شریف برادران کی عدالت میں حاضری سے استثناء کی درخواستیں منظور

احتساب عدالت نے چوہدری شوگر ملز کیس میں نوازشریف کی حاضری سے معافی میں توسیع کردی جب کہ رمضان شوگر ملز اور آشیانہ کیس میں شہبازشریف کی مستقل حاضری سے استثناء کی درخواست منظور کرلی ہے. احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل اور رمضان شوگر ملز کیس کی سماعت سے شہباز شریف کی حاضری سے مستقل استثنٰی کی درخواست تاحکم ثانی منظور کرلی ہے۔احتساب عدالت کے جج امجد نذیر نے قومی اسمبلی کے قائد حزبِ اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی حاضری سے مستقل استثنیٰ کی درخواست پر محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا۔
لاہور کی احتساب عدالت میں چوہدری شوگر ملز کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں حمزہ شہباز اور یوسف عباس کو سخت سیکیورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت نے مریم نواز کے کزن یوسف عباس اور حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 31جنوری تک توسیع کردی۔
دورانِ سماعت سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل امجد پرویز نے ان کی میڈیکل رپورٹیں عدالت میں جمع کروا دیں اورمؤقف اختیار کیا کہ نوازشریف کا بیرون ملک علاج چل رہا ہے، ڈاکٹر نے انہیں بیرون ملک رکھنے کی ہدایت کی ہے جس پر عدالت نے نوازشریف کی حاضری معافی میں توسیع کردی ۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس نومبر میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف حکومت کی اجازت سے علاج کے لیے لندن گئے تھے۔ان کے ساتھ ان کے بھائی شہباز شریف اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی تھے جو اب بھی لندن میں مقیم ہیں۔
عدالت نے تاحکمِ ثانی مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ شہباز شریف کی غیر موجودگی میں ان کے خلاف ٹرائل جاری رہے گا۔
یاد رہے کہ لاہور کی احتساب عدالت نے پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو 7جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔
دوسری جانب احتساب عدالت میں شہباز شریف کے خاندان کے اثاثے منجمد کرنے کے خلاف اعتراضات پر مشتمل درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت میں وکیل نے موقف اختیار کیا کہ عدالت نے 9 کمپنیوں اور دیگر اثاثہ جات کو منجمد کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ خواتین اور کمپنیاں اس کیس میں ملزم نہیں ہیں اور نہ ان کے خلاف تحقیقات ہو رہی ہیں۔ شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے عدالت سے استدعا کی کہ اثاثے منجمد کرنے کا حکم واپس لیا جائے۔ جس پر عدالت نے نیب نے تفتیشی افسر کو ریکارڈ سمیت طلب کرتے ہوئے مزید سماعت 31 جنوری تک ملتوی کردی۔
خیال رہے کہ نیب نے منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے اثاثے منجمد کرنے کی استدعا کی تھی۔عدالت نے مذکورہ درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے شہباز شریف، ان کے صاحبزادوں حمزہ شہباز اور سلیمان شہباز کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم دیا تھا۔اس کے علاوہ عدالت نے شہباز شریف کی دونوں بیویوں، نصرت شہباز اور تہمیہ درانی کے نام موجود اثاثے منجمد کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ عدالتی حکم کے بعد شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ اپنے اثاثے فروخت نہیں سکیں گے اور نہ ہی جائیداد سے ہونے والا منافع انہیں ملے گا۔
