احسان اللہ احسان فرار،سینیٹ کمیٹی داخلہ نے رپورٹ طلب کرلی

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے ملک سے فرار ہونے پر تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے.
سینیٹر جاوید عباسی نے یہ معاملہ سینیٹر رحمٰن ملک کی زیر صدارت کمیٹی کے اجلاس کے دوران اٹھایا جہاں انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ کس طرح ہائی پروفائل شخص قید سے فرار ہوا۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ کو احسان اللہ احسان کی فراری اور ان کے آڈیو پیغام پر 3 روز میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے.
واضح رہے کہ چند روز قبل میڈیا میں خبریں گردش کر رہی تھیں کہ ٹی ٹی پی کے سابق رہنما مبینہ طور پر جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں اور بعد ازاں انہوں نے پیغام بھی جاری کیا تھا۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی (ترمیمی) بل 2019 کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی سے چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے حکومت اور اپوزیشن کے کم از کم ایک ایک نمائندوں کو قومی انسداد دہشت گردی اتھارٹی کے بورڈ آف گورنرز کے لیے نامزد کیا جانا چاہیے۔ بل کو وزارت پارلیمانی امور اعظم خان سواتی کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔
کمیٹی نے اسلام آباد میں گداگری کی روک تھام بل 2019 اور زیر حراست، گرفتار یا زیر حراست تحقیقاتی بل 2019 کے تحت افراد کے حقوق کو ملتوی کردیا۔ اجلاس میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاری کرفیو کی مذمت کی گئی اور بین الاقوامی برادری سے مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی پامالی اور انسانی بحران کا نوٹس لینے پر زور دیا گیا۔ کمیٹی نے کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی اور چینی حکومت اور عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ اجلاس کے دوران آن لائن رقم کی منتقلی کی سہولت کا استعمال کرتے ہوئے نامعلوم افراد کی جانب سے لوگوں کو لوٹنے کے لیے جعلی کالز کرنے کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ کمیٹی نے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کو اس قسم کی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کی۔
کمیٹی نے پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو آگاہ کرنے کا کہا کہ کس قانون کے تحت موبائل فون کمپنیاں مالی معاملات دیکھ رہی ہیں اور انہیں کس قانون کے تحت اس کے لائسنس دئیے گئے ہیں۔ کمیٹی نے اس حوالے سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے گائیڈ لائنز طلب کرلیں تاکہ ان تمام سرگرمیوں کو ریگولیٹ کیا جاسکے اور ان کا غلط استعمال روکا جاسکے۔
رحمٰن ملک نے اجلاس کو بتایا کہ انہوں نے اسٹیٹ بینک کے گورنر سے بات کی تھی جنہوں نے آن لائن رقم کی منتقلی کے معاملات پر فکر مند حکام کی معاونت کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انہوں نے اجلاس میں موبائل سیلیولر کمپنی جیز کا نمائندہ نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور پی ٹی اے کو کمپنی کو شو کاز نوٹس جاری کرنے کی ہدایت کی۔ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پاکستان میں کام کرنے والی تمام سیلیولر کمپنیاں جو مالی ٹرانزیکشنز بھی دیکھتی ہیں، پیش ہونی چاہیں’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button