حکومت بتائے اے پی ایس کے بچوں کا قاتل احسان اللہ احسان کہاں ہے؟

مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما اور سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا ہے کہ آرمی پبلک سکول میں معصوم بچوں کو قتل کرنے والا احسان اللہ احسان کہاں ہے؟، احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کے بعد علی امین گنڈا پور کے کلبھوشن کے ملک سے باہر چلے جانے کے بیان کو بھی سنجیدہ لینا ہوگا،
سینیٹر مشاہد اللہ نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک میں ہو کیا رہا ہے؟ حکومت بتائے کہ آرمی پبلک سکول کے معصوم بچوں کا قاتل احسان اللہ احسان کہاں ہے؟ جواب دینا حکومت کا کام ہے کسی اور کا نہیں ۔ مشاہد اللہ نے کہا ہے کہ ایک وفاقی وزیر نے ٹی وی پر آکر کہا تھا کہ کلبھوشن جا چکا ہے، میں مطالبہ کرتا ہوں کہ کلبھوشن کو ٹی وی پر لا کر دکھایا جائے کہ وہ کہاں ہے۔ مشاہد اللہ نے کہا کہ پہلے وفاقی وزیر کی بات کو ہم نے زیادہ سنجیدہ نہیں لیا ، تاہم ہو سکتا ہے کہ کلبھوشن ملک سے باہر چلا گیا ہو۔ احسان اللہ احسان کے فرار ہونے کے بعد اس معاملے کو سنجیدہ لیناہوگا۔ تحریک انصاف ہماری حکومت میں کلبھوشن کا بہت نام لیتی تھی اب خاموش ہے۔ مشاہد اللہ نے کہا مجھے اب سمجھ آیا ‘اے پی ایس شہداء کے وارث ٹھیک کہتے تھے کہ یہ واقعہ خود کرایا گیا ہے.


واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک آڈیو پیغام میں سینکڑوں پاکستانیوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرنے والے تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان نے انکشاف کیا ہے کہ ریاستی اداروں نے جب معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں ان کے بیوی بچوں سمیت قید میں ڈال دیا تو انہوں نے فرار ہونے کا فیصلہ کیا اور پھر 11 جنوری 2020 کو وہ حراست سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ سوشل میڈیا پر شئیر کیے گئے آڈیو پیغام میں احسان اللہ نے کہا کہ پانچ فروری 2017 کو ایک معاہدے کے بعد انھوں نے خود کو پاکستان کے خفیہ اداروں کے حوالے کر دیا تھا۔ انھوں نے تین برس تک اس معاہدے کی پاسداری کی لیکن سیکیورٹی اداروں نے انھیں بیوی بچوں سمیت قید کر لیا تھا۔ ان تین برسوں میں پاکستانی فوج نے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے اور معاہدے کی خلاف ورزی کی‘ جس کے بعد وہ ’اپنی رہائی کے منصوبے پر کام کرنے کے لیے مجبور ہوئے‘۔ دو منٹ طویل اس آڈیو پیغام کے مطابق احسان اللہ احسان مبینہ طور پر 11 جنوری کو بھاگنے میں کامیاب ہوئے۔ آڈیو پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ وہ پاکستانی اداروں اور فوج کے بارے میں اوراپنی گرفتاری، اداروں سے ہونے والے معاہدے اور پھر وہاں سے فرار کے حوالے سے مزید تفصیلات بعد میں دیں گے اور بہت سے چہروں کو بے نقاب کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button