ادارے اپنے اپنے دائرے میں کام کریں گے تو ملک مضبوط ہوگا

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے الیکشن کمیشن اراکین کی تقرری کے حوالے سے درخواست نمٹاتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن اراکین کی تقرری کا کریڈٹ پارلیمنٹ کو جاتا ہے اور پارلیمنٹ کا وقار ہر صورت برقرار رہنا چاہیے۔ ایگزیکٹو اتھارٹی پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے، عدالتوں کو نہیں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا معاملہ حل ہوگیا اور یہ کریڈٹ پارلیمنٹ، اس کے ہر رکن اور عوام کو جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس عدالت نے معاملے میں مداخلت نہیں کی اور معاملہ پارلیمنٹ پر ہی چھوڑا تھا کیوں کہ پارلیمنٹ کا وقار ہمیشہ مقدم رہنا چاہیے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کوئی اختلاف ہو تو بات چیت سے ہی حل ہونا چاہیے، پارلیمنٹ اور جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہے کہ مل بیٹھ کر معاملات حل کریں۔ اس موقع پر معزز چیف جسٹس نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایگزیکٹو اتھارٹی پارلیمنٹ کو جوابدہ ہے، عدالتوں کو نہیں، ادارے اپنے اپنے دائرے میں کام کریں گے تو ہی ملک مضبوط ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم سب کو اپنی اپنی انا سے اوپر ہو کر سوچنا ہوگا اور پارلیمنٹ مضبوط ہوگی تو ہی ملک مضبوط ہوگا۔
دوران سماعت وفاقی حکومت نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی رپورٹ جمع کروا دی جس میں بتایا گیا کہ عدالتی حکم پر رکن سندھ اور بلوچستان کی تعیناتی کر دی گئی۔ سندھ سے نثار درانی اور بلوچستان سے شاہ محمود جتوئی کو رکن مقرر کر دیا گیا اور 24جنوری کو صدر مملکت کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔
اس موقع پر درخواست گزار محسن شاہنواز رانجھا نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں مستقبل میں ایسے غیر آئینی اقدامات روکنے کے لیے عدالت احکامات جاری کرے، یہ درست ہے کہ آئین پارلیمان بناتی ہے لیکن آئین کی محافظ عدالتیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں عدالت مستقبل کےلیے گائیڈ لائنز ضرور جاری کرے اور حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ضرور سراہنا چاہوں گا جنہوں نے اس معاملے پر ہم سے تعاون کیا اور بات سنی۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال 26جنوری کو الیکشن کمیشن اراکین کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کے سبب سندھ اور بلوچستان کے اراکین الیکشن کمیشن کے تقرر کا عمل تعطلی کا شکار تھا۔
حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے معاملہ حل نہ ہونے پر مسلم لیگ ن کے رکن قومی اسمبلی محسن شاہنواز رانجھا نے عدالت میں معاملے کے حل کےلیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔
