ابھی نندن کو سعودی دباؤ اور بھارتی دھمکی کے بعد رہا کیا گیا


فروری 2019 میں اپنا جہاز گرنے کے بعد گرفتار ہونے والے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی فوری رہائی کی وجوہات میں مودی سرکار کی جانب سے پاکستان پر حملے کی دھمکی کے علاوہ سعودی عرب کا دباؤ بھی تھا۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو خفیہ معلومات ملیں تھیں کہ بھارت 27 فروری کو رات نو سے دس کے درمیان پاکستان پر نو میزائلوں سے حملہ کرے گا۔ پاکستان نے اس حملے کا جواب دینے کے لیے بھارت پر 13 میزائلوں سے حملہ کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ اسی دوران اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے آس پاس ‘بلیک آؤٹ’ کرنے اور فضائی راستے بند کرنے کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے تھے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ چھڑنے کے خطرات بڑھ گئے تھے۔ بی بی سی کے مطابق اس بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ عادل الجبیر امن کا پیغام لے کر اسلام آباد پہنچے۔ دوسری طرف بھارت میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر سعود محمد نے وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی اور دوطرفہ کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے گفتگو کی۔ تاہم مودی کا یہ موقف تھا کہ اگر ابھی نندن کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو بھارت پاکستان پر حملہ کر دے گا۔
بی بی سی رپورٹ کے مطابق 28 فروری 2019 کو جب ابھینندن کی اہلیہ تنوی ماروا کے موبائل فون پر سعودی عرب کے نمبر سے ایک کال آئی تو وہ حیران بھی ہوئیں اور پریشان بھی کیونکہ دوسری جانب سے لائن پر انھیں پاکستان میں قید اپنے شوہر ونگ کمانڈر ابھینندن کی آواز سنائی دی۔ دارصل آئی ایس آئی کی جانب سے یہ کال سعودی عرب سے روٹ کی گئی تھی۔ مبینہ طور پر ایک جانب پاکستانی اہلکار ابھینندن پر گھونسوں کی بوچھاڑ کر رہے تھے تو دوسری جانب ان کا ہی ایک آدمی ابھینندن کی اہلیہ سے فون پر ان کی بات کروا رہا تھا۔ جاسوسی کی دنیا میں اسے ‘گڈ کاپ، بیڈ کاپ’ تکنیک کہا جاتا ہے اور اس کا مقصد کسی شخص سے زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے۔
پھر 28 فروری 2019 کے روز ہی عمران خان نے پاکستانی پارلیمان میں اعلان کیا کہ ان کا ابھینندن کو قید میں رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، وہ اسے چھوڑ رہے ہیں۔ ابھینندن کو یکم مارچ 2019 کو واہگہ پر انڈین حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔ عمران خان کا موقف تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ خطے میں امن کے قیام کے لیے کیا ہے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی ان کا فون نہیں سن رہے لیکن پھر بھی انہوں نے ابھینندن کو رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تب پاکستانی ارکانِ پارلیمان نے ویسے تو تالیاں بجا کر ان کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا لیکن کئی حلقوں میں سوال بھی اٹھے تھے کہ کیا ابھینندن کی فوری رہائی سمجھداری کا فیصلہ تھا؟
دوسری جانب انڈیا کے سیاسی رہنماؤں نے تب یہ تاثر دینے میں کوئی گنجائش نہیں چھوڑی تھی کہ عمران خان نے انڈیا کے سخت رویے اور دھمکیوں سے گھبرا کر یہ قدم اٹھایا ہے۔ انڈیا کی حکمران جماعت بی جے پی کے صدر امت شاہ نے 5 مارچ 2019 کو ریاست جھارکھنڈ کے ایک انتخابی جلسے میں کہا تھا کہ ‘انھوں نے ہمارے پائلٹ کو پکڑا لیکن مودی جی کی وجہ سے انھیں 48 گھنٹے کے اندر چھوڑنا پڑا۔’
