کے انتخاب کے حوالے سے لمحہ بہ لمحہ صورتحال تبدیل ہوتی رہی جس کا اب ڈراپ سین ہو گیا ہے۔تحریک انصاف میں پڑنے والی پھوٹ اور دھڑے بندی وزیر اعظم آزاد کشمیر کے انتخاب میں مسلسل رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ جس کےباعث ایوان میں بظاہر 32ارکان کی اکثریت رکھنے والی جماعت پی ٹی آئی قائد ایوان کے لیے درکار 27 ارکان پورے کرنے سے قاصر ہے، جس کی وجہ سے اتوار کو قانون ساز اسمبلی کا اجلاس ایک بار پھر پیر کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا تھا۔پاکستان تحریک انصاف کے اپنے نامزد کردہ صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان فارورڈ بلاک کی قیادت کر رہے ہیں اور مذاکرات کے کئی دور ہونے کے باوجود قیادت کے قابو میں نہیں آ رہے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ہدایت پر انتخابی مشن پر آزادکشمیر پہنچنے والے دو سینئر رہنما اسد قیصر اور پرویز خٹک بھی بیرسٹر سلطان کو راضی کرنے میں اب تک ناکام ہیں جس کے بعد اسد قیصر نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں ڈھکے چھپے الفاظ میں صدر آزاد کشمیر کا نام لئے بغیر فارورڈ بلاک کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ بھی اختیار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ پارٹی سے غداری کرنے والوں کا وہ حشر ہوگا جو دنیا دیکھے گی۔ذرائع کے مطابق بیرسٹر سلطان عملی طور پر اس وقت تحریک انصاف کے حریف کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ان کا اصرار ہے کہ تین مہینے کی عبوری مدت کے لئے چوہدری رشید کو وزیر اعظم آزاد کشمیر بنایا جائے جس کے بعد وہ خود اقتدار سنبھال سکیں۔

مبصرین کے مطابق اگر نمبر گیم کو دیکھا جائے تو اس وقت اپوزیشن اتحاد کے ٹوٹل 20 ووٹ ہیں ان میں پیپلزپارٹی کے 12 ، نواز لیگ کے سات اور جموں کشمیر پیپلز پارٹی کا ایک ووٹ شامل ہے۔سردار عتیق کی مسلم کانفرنس کا ایک ووٹ بھی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ تاہم اصل اور فیصلہ کن کردار بیرسٹر سلطان کی سربراہی میں متحرک مبینہ 6 رکنی فارورڈ بلاک ادا کرے گا جسے خود بیرسٹرسلطان کے دعوے کے مطابق نو رکنی قرار دیا جا رہا ہے۔ایک طرف اپوزیشن اتحاد کے 20 ووٹ ہیں تو دوسری طرف 32 ارکان کی اکثریت کی دعویدار تحریک انصاف بھی 27 ارکان کی اکثریت پوری کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔واضح رہے کہ دو روز قبل کشمیر کونسل کے الیکشن میں تحریک انصاف کے امیدوار عدنان خالد کو 27 ووٹ پڑے تھے تاہم گزشتہ روز فائیو اسٹار ہوٹل میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلایا گیا تو اس میں 24 ارکان شریک ہوئے جس سے بیرسٹرسلطان کے دعوے کی تائید ہوتی ہے کہ ان کے فارورڈ بلاک میں آٹھ سے نو ارکان شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسی طاقت کے بل بوتے پر بیرسٹرسلطان وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں اپنی جماعت اور اپوزیشن دونوں سے مذاکرات کر رہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ عبوری وزیر اعظم کے انتخاب کے بعد وہ خود اقتدار پر براجمان ہوجائیں۔تازہ پیشرفت میں فارورڈ بلاک کی جانب سےوزارت عظمیٰ کیلئے چوہدری رشید کا نام سامنے آیا ہے اور اپوزیشن اتحاد نے بھی فارورڈ بلاک کے امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد نصف درجن کے قریب پرانے امیدوار پس منظر میں چلے گئے ہیں۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اگر چودھری رشید وزیراعظم بنتا ہے تو آزاد کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار یہ وزیراعظم کسی جماعت کے بجائے دھڑے کا وزیر اعظم ہوگا۔

دوسری جانب 32 ارکان کی حمایت کے دعوے کے ساتھ قائد ایوان کیلئے درکار 27 ارکان پورے نہ کر پانے اور فارورڈ بلاک کے ہاتھوں پریشان تحریک انصاف کی قیادت دھمکیوں پر اتر آئی۔ حکومت سازی مشن پر مظفر آباد پہنچنے والے سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر کسی نے فارورڈ بلاک کے نام پر پارٹی سے غداری کی تو تحریک انصاف کی قیادت، پارٹی اور عوام اسے معاف نہیں کریں گے۔سینئر وزیر اور قائم مقام وزیر اعظم راجہ فاروق کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں اسد قیصر کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا قیادت پر مکمل اعتماد ہے۔ان کی مشاورت سے عمران خان وزیراعظم کے امیدوار کا فیصلہ کریں گے۔ہمارے پاس اکثریت ہے اور حکومت سازی ہمارا حق ہے پھر بھی اگر ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا یا ہماری پارٹی کے کسی ذمہ دار نے ایسی حرکت کی تو نہ تو اسے عمران خان اور عوام معاف کریں گے نہ ہی گھر اور خاندان میں عزت باقی رہے گی۔ ہمارے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا تو کسی بھی حد تک جائیں گے خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

Back to top button