پٹرول سستا کرنے کی بجائے عوام کو 10 روپے کا چونا لگ گیا


عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر جانے کے باوجود کپتان حکومت نے پٹرول سستا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے چالاکی دکھاتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ اس مہینے پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا حالانکہ اصولا عالمی منڈی میں تیل سستا ہو جانے پر پاکستان میں بھی پٹرول کی قیمت کم از کم 10 روپے کم کرنا چاہئے تھی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ کر دیا ہے لیکن اس کا فوری بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا جا رہا۔
عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے باوجود کپتان حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں آئندہ 15 روز تک کوئی تبدیلی نہ کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ پیٹرولیم لیوی اور جنرل سیلز ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ پیٹرولیم لیوی اور جی ایس ٹی میں اضافے کا فیصلہ عالمی مالیاتی فنڈز سے کیے گئے وعدوں کے تناظر میں کیا گیا ہے، ورنہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کم ہونے کی وجہ سے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 8 سے 10 روپے فی لیٹر تک کمی ہونی چاہیے تھی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا ایک حصہ دالر اور روپے کی شرح تبادلہ کے نقصان میں ضم ہو گیا جبکہ وفاقی حکومت نے پیٹرولیم لیوی اور جی ایس ٹی کی شرح میں اضافے کر کے تقریباً 6 روپے فی لیٹر کمی کو جذب کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی میں 2 روپے اور جی ایس ٹی میں اضافے سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح آئندہ 15 روز کے لیے پیٹرول لیوی 13 روپے 62 پیسے فی لیٹر ہو گئی جو اس سے قبل 9 روپے 62 پیسے تھی جبکہ پیٹرول پر جی ایس ٹی کی شرح 1.43 فیصد سے بڑھ کر 1.63 فیصد ہوگئی۔ اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی 9 روپے 14 پیدے سے بڑھا کر 13 روپے 14 پیسے کی گئی ہے جبکہ اس پر جی ایس ٹی میں بھی اضافہ کرتے ہوئے 6.75 فیصد کے بجائے 7.37 فیصد کردیا گیا ۔
مٹی کے تیل پر جی ایس ٹی 6.7 فیصد تھا جس میں اضافہ کر کے اسے 8.20 فیصد کردیا گیا، لائٹ ڈیزل آئل پر جی ایس ٹی میں بھی اضافہ کر کے اسے 0.20 فیصد کے بجائے 0.46 فیصد کردیا گیا ہے۔ مٹی کے تیل پر بھی لیوی 4 روپے سے بڑھا کر 5 روپے 91 پیسے فی لیٹر جبکہ ایل ڈی او پر 3 روپے 66 پیسے کردی گئی ہے۔
حکومتی نوٹی فکیشن کے مطابق پیٹرول کی ایکس ڈپو قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 145 روپے 82 پیسے جبکہ ایچ ایس ڈی کی قیمت بھی 142 روپے 62 پیسے کی موجودہ سطح پر برقرار ہے۔اسکے علاوہ مٹی کے تیل کی ایکس ڈپو قیمت 116 روپے 53 پیسے فی لیٹر اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت بھی بغیر کسی تبدیلی کے 114 روپے 7 پیسے فی لیٹر برقرار ہے۔
اس سے قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 8 سے دس روپے تک کمی ہو سکتی ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کو اوگرا کی تیل کی قیمتوں میں کمی بیشی کرنے کی جو سمری بھیجی گئی تھی اس میں پٹرول 8 سے 10 روپے فی لیٹر سستا کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔ چنانچہ پاکستانی میں پٹرول سستا ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔ واضح رہے کہ گشتہ ہفتے ترجمان وزارت خزانہ نے نوید سنائی تھی کہ دسمبر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہو سکتی ہے۔ ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم نے بھیناپنے ٹویٹ میں کہا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کم ہو کر72.91 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے لہذا  تیل کی قیمتوں میں کمی کا اثر یقینی طور پر درآمدات اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی پڑے گا۔ مزمل نے کہا کہ تھا کہ اللہ پاکستان  پر مہربان ہے، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت کم ہونے کے اثرات دسمبر کے مہینے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نظر آئیں گے۔ تاہم ایسا نہیں ہو پایا اور کپتان سرکار نے ایک مرتبہ پھر عوام کو دس روپے کی ریلیف دینے کی بجائے 10 روپے کا چونا لگا دیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں 10 فیصد سے زائد کی نمایاں کمی آئی۔ گزشتہ ہفتے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی فی بیرل قیمت میں ڈیڑھ سال کے دوران سب سے بڑی یومیہ گراوٹ دیکھنے میں آئی تھی لہذا امید کی جا رہی تھی کہ پاکستان میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی واقع ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: ظاہرجعفرکے ذہنی مریض ہونے کی درخواست دائر

Back to top button