گورنر پنجاب سرور نے اپنی حکومت کو کیوں چارج شیٹ کیا؟

گورنر پنجاب چوہدری سرور کی جانب سے دورہ برطانیہ کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی بدترین کارکردگی کے اعتراف اور اسکی ناکامی پر تنقید کے بعد لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے ذہن بنالیا ہے۔ چوہدری محمد سرور کے قریبی رفقاء کا کہنا ہے کہ وہ تحریک انصاف سے راہیں جدا کرنے کا ذہن بنا چکے ہیں اور اب صرف کسی مناسب موقع کی تلاش میں ہیں کیونکہ انہیں بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ کپتان حکومت کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔
نواز شریف کے پچھلے دور حکومت میں گورنری چھوڑ کر تحریک انصاف جوائن کرنے والے گورنر پنجاب چوہدری سرور نے لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کا المیہ ہے کہ لوگ شخصیات کے پیچھے بھاگتے رہے اور اس وجہ سے ادارے مضبوط نہیں ہو پائے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ انکی حکومت پاکستانی عوام کو ریلیف دینے اور پولیس اور عدلیہ میں اصلاحات لانے میں ناکام رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ پولیس، عدلیہ اور پراسیکیوشن میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن ان کی حکومت بھی ایسا کرنے میں ناکامی سے دوچار ہوئی ہے۔ چوہدری سرور نے کہا کہ بوسیدہ نظام عوام کے مسائل حل کرنے سے قاصر ہے۔ تاہم انہوں اسی سانس میں یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ ان کی گورنر بننے کی خواہش نہیں تھی لیکن پارٹی نے رسمی عہدہ دے کر انہیں سائیڈ لائن کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کوئی کام کا عہدہ دیا جاتا تو وہ ڈلیور کر سکتے تھے لیکن وہ اب بھی اپنے دائرہ اختیار میں آنے والی ذمہ دسریسں خوش اسلوبی سے ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہین۔
واضح رہے کہ اس سے قبل چوہدری سرور نے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ 13 اگست 2021ء کو انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھنے کے لیے پاکستان نہیں آیا، آئندہ انتخابات میں حصہ لوں گا۔ انکا کہنا تھا کہ میں پاکستان آرام اور آسائش کی زندگی گزارنے نہیں آیا تھا۔ میرا مقصد تھا کہ ملک کے غریب عوام کی حالت بہتر کر سکوں اور ملک میں قانون کی بالادستی قائم کر سکوں۔ ان کا کہنا تھا کہ میری خواہش تھی پکہ اکستان میں سیاسی جماعتیں ویسے ہی چلیں جیسے یورپ میں جمہوری طریقے سے چلتی ہیں۔ لہذا میں اس مقصد کے حصول کی خاطر یقینی طور پر اگلے انتخابات میں حصہ لوں گا۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چوہدری سرور تواتر سے تحریک انصاف حکومت کی پرفارمنس پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں جس سے یہ تاثر پختہ ہو رہا ہے کہ وہ موجودہ حکومتی سیٹ اپ میں خود کو مس فٹ محسوس کرتے ہیں۔ لندن میں انہوں نے ایک بار پھر حکومتی ناکامی کو تسلیم کیا ہے اور نام لئے بغیر الزام لگایا ہے کہ عمران خان نے انہیں درست پوزیشن پر کھلانے کی بجائے گورنر پنجاب لگا کر دراصل سائیڈ لائن کیا ہے جس کی وجہ سے وہ خود بھی پرفامنس نہیں دے سکے اور انہیں برطانیہ چھوڑ کر پاکستان آنے کا بھی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔ خیال رہے کہ پچھلے چھ برس میں چوہدری سرور بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ آئندہ انتخابات میں پنجاب سے عملی سیاست کا آغاز کریں گے۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق کسی بھی آئینی عہدے پر خدمات انجام دینے والے شخص کے لئے ضروری ہے کہ وہ انتخابی سیاست میں اترنے سے دو سال قبل اپنا عہدہ چھوڑ چکا ہو، لیکن چوہدری سرور کے قریبی حلقے اس نکتے سے اختلاف کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب پر یہ شرط لاگو نہیں ہوتی۔ بہر حال اس وقت سیاسی حلقوں میں یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ چوہدری سرور گورنری چھوڑنے کے بعد آیا اپنی الگ سیاسی جماعت بنائیں گے یا تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے ہی انتخابی سیاست میں حصہ لیں گے۔ گورنر پنجاب کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ گورنر سرور تحریک انصاف کی بیڈ گورننس کی وجہ سے سخت پریشان ہیں لہذا وہ پی ٹی آئی چھوڑ کر جہانگیرترین کی طرح اپنا الگ دھڑا تشکیل دے کر سیاسی میدان میں اتر سکتے ہیں۔ چوہدری سرور اپنی الگ سیاسی جماعت بنانے کی تردید کر چکے ہیں لیکن تاحال انہوں نے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لینے کا بھی اشارہ نہیں دیا۔
واضح رہے کہ فروی 2015ء میں چوہدری سرور نے تحریک انصاف میں باضابطہ طور پر شامل ہو نے کی تصدیق کی تھی اور بتایا تھا کہ تحریک انصاف جمہوریت پسند جماعت ہے اس لئے اس میں نے اس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چاول کی بمپر پیداوار سے ریکارڈ توڑ برآمد متوقع
2018 میں انہیں گورنر تعینات کیا گیا۔ یاد رہے کہ سرور مسلم لیگ (ن) دور میں بھی گورنر پنجاب کے عہدے پر تعینات تھے تاہم انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے طرز حکومت سے اختلاف کرتے ہوئے باقاعدہ چارج شیٹ کر کے گورنر شپ کے عہدے سے استعفیٰ دیدیا تھا جس کے کچھ ماہ بعد پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ مگر تین سال کی گورنری کے بعد چوہدری سرور کو معلوم ہوا ہے کہ انہیں گورنر لگا کر دراصل سائیڈ لائن کیا گیا تھا.
