آصف زرداری نے صدر اوباما کے دعوؤں کو جھوٹی کہانیاں قرار دے دیا


سابق صدر آصف علی زرداری نے سابق امریکی صدر باراک اوباما کے اس دعوے کو سختی سے رد کیا ہے کہ مئی 2011 میں امریکی افواج کے ہاتھوں ایبٹ آباد آپریشن میں اسامہ بن لادن کے مارے جانے کے بعد ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں صدر زرداری بالکل بھی اپ سیٹ نہیں تھے جیسا کہ وہ اسوقت امید کر رہے تھے۔ آصف زرداری نے اوباما کے دعوے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک خودساختہ کہانی ہے جو سچ سے کوسوں دور ہے اور جس میں حقائق کو اپنی مرضی اور منشا کے مطابق مسخ کر کے بیان کیا گیا یے۔
یاد رہے کہ سابق امریکی صدر بارک اوباما نے اپنی نئی کتاب ’’اے پرومسڈ لینڈ‘‘ میں دعوی کیا ہے کہ 2؍ مئی 2011ء کو ایبٹ آباد میں جب امریکا نے کارروائی کرکے اسامہ بن لادن کو ہلاک کیا تھا اس وقت، اُس وقت کے صدر آصف زرداری اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا رد عمل حیران کن نہیں تھا۔ سابق امریکی صدر اپنی کتاب میں کہتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کیخلاف کارروائی کی خبر پاکستان کو دینا ہماری سوچ سے بھی زیادہ آسان ثابت ہوا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ‘میں توقع کر رہا تھا کہ یہ کافی مشکل کال ہو گی لیکن جب میں نے صدر آصف زرداری سے رابطہ کیا تو ایسا بالکل نہیں تھا۔ ابامہ کے مطابق آصف زرداری کا کہنا تھا کہ یہ بہت خوشی کی خبر ہے۔ اوباما کا دعوی ہے کہ صدر زرداری اس فون کال پر واضح طور پر جذباتی تھے اور انھوں نے اپنی اہلیہ بینظیر بھٹو کا بھی ذکر کیا جنھیں ’القاعدہ سے منسلک شدت پسندوں نے ہلاک کیا تھا۔‘
تاہم آصف زرداری نے صدر اوباما کے ان دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ جب صدر اوباما نے انہیں حملے کے بعد فون کیا تو انہوں نے اس عمل کو امریکہ کی جانب سے پاکستان کی فضائی حدود کی سنگین خلاف ورزی اور ملک کی خود مختاری پر ایک بڑا حملہ قرار دیتے ہوئے اس پر شدید اضطراب کا اظہار کیا تھا۔ آصف زرداری نے اوباما کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ لکھتے وقت تمام واقعات کو اسی طرح بیان کیا جانا چاہیے جیسے کہ وہ پیش آئے ہوں لیکن صدر اوباما کے دعوے جھوٹے الزامات پر مبنی نظر آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ہمیشہ کسی بھی قسم کی دہشت گردی کی مذمت کی ہے چاہے وہ کسی بھی صورت میں کی جائے لہذا اس بات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں بطور صدر پاکستان ملک کی سرحدوں کی کھلی خلاف ورزی کی مذمت کرنے کی بجائے اس عمل کی تعریف و توصیف کرتا۔
سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ ریکارڈ کی درستگی کے لیے میں یاد دلوانا چاہتا ہوں کہ 2 مئی 2011 کے امریکی حملے کے فورا بعد میں نے ہی امریکی انتظامیہ کو اس واقعے کی سنگینی کا احساس دلانے کے لیے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ذریعے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلوایا تھا تاکہ ایک متفقہ اور مضبوط موقف لیا جا سکے۔ آصف علی زرداری نے کہا کہ صدر اوباما کے اس دعوے میں رتی بھر بھی سچ نہیں کہ انہوں نے پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کرنے پر امریکی صدر کو مبارکباد پیش کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر اوباما کے دعوے نہ صرف گمراہ کن ہیں بلکہ مزاحیہ بھی معلوم ہوتے ہیں جنہیں کہ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے کھاتے میں فٹ کیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف آصف زرداری کے ترجمان نے بھی صدر اوبامہ کے دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے یا دلوایا ہے کہ یہ انہی کی حکومت تھی جس کے دور اقتدار میں پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بار بار لمبے عرصے تک منقطع رہے خصوصا بلوچستان میں پیش آنے والے سلالہ کے واقعے کے بعد۔ یاد رہے کہ نومبر 2011 میں نیٹو افواج کی جانب سے پاکستانی سکیورٹی فورسز پر سلالہ بارڈر حملے کے بعد صدر زرداری کی حکومت نے جنرل پرویز مشرف کی جانب سے امریکی افواج کو بلوچستان میں دی جانے والی شمسی ائیر بیس کی سہولت واپس لے لی تھی۔ آصف زرداری کے ترجمان نے یاد دلوایا کے یہ تمام فیصلے تب کے صدر پاکستان کے احکامات پر ملک کے وسیع تر مفاد میں کئے گئے لہٰذا اپنا قد بڑھانے کے لئے جھوٹی کہانیاں سنانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے تاکہ تاریخ کا سچ سامنے آ سکے۔
