آصف زرداری اور نواز شریف کا APC میں شرکت اور خطاب کا فیصلہ

سابق صدر آصف زرداری اورسابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کرنے اور خطاب کرنے کا فیصلہ کیا ہے. چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے آصف زرداری جبکہ مریم نواز نے سابق وزیر اعظم کی شرکت اور خطاب کی تصدیق کر دی ہے. بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری 20 ستمبرکو اے پی سی میں وڈیولنک کےذریعےشرکت کریں گے.


جہاں پیپلزپارٹی کی طرف سے حکومت کے خلاف مشترکہ جدوجہد کیلئے اپوزیشن کے اتحاد کی پیش کی جائے گی ، اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے مشترکہ جلسوں اور ریلیوں کی تجویز بھی دی جائے گی ۔


نواز شریف کی اے پی سی میں شرکت اور خطاب کے فیصلے کی تصدیق ن لیگ کی جانب سے بھی ہوگئی ہے اور اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے تصدیق کی ہے کہ نواز شریف کا خطاب سوشل میڈیا پلیٹ فورمز پر نشر کرنے کا انتظام کیا جارہا ہے۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ نوازشریف کی آواز گھر گھر گونجے گی، روک سکو تو روک لو، اب جب نوازشریف بولنے لگا تو حکومت کی جان پر کیوں بن گئی؟ انہوں نے ٹویٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ کنٹینر پر گالیاں دینے، ہنڈی اور سول نافرمانی کی تلقین کرنے، بجلی کے بل پھاڑنے، سرکاری املاک و پولیس پر حملے کرنے والوں کو تو نواز شریف نے روکا نہ پیمرا کو استعمال کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ اب جب نواز شریف بولنے لگا ہے تو کیوں جان پر بن گئی ہے؟ اس کی آواز گھر گھر گونجے گی انشاءاللہ، روک سکو تو روک لو! اسی طرح مریم نواز نے کہا کہ پیمرا کے ذریعے نوازشریف کا خطاب روکا گیا تو سوشل میڈیا پر لائیو چلے گا۔ نواز شریف کا اے پی سی سے خطاب لندن سے ہی سوشل میڈیا کے کئی پلیٹ فارمز بشمول فیس بک، ٹویٹر، یوٹیوب پر لائیو سٹریم کریں گے


20 ستمبر کو اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس میں نواز شریف اپنی لمبی چپ توڑیں گے، زرداری بھی ممکنہ طور پر خطاب کریں گے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ ن، اسفند یار ولی کی عوامی نیشنل پارٹی، مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علمائے اسلام، بی این پی مینگل، بی این پی عوامی اور دیگر جماعتیں شریک ہوں گی، جماعت اسلامی شرکت نہیں کرے گی۔
علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ آصف زرداری اور نوازشریف کا خطاب سوشل میڈیا پر براہ راست دکھایا جائےگا۔پیپلزپارٹی کے مطابق پیپلزپارٹی دونوں رہنماؤں کے ابتدائی کلمات کیلئے سوشل میڈیا پر آفیشل لنک فراہم کرے گی، اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس بھی ہوگی۔
ذرائع کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس کیلئے ن لیگ نے سفارشات کو حتمی شکل دے دی ہے۔ نواز شریف کا آڈیو خطاب ایجنڈے کی ابتدائی منظوری کے بعد ہو گا۔ ذرائع کے مطابق ن لیگ اے پی سی میں مڈ ٹرم الیکشن کی تجویز دے گی، ن اور شین گروپ کا تاثر زائل کرنے کیلئے مریم نواز کو وفد میں شامل کیا گیا۔ ن لیگ حکومت ہٹاؤ مہم چلانے کے لیے نومبر میں عوامی جلسوں کی بھی تجویز دے گی، حکومت مخالف تحریک کیلئے مشترکہ فنڈز قائم کرنے کی بھی سفارش کی جائے گی۔ اسمبلیوں کے باہر ہفتہ وار مشترکہ احتجاج کا شیڈول دینے کی تجویز بھی دی جائیگی۔ خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس کی میزبانی پاکستان پیپلز پارٹی کر رہی ہے، جس کا دو نکاتی ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا۔ کانفرنس میں حکومت کی دو سال کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا اور مستقبل کی حکمت عملی پر بھی مشاورت ہوگی۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لئے تجاویز بھی دی جائیں گی۔
دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفی نواز کھوکھر نے تصدیق کی ہے کہ نواز شریف نے دعوت قبول کر لی ہے اور وہ اے پی سی میں وڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوں گے۔ انہوں ںے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف کے درمیان فون پر سیاسی صورت حال اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی تبادلہ خیال ہوا تھا۔ چیئرمین بلاول بھٹو نے نواز شریف کی صحت دریافت کی اور جلد صحتیابی کی دعا کی۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کو 20 ستمبر کوچیئرمن بلاول بھٹو زرداری نے اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی تھی۔
دوسری طرف حکومت سابق وزیر اعظم نواز شریف کا خطاب نشر ہونے سے روکنے کیلئے متحرک ہو گئی ہے. وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل نے کہا ہے کہ ‘اگر مفرور مجرم نواز شریف نے کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) سے خطاب کیا اور وہ نشر ہوا تو پیمرا سمیت دیگر قانونی آپشنز استعمال کیے جائیں گے’۔سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ ‘یہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک مفرور مجرم سیاسی سرگرمیاں کرے اور بھاشن دے’۔شہباز گل کا مزید کہنا تھا کہ ‘شریف خاندان جھوٹ کے علاوہ کچھ نہیں بول سکتا، اتنے جھوٹے ہیں کہ بیماری پر بھی جھوٹ بولتے ہیں’۔


دوسری طرف مسلم لیگ ن نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کیلئے اپنے 11رکنی وفد کا اعلان کردیا ، مریم نواز بھی وفد میں شامل ہیں ۔ اے پی سی میں شریک ہونے کیلئے مسلم لیگ ن کے 11 رکنی وفد کی قیادت قائد حزب اختلاف شہبازشریف کریں گے ، ان کے ساتھ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نوازشریف بھی وفد کا حصہ ہوں گی ۔ مسلم لیگ نواز کی طرف سے اعلان کردہ دیگر ممبران مین سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ، سابق وزیرداخلہ خواجہ آصف ، سابق وفاقی وزیر احسن اقبال ، قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر ایازصادق بھی وفد میں شامل ہیں ، جبکہ سینیٹر پرویزرشید ، سابق وزیر ریلوے سعد رفیق ، مسلم لیگ ن پنجاب کے صدر رانا ثنااللہ ، امیرمقام اورسابق وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب بھی اے پی سی میں شرکت کرنے والے وفد کا حصہ ہوں گی ۔
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی 20 ستمبر کو اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی منعقد کرے گی جس میں حزب اختلاف کے رہنما شرکت کریں گے۔ ایکسپریس ذرائع کے مطابق نواز شریف اے پی سی میں ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب بھی کریں گے۔ واضح رہے کہ علاج کے لیے بیرون وطن روانگی کے بعد یہ کسی سیاسی سرگرمی میں ان کی پہلی باضابطہ شرکت ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button