تاہم بی بی سی رپورٹ کے مطابق ابھی نندن کی رہائی میں نہ صرف مودی کی دھمکی بلکہ سعودی عرب اور امریکہ کی کوششوں کا بھی عمل دخل تھا۔ یاد ریے کہ 28 فروری کو ہی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان سے ملاقات کرنے ہنوئی پہنچنے والے امریکی صدر ٹرمپ سے جب صحافیوں نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا کہ ‘بہت جلد آپ کو پاکستان سے ایک اچھی خبر سننے کو ملے گی۔ ہم اس معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں، جلد ہی یہ حل ہو جائے گا۔’ اور صدر ٹرمپ کے اس دعوے کے چند گھنٹے بعد ہی پاکستان نے ابھینندن کو انڈیا کے حوالے کرنے کا اعلان کر دیا۔
تاہم ابھی نندن کی رہائی کے ڈیڑھ برس بعد اب پاکستان میں اپوزیشن اور حکومتی ممبران کے مابین لفظی گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے جس کا آغاز قومی اسمبلی میں سابق سپیکر ایاز صادق کے ایک بیان سے ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی نندن کی رہائی سے ایک روز پہلے جب شاہ محمود قریشی ایک اعکی سطحی اجلاس۔میں ان سے ملے تو ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھی اور آواز کپکپا رہی تھی اور انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر ابھی نندن کو فوری رہا نہ کیا گیا تو آج رات 9 بجے تک بھارت پاکستان پر حملہ کر دیگا۔ حکومتی سائیڈ سے اس بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے اور اسی لفظی گولہ باری کے دوران وفاقی وزیر فواد چوہدری نے یہ تک کہہ دیا کہ ہم نے تو پلوامہ میں گھس کر دشمنوں کو مارا تھا۔ بعد ازاں ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کی فوجی کامیابی کو نیچا دکھانے کی کوشش کی گئی ہے جو کہ قابل مذمت ہے۔
تاہم بی بی سی کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ابھی نندن کی رہائی کے فیصلے میں بھارتی دھمکی کے علاوہ سعودی عرب کا بھی کردار تھا جو بھارت کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھانے میں آخری حد تک جا چکا ہے۔ اس زمانے میں شاہ سلمان عمران خان کے ساتھ پیار کی پینگیں بھی بڑھا رہے تھے اور خان صاحب بھی ان کے ڈرائیور کا کردار ادا کر رہے تھے۔ لیکن جب ابھی نندن کی رہائی کے باوجود بھارت نے پاکستان کے ساتھ معاملات بہتر بنانے کی بجائے کشمیر میں واردات ڈال دیی تو پاک سعودی تعلقات بھی خراب ہوگے کیونکہ اس معاملے میں بھارت نے اسلام آباد کا ساتھ دینے کی بجائے دہلی کا ساتھ دیا اور مسلہ کشمیر پر او آئی سی کا اجلاس بلانے سے انکار کر دیا۔
یاد رہے کہ اس سے جب سعودی عرب پاکستان اور بھارت کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھا رہا تھا تو کشمیر میں پلوامہ حملے کے بعد سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاک۔بھارت کسیدگی کم کرنے کے لیے پہلے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور پھر انڈیا کا۔ انڈیا کے دفاعی ماہرین کے خیال میں ان دوروں کے دوران شہزادہ سلمان نے سفارتی لحاظ سے ایک تنی ہوئی رسّی پر چلتے ہوئے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں تعاون کی تعریف کی وہیں انڈیا میں انھوں نے وزیر اعظم مودی کی اس بات پر رضامندی کا اظہار کیا کہ دہشتگردی کو کسی بھی طرح جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ یہی نہیں سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے اسلامی ممالک کے اجلاس میں اس دوران انڈیا کی وزیر خارجہ سشما سوراج سے بات کی لیکن انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں سعودی عرب کی دلچسپی کی وجہ کیا تھی۔ سعودی عرب میں انڈیا کے سابق سفیر تلمیز احمد کا خیال ہے کہ ‘سعودی عرب اپنے ایران مخالف اشتراک میں پاکستان کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی انڈیا کو ایران سے دور کرنے کی کوششیں بھی جاری تھیں۔’
