آصف زرداری کیخلاف ریفرنس ، نیب پراسیکیوٹر مستعفی ہوگیا

قومی احتساب بیورو (نیب) کے خصوصی پراسیکیوٹر مدثر نقوی نے سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف دائر دو ریفرنسز میں ذاتی وجوہات کی بنا پر استعفیٰ دے دیا۔نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کو لکھے گئے مراسلے میں مدثر نقوی نے اپنے والدین کی ’بیماری‘ کو بڑی وجہ قرار دے کر پراسیکیوٹر نیب کے عہدے سے استعفیٰ دیا۔
واضح رہے کہ مدثر نقوی، آصف علی زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس مقدمات میں نیب کی نمائندگی کرنے والی چھ رکنی پراسیکیوشن ٹیم کا حصہ تھے ، مدثر نقوی کے پاس سابق صدر کے خلاف پارک لین اور منی لانڈرنگ ریفرنسز کا چارج تھا علاوہ ازیں نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے مدثر نقوی کا استعفی منظور کرلیا۔
واضح رہے کہ احتساب عدالت نے 12 دسمبر کو سابق صدر آصف علی زرداری کی رہائی کی روبکار جاری ہونے کے بعد انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) سے رہا کردیا تھا۔آصف علی زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور دیگر افراد جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کرپشن اور پارک لین پرائیویٹ لمیٹڈ اور پارتھینن (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے لیے مالی معاونت میں غبن کے الزمات کا سامنا کررہے ہیں۔نیب کی جانب سے الزام ہے کہ ان بے ضابطگیوں کی وجہ سے 3 ارب 77 کروڑ روپے کا قومی خزانے کو نقصان پہنچا۔
یاد رہے کہ 11 دسمبر 2019 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت منظور کرلی تھی۔عدالت عالیہ نے اپنے 5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ آصف زرداری پر منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں لیکن الزامات جب تک ثابت نہیں ہوتے آصف زرداری معصوم اور بے گناہ ہیں، لہٰذا انہیں ایک، ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض طبی بنیادوں پر ضمانت دی جارہی۔
فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سابق صدر کے خلاف اسلام آباد کی احتساب عدالت میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ زیر سماعت ہے لیکن صرف کسی کے خلاف مقدمہ زیر سماعت ہونے پر اس کے بنیادی حقوق ختم نہیں ہوتے اور آصف زرداری کو بنیادی آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ میڈیکل رپورٹ کو دیکھتے ہوئے ضمانت نہ دینا آصف زرداری کے بنیادی حقوق کی خلاق ورزی ہو گی، قید میں ہوتے ہوئے آصف زرداری کا علاج قومی خزانے سے ہو رہا تھا لیکن ضمانت پر رہائی کے بعد وہ اپنی مرضی اور اپنے خرچ سے علاج کرائیں گے۔
تحریری حکمنامے میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ کہہ چکی ہے کہ جرم ثابت ہونے پر کسی کو ملی ضمانت کا ازالہ ممکن ہے، سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا تھا بے قصور ثابت ہو جانے پر کسی کو پہلے قید میں رکھنے کا کوئی ازالہ نہیں ہوتا، لہٰذا زرداری کیس کے حقائق میں اس موقع پر ضمانت نہ دینا سزا دینے کے برابر ہوگا۔
پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کو 10 جون کو اسلام آباد ہائی کورٹ سے ضمانت منسوخ ہونے پر نیب نے گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ابتدائی طور پر ان کا جسمانی ریمانڈ دیا گیا تھا۔بعد ازاں منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتار آصف زرداری کا عدالتی ریمانڈ دے دیا گیا تھا اور انہیں جیل منتقل کردیا تھا، جہاں ان کی طبیعت خراب ہونے پر انہیں پمز منتقل کردیا گیا تھا۔
