اداکارہ مشعل خان موت کے منہ سے کیسے واپس آئیں؟


بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ڈرامہ سیریل ’سنو چندا‘ سے ایکٹنگ کا آغاز کرنے والی اداکارہ مشعل خان تین بار موت کے منہ سے واپس آئی ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کا ’ایٹنگ ڈس آرڈر‘ یا کھانے پینے کی بے ترتیبی کا مسئلہ تھا۔ اسی مسئلے کی وجہ سے انکی بینائی بھی چلی گئی تھی جو بعد میں علاج سے بحال ہوئی۔ یاد رہے کہ ‘ایٹنگ ڈس آرڈر’ میں یا تو کوئی انسان بہت زیادہ کھانا شروع کر دیتا ہے اور یا کھانا بالکل ہی چھوڑ دیتا ہے۔

تین بار موت کے منہ میں جانے کا انکشاف مشعل خان نے ایک انٹرویو میں کیا جس میں انہوں نے شوبز دنیا میں پیش آنے والی مشکلات پر بھی کھل کر بات کی۔ مشعل نے بتایا ان کا تعلق ایک اچھے خاصے پڑھے لکھے کاروباری گھرانے سے ہے جسکے تمام افراد نے بزنس، قانون اور میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رکھی ہے۔ لیکن انہیں بچپن سے ہی آرٹ میں دلچسپی تھی اور وہ خاندان کے دیگر افراد کے نقش قدم پر نہیں چلنا چاہتی تھیں۔ وہ جب گھر والوں کو بتاتی تھیں کہ انہیں اداکاری کرنا ہے تو وہ اظہار تعجب کیا کرتے تھے۔ مشعل نے بتایا کہ انہوں نے بیرون ملک تعلیم حاصل کی لہذا فاسٹ فوڈ کی وجہ سے انہوں نے اپنا وزن بہت بڑھا لیا تھا۔ اس بنا پر انہیں زمانہ طالب علمی میں موٹی کہہ کر تنگ بھی کیا جاتا تھا۔ ان کے چند بے حس کلاس فیلوز نے انکے موٹاپے کو بدصورتی کے سے جوڑ دیا تھا، یعنی ان کے دوستوں کی نظر میں فربہ ہونا اچھی بات نہیں تھی۔ اس کو باڈی شیمنگ کہا جاتا ہے لہذا وہ اپنے کلاس فیلوز کے ہاتھوں باڈی شیمنگ کا شکار ہو گیئں۔

مشعل خان نے لوگوں کی جانب سے، خصوصا خواتین کو وزن، رنگ اور جسامت کی بنا پر تنگ کرنا ایک خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ بچے معصوم ہوتے ہیں، درحقیقت آج کے بچے بزرگوں کے بھی بڑے بن چکے ہیں اور اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ زمانہ طالب علمی میں موٹاپے کا شکار ہونے کے بعد انہوں نے اپنا وزن کم کرلیا تھا مگر جب وہ یونیورسٹی پہنچیں تو انہون نے گوشت اور انڈوں سمیت ایسی غذا کھانا شروع کر دی جو تیزی سے وزن بڑھاتی ہے۔ مشعل کے مطابق انہوں نے ایسی غذائیں یہ سوچ کر شروع کیں تھیں کہ وہ ابہیں طاقت دیں گی۔ تاہم انہیں یہ علم نہیں تھا کہ یہ ان کا وزن بھی بڑھا دیں گی۔

اداکارہ کا کہنا تھا کہ دوبارہ سے موٹاپے کا شکار ہو جانے پر لوگوں کے طعنوں کی وجہ سے وہ شدید ذہنی الجھن اور پریشانی کا شکار ہو گئیں اور ’ایٹنگ ڈس آرڈر‘ میں مبتلا ہوگئیں، انہوں نے کھانا پینا بالکل چھوڑ دیا کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ اگر وہ کھائیں گی تو انکا وزن اور بڑھ جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اتنی کمزور اور لاغر ہو گئیں کہ موت کے منہ میں جاتے ہوئے بچیں، انہیں تین بار ہسپتال پہنچا کر انکی جان بچائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: فوج دفاع کیلئے ہے کاروبار کیلئے نہیں
مشعل خان نے بتایا کہ کھانا پینا چھوڑنے کے بعد ایک مرتبہ سفر کے دوران اچانک ان کی بینائی چلی گئی اور انہیں دکھائی دینا بند ہوگیا۔ ان کی آنکھوں کا علاج شروع ہوا تو انہوں نے اللہ سے رو رو کر معافی مانگی اور دعا کی کہ یا اللہ میری بینائی واپس لوٹا دے، خوش قسمتی سے اللہ نے ان کی دعا سن لی اور ان کی بینائی بحال ہوگئی۔

Back to top button