دفتر خارجہ نے پاک افغان سرحدی کشیدگی پر برطانوی مؤقف مسترد کردیا

 

 

 

پاکستان نے پاک افغان سرحدی صورت حال پر برطانوی نمائندہ خصوصی کے بیان کو یک طرفہ قراردیتے ہوئے مسترد کردیا اور کہا ہےکہ ایسے بیانات زمینی حقائق اور خطے کی پیچیدہ صورت حال کی درست عکاسی نہیں کرتے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی اور دراندازی کی کوششیں بلاتعطل جاری ہیں،مارچ میں پاکستان کےجنگ بندی کے اقدام کے باوجود افغانستان سے حملے جاری رہے۔

ترجمان نے کہاکہ افغان طالبان کی بلااشتعال سرحد پار فائرنگ اور دہشت گرد کارروائیوں میں 52 شہری شہید اور 84 زخمی ہوئے،افغانستان کی جانب سے شہری اموات کے الزامات بےبنیاد اور غیرمصدقہ ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے افغانستان سے دراندازی کی متعدد کوششیں ناکام بنائیں،دہشت گردی کی اصل وجوہات کو نظرانداز کرنا غیرمتوازن مؤقف کی عکاسی ہے۔عالمی برادری علاقائی صورت حال اور پاکستان کی قربانیوں کا ادراک کرے،پاکستان نے دہشت گردی کےخلاف جنگ میں بےپناہ قربانیاں دی ہیں۔

عمران خان سے کوئی ڈیل نہیں ہو رہی: رانا ثنا اللہ

خیال رہے کہ برطانیہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان رچرڈ لنڈسے نے کہا تھا کہ انہیں کنڑ میں حملوں سمیت افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر تشدد پر تشویش ہے۔ شہریوں کے تحفظ اور مزید کشیدگی سے بچنے کےلیے تمام اقدامات کیے جائیں۔میں اس ہفتے افغانستان میں ہونے والی ملاقاتوں سمیت بات چیت اور تحمل کی تاکید کرتا رہتا ہوں۔

 

 

 

Back to top button