پٹرولیم مافیا کس طرح پاکستانی عوام کو لوٹ رہا ہے؟

پاکستان دنیا کے ان نرالے ممالک میں شامل ہے جہاں کی نکمی اور نااہل حکومتیں ملکی خزانہ بھرنے اور معیشت چلانے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر نت نئے ٹیکس عائد کرکے عوام کی جیبوں سے پیسے نکالنے میں مصروف ہیں جس کا نتیجہ ملک گیر ہوشربا مہنگائی کی صورت میں نکلتا ہے۔ ان ٹیکسوں کی ایک بڑی وجہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ سے حکومت پاکستان کی جانب سے مسلسل قرضے حاصل کرنا ہے۔ لہذا جب آئی ایم ایف پاکستان کو قرضہ دیتا ہے تو اس کی واپسی کے لیے لئے پیشگی یقین دہانی حاصل کرتا ہے چنانچہ حکومت اس کی تسلی کروانے کے لیے عوام پر ٹیکس عائد کر دیتی ہے جو کہ پیٹرول کی مجموعی قیمت میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ لہذا اس وقت پاکستان میں پٹرول کی قیمت خطے کے تمام ممالک سے زیادہ ہے جس کا خمیازہ پاکستانی عوام بھگت رہے ہیں۔
جنوبی افریقہ میں کرونا وائرس کی نئی قسم کی تشخیص، جرمنی، آسٹریا میں لاک ڈاؤن اور عالمی طاقتوں کا تقریباً آٹھ کروڑ بیرل تیل دفاعی ذخیروں سے نکالنے کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں ایک دن میں 10 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ فی بیرل تیل تقریباً 82 ڈالرز سے کم ہو کر 73.45 ڈالرز فی بیرل تک آ چکا ہے۔ اس کا فائدہ پاکستانی عوام کو ہوگا یا نہیں اس حوالے سے وزرات پیٹرولیم کے ایک عہدے دار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ آنے والے دن اچھی خبر لاتے دکھائی نہیں دے رہے کیونکہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے ارادہ نہیں رکھتی۔ انکا کہنا تھا کہ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات پر پیٹرولیم لیوی صفر ہونے کا دعوی آدھا درست ہے۔ پیڑول پر پیٹرولیم لیوی صفر ہے لیکن ڈیزل پر ابھی بھی تقریباً نو روپے پیٹرولیم لیوی وصول کی جا رہی ہے۔
اگر پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی بات کریں تو فی لیٹر پیٹرول پر تقریباً 26 روپے سیلز ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے اور ڈیزل پر تقریباً ایک روپیہ فی لیٹر سیلز ٹیکس چارج کیا جاتا ہے۔
اچھا منافع کمانے کے باوجود سرکار ماہانہ بنیادوں پر چار روپے پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا اعلان کر چکی ہے جو کہ ایک اندازے کے مطابق جون 2022 تک بڑھائی جاتی رہے گی۔ اس وقت پیٹرول پر لیوی صفر ہے جسے 30 روپے تک لے جانے کا ہدف ہے۔ حفیظ شیخ نے مارچ 2021 میں پیٹرولیم لیوی پانچ روپے سے بڑھا کر 30 روپے کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ جون 2021 میں پیش کیے گئے بجٹ میں 601 ارب روپے کی آمدن ظاہر کی گئی جو کہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں ہے۔ پاکستان سالانہ تقریباً 20 ارب لیٹر پیٹرولیم مصنوعات استعمال کرتا ہے۔ اگر اسے 30 سے ضرب دی جائے تو یہ 600 ارب روپے بنتی ہے۔ حکومت نے وعدہ کرنے اور بجٹ میں ظاہر کرنے کے باوجود لیوی نہیں بڑھائی تھی۔ اب آئی ایم ایف نے قیمت بڑھانے کے لیے الٹی میٹم دیا ہے۔ چنانچہ یکم دسمبرسے چار روپے فی لیٹر اضافے کی شروعات کے بعد آئی ایم ایف سے قرض کی اگلی قسط موصول ہو گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم نہ ہوئیں تواندازے کے مطابق جون 2022 تک پیٹرول 170 سے 180 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتا ہے، جس سے مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔ اس وقت پاکستان میں تیل عالمی مارکیٹ کے مقابلے میں 15 سے 20 فیصد مہنگا بیچا جاتا ہے۔ یہ اضافہ ٹیکسز کے علاوہ ہے اور حکومتی خزانے میں جمع ہونے کی بجائے کی تیل تقسیم کار کمپنیوں اور آئل ریفائنریز کے پاس چلا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کی طرح سعودی امداد پر بھی کڑی شرائط عائد
ناقدین کا کہنا ہے کہ عوام کو ان معلومات سے بے خبر رکھا جاتا ہے جبکہ ہونا یہ چاہیے کہ سرکار پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری سے لے کر پیٹرول پمپس تک پہنچانے کا پورا حساب ماہانہ بنیادوں پر عوام کے سامنے رکھے۔ لیکن پٹرولیم مافیاز کے بےنقاب ہونے کے ڈر سے اسے چھپایا جاتا ہے اور یہ طاقتور مافیا ہمیشہ سے حکومت کا حصہ ہیں۔
