اب حکومت عمران سے مذاکرات کیوں نہیں کرنا چاہتی؟

اس وقت پاکستان تحریک انصاف کا وجود تاش کے پتوں کی طرح بکھر رہا ہے اور اس صورتحال نے ایک بار پھر ملک کے سیاسی اور جمہوری نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ جہاں ایک۔طرف عمران خان حکومت سے مذاکرات کی بھیک مانگتے ہوئے منتیں اور ترلے کر رہے ہیں وہیں دوسری طرف مسلم لیگ نون نے حیران کن رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف سے مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔ ایسے میں پیپلز پارٹی بھی اپنے سیاسی اتحادیوں کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتحادی حکومت عمران خان سے مذاکرات سے انکاری کیوں ہے؟
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کے بیشتر رہنما مختلف مقدمات میں مطلوب ہیں اور اس وقت منظرعام پر نہیں ہیں تاہم تحریک انصاف نے ایک سات رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے، جو حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہے۔اس تناظر میں پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ ”حکومت اگر سیاسی عدم استحکام کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے تو مذاکرات کی ٹیبل پر آئے اور جمہوری طریقے سے بات چیت کرے۔‘‘
دوسری جانب حکومت کی طرف سے مذاکرات کے معاملے پر متضاد آرا سامنے آ رہی ہیں۔ مسلم لیگ ن کے کچھ ارکان مذاکرات سے ہی انکاری ہیں تو کچھ نے عمران خان کے نو مئی کے واقعات پر اعلانیہ معافی کے بعد ہی کسی قسم کے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ تاہم حکومتی ترجمان نے مذاکرات کی پیش کش کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ریاست پر حملہ کرنے والوں کو سزا دی جاتی ہے، مذاکرات نہیں کیے جاتے۔ ان کے بقول عمران خان مذاکرات نہیں بلکہ این آر او کی اپیل کر رہے ہیں، ”ملک میں آگ لگانے، انتشار پھیلانے، ذہنوں میں نفرت کی آگ بھر کر مسلح جتھے بنانے والوں سے بات چیت نہیں ہو سکتی۔‘‘
دوسری جانب اتحادی حکومت میں شامل دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے سینیئر رہنما فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف سے مذاکرات صرف غیر مشروط معافی کے بعد ہی ممکن ہیں۔ ان کے بقول پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی میں سے بیشتر ارکان نو مئی کے واقعات میں نامزد ہیں۔ فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ اس ساری صورت حال میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن بھی فریق ہیں اور اس معاملے میں صرف فوج کو ہی اصل فریق تصور کرنے کی بات بے بنیاد ہے۔
تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومتی اتحاد مذاکرات سے گریزاں کیوں ہے؟ اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب سیاست میں اختلافات حد سے بڑھ جائیں تو پھر مذاکرات سے حل نہیں ہوتے، وہ پھر کسی کی مکمل ہار یا مکمل جیت سے ہی حل ہوتے ہیں۔ ان کے بقول عمران خان نے کبھی بھی موجودہ حکومت سے مذاکرات کی بات ہی نہیں کی اور اب بھی عمران خان مذاکرات چاہتے ہیں تو وہ اہل اقتدار سے چاہتے ہیں یعنی فوج سے، ”تو حکومت جو ہے، اس وقت اس کھیل میں ہے ہی نہیں۔ پی ڈی ایم کی حکومت اس سارے کھیل میں نہ کھلاڑی ہے نہ ریفری ہے۔‘‘بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم کے اثرات بارے سوال کے جواب میں سیاسی تجزیہ کار غازی صلاح الدین کا کہنا ہے کہ پولرائزیشن پاکستان جیسے ملک میں ہوتی ہے اور یہ ضروری بھی ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ کچھ بنیادی مسائل ہیں اس ملک کے، وہ اس وقت حل ہوں گے، جب نظریاتی طور پر لوگ اپنی صف بندی کریں گے، ”تو پولرائزیشن تو ہونا ہے لیکن عمران خان کی شخصیت کے حوالے سے غلط پولرائزیشن تھی، اس میں کوئی نظریاتی عنصر نہیں تھا۔ وہ اس لیے کہ عام آدمی، جو طالبان کا حمایتی ہو، وہ بھی ان کے ساتھ تھے اور پنجاب کی ایلیٹ اور اعلیٰ طبقہ کے لوگ ہیں، وہ بھی ان کے ساتھ ہیں۔ ان کا آپس میں کوئی نظریاتی تعلق نہیں بنتا۔‘‘
دوسری جانب تجزیہ کار اور صحافی نفيس نعيم کے مطابق عمران خان کو توڑنے کے لیے حکومت کے پاس بہت حربے ہیں، ”مذاکرات کی پیش کش کو رد کرنے کا مطلب ہے کہ حکومت اب عمران خان کو مزید نفسیاتی طور پر دباؤ میں لانا چاہتی ہے، یہ جنگ کا اصول ہے کہ مذکرات سے پہلے یا سیز فائر سے پہلے آپ دشمن کے خلاف بھرپور کارروائی کر کے اسے گھٹنوں پر بٹھانا چاہتے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو اس وقت گرفتار کرنا یا جلا وطن کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں، ”جیل میں ڈالنے پر عمران خان کی مقبولیت بڑھ جائے گی اور اگر انہیں سیاست سے باہر رہنے کا معاہدہ کروا کر بیرون ملک بھیجا گیا تو وعدہ خلافی اور یو ٹرن کے ماہر ہیں۔ ان پر اس حوالے سے اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔‘‘
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی عوامی مقبولیت اب بھی برقرار ہے اور اس سپورٹ میں کمی نہیں آئی تاہم سیاسی طور پر عمران خان کے لیے بہت سے مسائل ہیں، ان کا اپنی پارٹی اور سیاسی رہنماؤں سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔دوسری جانب چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی مذاکراتی کمیٹی میں نامزد کیے گئے بیشتر رہنماؤں کے موبائل فونز بند ہیں اور وہ پارٹینکی اعلی قیادت سمیت کسے سے رابطے میں نہیں۔
