بشریٰ بی بی کی ملازمہ سڑک پر چنا چاٹ کیوں بیچنے لگی؟


وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سابقہ ملازمہ کا کہنا ہے کہ وہ شوہر کی بے اعتنائی کے بعد دنیاوی مشکلات کا شکار ہوئی تو دنیا والوں کی طرح بشریٰ بی بی نے بھی اس کی کوئی مدد نہ کی لہذا اب مجبوری میں اسے سڑک پر آلو چنے کا سٹال لگا کر روزی کمانا پڑ رہی ہے۔ اس غیرت مند خاتون کو افسوس تو ضرور ہے کہ بشریٰ بی بی نے مشکل وقت میں اس کی مدد نہیں کی لیکن اسکا کہنا ہے کہ وہ اب کبھی زندگی میں بشریٰ بی بی سے مدد کی درخواست نہیں کرے گی۔
لاہور میں آلو چنے بیچ کر اپنا اور اپنے تین بچوں کا پیٹ پالنے والی اس باہمت خاتون کا کہنا ہے کہ وہ خاتون اول بشریٰ بی بی کے گاؤں سے تعلق رکھتی ہے اور ان کی کئی نسلوں نے ان کے گھر کام کیا ہے۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے خود بھی بشریٰ بی بی کے گھر کام کیا ہے اور انکی خدمت کی ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اگرچہ بشری بی بی اب وزیراعظم ہاؤس کی مکین ہیں اور میرے لئے بہت کچھ کرسکتی ہیں لیکن انہوں نے میری مدد نہیں کی لہذا اب میں ان کے پاس کبھی مدد مانگنے نہیں جاؤنگی کیونکہ جب مجھے انکی ضرورت تھی تب انہوں نے میرا ساتھ نہیں دیا۔ اس باہمت خاتون کا کہنا ہے کہ اب تو مجھے خود محنت مزدوری کرکے روزی کمانے کا ہنر آ گیا ہے لہٰذا اب مجھے بشریٰ بی بی سمیت کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔میں خود ہی محنت کروں گی اور حق حلال کی کماؤں گی۔
لاہور میں آلو چنے بیچ کر روزی کمانے والی اس باہمت عورت کے خاوند نے دوسری شادی کرکے اسے تین کمسن بچوں کے ساتھ دردر کی ٹھوکریں کھانے کیلئے چھوڑ دیا تھا لیکن اب اسے خاوند سے بھی کوئی گلہ نہیں کیونکہ وہ اب محنت کر کے بچوں کا کھانا کماتی ہیں۔ خاتون کے مطابق وہ روزانہ ایک ہزار روپے کے چنے اور مصالحہ جات منڈی سے لا کر چنا چاٹ تیار کرتی ہے جسے وہ ایک مارکیٹ میں اسٹینڈ پر رکھ کر بیچتی ہے۔ وہ اللہ کا شکر ادا کرتی ہے کہ اسے کسی کہ سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑتے اور رزق حلال کمانے میں وقت گزر رہا ہے۔ خاتون نے بتایا کہ چنا چارٹ سے اسکی روزانہ 17 سو روپے کمائی ہوجاتی ہے جس میں سے 7 سو روپے اسکا کمیشن اور اہک ہزار روپے اسکے سامان کے نکل آتے ہیں۔ اس باہمت خاتون کے 3 بیٹے ہیں۔ بڑے کی عمر 11 سال، درمیان والے کی عمر 9 سال اور سب سے چھوٹے والے کی عمر ڈیڑھ برس ہے۔ خاتون کے مطابق اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اسکا سب سے بڑا بیٹا اسکول سے آنے کے بعد اسکے ساتھ مارکیٹ میں گرم انڈے بیچتا ہے کیونکہ اسے احساس ہے کہ اس کی ماں کس قدر محنت سے روزی کماتی ہے۔ یہ باہمت خاتون گھر سے صبح 10 بجے نکلتی ہے اور رات 12 واپس گھر جاتی ہے۔ خاتون اپنے دونوں بڑے بچوں کو پڑھا بھی رہی ہے تا کہ وہ بڑے ہو کر اچھے انسان بن سکیں۔
یہ بھی پڑھیں:اگلے 3 ماہ اہم ، کوئی وزیر ملک سے باہر نہ جائے

Back to top button