احسان اللہ احسان کے فرار پر محسن داوڑ کے حکومت سے تین سوالات

پشتون تحفظ موومنٹ پی ٹی ایم کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے ریاستی اداروں کے زیر حراست تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار ہونے پر حکومت سے وضاحت کرنے کا مطالبہ کر دیا. قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے محسن داوڑ نے نکتہ اعتراض پر استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اب تک احسان اللہ احسان کے فرار کے حوالے سے کوئی ذمہ دارانہ بیان سامنے نہیں آیا کہ احسان اللہ احسان ملک سے فرار ہو گیا ہے یا اس حوالے سے بین الاقوامی میڈیا میں آنے والی خبریں غلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں وفاقی حکومت سے تین سوال کر رہا ہوں کہ احسان اللہ احسان کیسے گرفتار ہوا،اسے کس عدالت میں پیش کیا گیا اور کس جیل میں رکھا گیا تھا۔ محسن داوڑ نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر ایوان کی ایک کمیٹی بنائی جائے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں،جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر پردہ نہیں ڈال سکتی۔ گرفتاری کے وقت احسان اللہ احسان کو ایک بین الاقوامی مجرم کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔اب وہ اچانک ہی ہاتھوں سے نکل گیا۔اگر کوئی مک مکا یا این آر او ہوا ہے تو ان کیمرہ بریفنگ میں ہی ایوان کو اعتماد میں لیا جائے۔اگر ایف اے ٹی ایف نے اس بارے میں پوچھ لیا تو حکومت کے پاس کیا جواب ہو گا۔
خیال رہے کہ احسان اللہ احسان نے2017 میں رضاکارانہ طور پر خود کو انٹیلی جنس اداروں کے حوالے کیاتھا. ابتدائی تفتیش کے بعد احسان اللہ احسان نے 26 اپریل 2017 کو اعترافی بیان دیا جس میں اس نے اپنے ہینڈلرز اور سہولت کاروں کو بے نقاب کیا تھا۔ اپنے فرار کے بعد احسان اللہ احسان نے سوشل میڈیا پر ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ وہ پاکستانی تحویل سے نکل گیا ہے اور خیر خیریت سے ترکی پہنچ چکا ہے ۔احسان اللہ کے آڈیو بیان کے مطابق اس نے تین سال پہلے پاکستانی سکیورٹی حکام کے ساتھ ایک ڈیل کے تحت خود کو ان کے حوالے کیا لیکن ڈیل کے تحت جو وعدے کیے گئے تھے وہ پورے نہ ہوئے۔ تاہم افضل خان ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ احسان اللہ کو اسی ڈیل کے تحت رہا کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں پشتون تحفظ موومنٹ کا الزام ہے کہ احسان اللہ احسان جیسے قاتلوں کو اعلی افسران کی پشت پناہی حاصل رہی ہے۔تاہم پاکستانی فوج ان الزامات کو رد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ فوج نے ملک سے دہشت گردی ختم کرنے کے لیے بڑی قربانیاں دی ہیں۔پاکستانی میڈیا پر بعض ریٹائرڈ فوجی افسران کا کہنا ہے کہ احسان اللہ احسان نے سرنڈر کرنے کے بعد فوج کے انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور ایسی معلومات دیں جن سے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی میں بڑی مدد ملی۔ لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ احسان اللہ احسان نے خود تو لوگوں کو نہیں مارا تھا اور وہ تو محض ترجمان تھا اس لیے ایسے افراد کے لیے گنجائش رکھنی چاہیے لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں حکام میڈیا کے ذریعے لوگوں میں احسان اللہ احسان جیسے جرائم پیشہ شخص کے لیے نرم گوشہ اور ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button