کیا صدر علوی کے خلاف نااہلی کا ریفرنس دائر ہونے والا ہے؟


قانونی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ گورنر ہاؤس سندھ میں اپنے بیٹے کے کاروباری معاہدے کی تقریب منعقد کروانے اور پھر اس میں شرکت کرنے اور سرکاری وسائل کے استعمال کے الزامات پر صدر ڈاکٹر عارف علوی کے خلاف آئین پاکستان کی خلاف ورزی کے تحت نااہلی کا ریفرنس دائر کیا جا سکتا جسکے نتیجے میں ان کی چھٹی بھی ہوسکتی ہے۔
یاد رہے کہ آئین پاکستان کے مطابق صدر کے حلف میں لکھا گیا ہے کہ صدر اپنے ذاتی مفادات کو سرکاری کاموں اور فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہونے دیں گے۔ لہذا صدر عارف علوی نے ایسا کر کے آئین کی خلاف ورزی کی ہے جس پر ان کے خلاف کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ صدر کو نجی کاروباری معاہدوں کی تقریب میں شرکت سے اجتناب کرنا چاہیے تھا کیونکہ ان کا نام اب بھی ایک نجی کمپنی علوی ڈینٹل اپنی ویب سائٹ پر استعمال کر رہی ہے جو کہ انکے عہدے اور مفادات کا واضح ٹکراؤ ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے میں صدر پاکستان سے سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا ان کو معلوم ہے کہ انکا نام استعمال ہو رہا ہے اور اس کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں اور ان کے خلاف نا اہلی کی درخواست بھی دائر ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں ٹوئٹر پر ایک تقریب کی تصویر شیئر ہوئی جس میں صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور ان کی اہلیہ کو بیٹے اواب علوی کے ساتھ گورنر ہاؤس کراچی میں ایک تقریب میں شرکت کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر یہ کوئی سرکاری تقریب ہوتی تو معاملہ مختلف ہوتا لیکن یہ تقریب علوی ڈینٹل اور امریکی کمپنی کے مابین پاکستان میں کلینکس کی چین شروع کرنے کے شراکت داری معاہدے کی تھی۔ صدر پاکستان عارف علوی نے بھی ٹوئٹر پر اواب علوی کو اپنے دوستوں کے ساتھ اس نئی شراکت داری پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری بھی آئے گی۔
انکے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر تنقیدی پوسٹس میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا صدر عارف علوی کی اس تقریب میں شرکت مفادات کا ٹکراؤ نہیں اور ایک نجی کمپنی کی تقریب گورنر ہاؤس میں کیسے منعقد ہوئی؟ اس معاملے پر اواب علوی کا کہنا تھا کہ ہم نے یہ تقریب علوی ڈینٹل میں کرنی تھی لیکن قریب ہی ایک سکول ہے اور صدر کی آمد کا وقت سکول کی چھٹی کے وقت سے ٹکرا رہا تھا تو ایسے میں سکیورٹی کے مسائل ہوتے، سڑک بلاک ہوتی اور مجھے ڈر تھا کہ بدمزگی ہو جائے گی، لوگوں کو مشکل ہو گی۔ اسی لیے ہم نے یہ تقریب گورنر ہاؤس میں منتقل کر دی۔ انھوں نے کہا کہ اب مجھے اس بات کا احساس ہو رہا ہے کہ ہم نے معصومانہ طریقے سے تقریب کی جگہ بدلی کہ کسی کو تکلیف نہ ہو لیکن شاید یہ دانشمندانہ فیصلہ نہیں تھا۔ اس سوال کے جواب میں کہ ایک نجی کمپنی کی تقریب گورنر ہاؤس میں کیسے ہوئی تو اواب کا کہنا تھا کہ جہاں وی وی آئی پی افراد ہوں، ایسے کیس میں بہتر ہوتا ہے کہ آپ سکیورٹی کی وجہ سے کسی اور جگہ کی بجائے گورنر ہاؤس میں تقریب کر لیں جس کے لیے ہماری گورنر عمران اسماعیل سے بات ہوئی اور گورنر ہاؤس میں اس کی اجازت ہوتی ہے۔
سوشل میڈیا پر اس معاملے پر تنقید کے دوران مختلف سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ نون لیگ کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے ٹوئٹر پر لکھا کہ کس قانون کے تحت اور کیوں صدر پاکستان نے گورنر ہاوس کو اپنے نجی بزنس کی تقریب کے لیے استعمال کیا، حکومت کو اس کی وضاحت دینی ہو گی۔ شہزاد غیاث شیخ نے لکھا کہ اگر مریم نواز یا بلاول بھٹو نے صدارتی ہاؤس کو نجی بزنس کے منصوبے کے لیے یوں استعمال کیا ہوتا تو پھر کیا ہوتا؟ سینیئر صحافی ڈاکٹر معید پیرزادہ کے مطابق صدر عارف علوی کو اس معاملے کی وضاحت کرنی چاہیے۔ ادھر صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے ٹوئٹر پر ایک پوسٹ کی گئی ہے جس میں ان کے بطور صدر اس تقریب میں شرکت پر کوئی بات نہیں کی گئی تاہم انھوں نے اعتراف کیا کہ اواب علوی اور ان کے دوست کے درمیان معاہدے پر ان کی موجودگی میں دستخط کی تقریب کے لیے گورنر ہاؤس ایک اچھا انتخاب نہیں تھا۔