بی بی سی کے مطابق فروری 2019 میں پاکستانی علاقے بالاکوٹ میں انڈیا کے حملے کے بعد پاکستان نے دنیا کے بااثر ممالک اور سلامتی کونسل کے مستقل ممبران سے رابطہ کر کے انھیں مطلع کیا کہ انڈیا کے بحری جہازوں نے کراچی کی جانب بڑھنا شروع کر دیا ہے اور وہ پاکستان پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کرنےکی تیاری کر رہا ہے اور یہ بھی کہ انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر انڈیا کی فوجی سرگرمی تیز ہو گئی ہے۔ ان معلومات سے پریشان ہو کر متعدد ممالک نے انڈیا سے رابطہ کیا جسکی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے ان الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ اصل میں اس کی بحری فوجیں کراچی کے بندرگاہ کی جانب نہیں بلکہ دوسری جانب جا رہی ہیں۔ بی بی سی کے مطابق ’ان ممالک نے انڈیا سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے طیارے گرائے جانے اور انڈین پائلٹ کو پاکستان میں قید کیے جانے کی وجہ سے کارروائی پر غور کر رہا ہے تو انڈیا نے جواب دیا کہ گیند اب پاکستان کے کورٹ میں ہے۔ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ کشیدگی کم ہو تو اسے اس بارے میں اقدامات کرنے ہوں گے۔ انڈیا نے یہ بھی واضح کر دیا کہ اگر ابھینندن کو نقصان پہنچایا جاتا ہے تو پاکستان کو نتائج کا سامنا کرنا ہو گا۔‘
یہی نہیں ’را‘ کے ڈائریکٹر انل دھسمانا نے تب کے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹنینٹ جنرل عاصم منیر سے بات کر کے ان پر واضح کیا کہ اگر ابھینندن کے ساتھ سختی برتی گئی تو پاکستان کو نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اسی دوران بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال نے امریکہ میں اپنے ہم منصب جان بولٹن اور وزیر خارجہ مائک پومپیو کو ہاٹ لائن پر بتایا کہ اگر ونگ کمانڈر ابھینندن کے ساتھ کوئی بھی بدسلوکی ہوتی ہے تو انڈیا کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہے۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق صرف اتنا ہی نہیں بلکہ دووال اور دھسمانا نے متحدہ عرب امارات سے بھی بات کر کے انڈیا کی منشا واضح کر دی تھی۔ اسی دوران پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو خفیہ معلومات ملیں کہ انڈیا 27 فروری کو رات نو سے دس کے درمیان پاکستان پر نو میزائلوں سے حملہ کرے گا۔ پاکستان نے اس کا جواب دینے کے لیے انڈیا پر 13 میزائلوں سے حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اسی دوران اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے آس پاس ‘بلیک آؤٹ’ کرنے اور فضائی راستے بند کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔
کشیدگی کے دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ عادل الجبیر امن کا پیغام لے کر اسلام آباد گئے۔ اسی وقت انڈیا میں سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر سعود محمد نے وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی۔سفارتی معاملوں کے ماہر ہرش پنت نے بتایا کہ ’سعودی عرب نہیں چاہتا تھا کہ یہ معاملہ اتنا بڑھے اور اسے واضح طور پر دنیا کے سامنے انڈیا اور پاکستان میں سے کسی ایک کا ساتھ دینا پڑے۔‘ ان کے مطابق ’حکمت عملی کے معاملوں میں پاکستان اور سعودی عرب کی سوچ ایک دوسرے سے بہت قریب ہے۔ سعودی عرب نے ‘بیک چینل’ سے کوشش کی کہ پاکستان اس معاملے کو مزید نہ بڑھنے دے۔ اس نے انڈیا سے بھی بات کی اور جب اسے انڈیا سے اس بات کے اشارے مل گئے کہ کوئی بیچ کا راستہ نکل آنے پر انڈیا کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا، تو اس نے پاکستان سے رابطہ کیا اور پاکستانی فوجی اور سیاسی قیادت کو ابھی نندن کی فوری رہائی پر آمادہ کر لیا۔ یوں 28 فروری کی شام ابھی نندن کو رہا کرکے واہگہ بارڈر پر بھارتی حکام کے حوالے کر دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button