اسحاق ڈار کی رہائش گاہ میں مقیم افراد کو قریبی پارک میں منتقل کرنے کا فیصلہ

پنجاب حکومت نےعدالتی فیصلے کے بعد سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی رہائش گاہ سے پناہ گاہ قریبی پارک میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے. اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کو خالی کر کے عقب میں موجود پارک میں عارضی پناہ گاہ قائم کر کے کھانے اور رہائش کا بندوبست کیا جائے گا۔
لاہور ہائیکورٹ نے اسحاق ڈار کی رہائشگاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر،اسٹنٹ کمشنر اور ڈائریکٹر سوشل وئیلفئیر سے 10 مارچ کو جواب طلب کر لیاہے۔جس کے بعد سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کو خالی کر کے عقب میں موجود پارک میں عارضی پناہ گاہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پارک میں کنٹینر لگا کر آنے والے افراد کو ٹھہرایا جائے گا اور کھانے کا بندوبست بھی کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پناہ گاہ میں بے گھر افراد کے لیے لگایا جانے والا سامان واپس نکالا جائے گا،ضلعی انتظامیہ پناہ گاہ آنے والے افراد کے لیے متبادل انتظامات کرے گی۔ کنٹینر میں سونے اور کھانے پینے کی سہولیات فراہم کی جائے گی۔
واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی رہائشگاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کیخلاف حکم امتناع جاری کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے 10روزمیں جواب طلب کیا ہے۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے اسحاق ڈار کی اہلیہ تبسم ڈارکی درخواست پرسماعت کی درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ پنجاب حکومت نے گھر کو غیر قانونی طور پر پناہ گاہ میں تبدیل کیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے رہائشگاہ کی نیلامی کیخلاف حکم امتناعی جاری کررکھا ہے لہٰذاپنجاب حکومت کا اقدام خلاف آئین اور خلاف قانون ہے،پنجاب حکومت نے ہائیکورٹ کے حکم کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ استدعا کی گئی تھی کہ پنجاب حکومت کے اقدام کو کالعدم قرار دیاجائے۔ عدالت نے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے دس روز میں جواب طلب کر لیا تھا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button