یاد رہے کہ صدر اوباما نے جس کتاب میں یہ دعوے کیے ہیں وہ براک اوباما کے بچپن سے لے کر ان کے پہلے دور صدارت کے سب سے اہم واقعے، مئی 2011 میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی ہلاکت تک کے واقعات تک محدود ہے۔ صدر ابامہ اپنی آپ بیتی کا دوسرا والیم لکھ رہے ہیں لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ اس کی اشاعت کب ہو گی۔ تاہم افسوس کی بات ہے کہ ان کی کتاب کا پہلا والی متنازعہ ہوگیا ہے خصوصا سابق پاکستانی صدر آصف علی زرداری کی جانب سے ان کے دعووں کی تردید کے بعد۔
سات حصوں اور 27 ابواب پر مشتمل کتاب کا آخری باب اسامہ بن لادن پر پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں کیے گئے حملے اور اس کی جامع منصوبہ بندی کے بارے میں ہے جس میں صدر اوبامہ لکھتے ہیں کہ جب انھوں نے صدارت کا عہدہ سنبھالا تو اس وقت امریکی حکام نے اسامہ بن لادن کی کھوج لگانے کا سلسلہ تقریباً چھوڑ دیا تھا لیکن انھوں نے اس کو اپنی سب سے اوّلین ترجیح بنا لیا۔ اوبامہ لکھتے ہیں کہ انھوں نے اپنے مشیروں کو مئی 2009 میں ہی کہہ دیا تھا کہ وہ اسامہ بن لادن کی کھوج لگانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے منصوبہ بندی شروع کی جائے اور ہر تیس دن کے بعد انھیں اس کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔
اس بارے میں امریکی صدر لکھتے ہیں کہ ان کے لیے سب سے ضروری امر یہ تھا کہ اس منصوبہ کو مکمل طور پر خفیہ رکھا جائے اور نہ صرف امریکی انتظامیہ میں نہایت گنتی کے کچھ لوگوں کو اس کے بارے میں علم تھا، پاکستانی حکام تک اس منصوبے کی بھنک بھی نہ پڑنے دی گئی۔ ’پاکستانی حکومت نے افغانستان کے معاملے پر ہمارا بہت ساتھ دیا لیکن یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ان کی فوج اور خفیہ اداروں میں چند ایسے عناصر ہیں جو ابھی بھی القاعدہ اور طالبان سے تعلقات قائم رکھتے ہیں اور ان کو بطور اثاثہ استعمال کرتے ہیں جن کی مدد سے انڈیا کو کمزور کیا جا سکے۔‘
براک اوباما لکھتے ہیں کہ جب فیصلہ کرنے کا وقت آیا تو وہ وائٹ ہاؤس میں اپنی رہائش گاہ کے حصے ’ٹریٹی روم‘ میں موجود تھے اور ٹی وی پر باسکٹ بال کا مقابلہ چل رہا تھا۔ انھوں نے اپنی کتاب میں بتایا کہ اسامہ بن لادن کے خلاف امریکہ نے دو منصوبے بنائے تھے جن میں سے ایک تھا نیوی سیلز کے اہلکاروں کو پاکستان بھیجنا اور دوسرا قریبی فاصلے سے ڈرون حملہ کرنا۔ ان کے قریبی ترین رفقا میں سے اکثریت نیوی سیلز کو بھیجنے پر راضی تھی البتہ اس وقت کے نائب صدر اور 2020 کے صدارتی انتخاب کے فاتح جو بائیڈن ان میں سے نہیں تھے۔ اوباما لکھتے ہیں کہ جو بائیڈن نے ان کو صبر کرنے کا مشورہ دیا اور وہ نیوی سیلز کو بھیجنے کے خلاف تھے۔
براک اوبامہ لکھتے ہیں کہ سیکریٹری دفاع رابرٹ گیٹس بھی اس حملے کے خلاف تھے اور اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے جو بائیڈن نے اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ مشن کی ناکامی کی صورت میں پیدا ہونے والی صورتحال انتہائی گھمبیر ہوگی اور یہ کہ ’اس حملے کی اجازت دینے سے قبل خفیہ اداروں کی جانب سے ایبٹ آباد کے مکان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی کا پورا یقین کر لیں۔‘ یاد رہے کہ بالآخر یکم اور دو مئی 2011 کی درمیانی شب کیے گئے اس حملے میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔
صدر اوباما اس واقعہ پر لکھتے ہیں: ’بطور صدر اپنے ہر بڑے فیصلے پر میں نے جو بائیڈن کی اس خاصیت کو سراہا ہے کہ وہ میری ہاں میں ہاں نہیں ملاتے اور مجھ سے سخت سوالات کرتے، اور انھی کی وجہ سے مجھے خود ذہنی طور پر وہ آسانی اور جگہ ملتی ہے تاکہ میں اپنے فیصلوں پر مزید سوچ بچار کر سکوں۔‘ اوباما لکھتے ہیں کہ جب نیوی سیلز نے تصدیق کر دی کہ القاعدہ کے سربراہ کو ہلاک کر دیا گیا تو ان کو کچھ تسکین حاصل ہوئی اور جس کے بعد انھوں نے سابق امریکی صدور بل کلنٹن اور جارج بش جونیئر کو اس خبر کی اطلاع دی اور اس کے بعد چند اتحادی ممالک سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے پاکستانی فوجی قیادت اور صدر آصف علی زرداری سے بھی گفتگو کی۔ تاہم آصف علی زرداری نے اوباما کی جانب سے ان کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے مندرجات کو سختی سے رد کر دیا ہے اور انہیں حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button