گورنر ہاوس میں منعقد ہونے والی اس تقریب کے اخراجات کے سوال پر اواب نے جواب دیا کہ یہ تقریب گورنر ہاؤس میں ضرور منعقد ہوئی لیکن اس کے تمام اخراجات جو تقریبا چالیس پچاس ہزار روپے تھے وہ انھوں نے خود ادا کیے جس کی رسید ان کے پاس موجود ہے۔ اس بزنس ڈیل سے متعلق سوال پر اواب کا کہنا تھا کہ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کا اس ڈیل سے قطعی کوئی تعلق نہیں اور نا ہی اس سے ان کا کوئی معاشی مفاد جڑا ہے اس لیے مفادات کے ٹکراؤ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اواب علوی کا کہنا تھا کہ اس ڈیل میں علوی ڈینٹل بھی شامل نہیں صرف اس کا نام استعمال کیا گیا۔ اس سوال کے جواب میں کہ اس تقریب میں صدر پاکستان نے کس حیثیت سے شرکت کی تو اواب کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر عارف علوی نے اس تقریب میں میرے والد کی حیثیت سے شرکت کی۔ ہاں وہ صدر پاکستان ضرور ہیں لیکن وہ میرے والد بھی ہیں۔ ان کے علاوہ میری والدہ اور اہلیہ بھی وہاں موجود تھیں، ڈاکٹر انس کا خاندان بھی موجود تھا کیوںکہ ہر کسی کے لیے ایسے اہم مواقع پر خاندان کی موجودگی اہمیت رکھتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر میں نے یہ تقریب ان کے بغیر کی ہوتی تو یہ ان کے ساتھ نا انصافی ہوتی اور میں ان کے بغیر یہ تقریب کر ہی نہیں سکتا تھا۔ ہم نے معصومانہ طریقے سے اس لیے تقریب کی جگہ بدلی کہ کسی کو تکلیف نہیں ہو گی لیکن شاید یہ دانشمندانہ فیصلہ نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ای وی ایم سے انتخابات نہ ہوئے تو فنڈز نہیں دینگے
تاہم ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا صدر مملکت کے بیٹے کی طرح کوئی عام پاکستانی بھی گورنر ہاؤس میں نجی کاروباری تقریب منعقد کرسکتا ہے اور کیا صدر مملکت کسی عام پاکستانی کی نجی کاروباری تقریب سے اس طرح سرکاری ٹی وی کے ذریعے خطاب کر سکتے ہیں؟

Back to top button