اداکار علی رحمٰن ڈرامہ ’’گرو‘‘ کے کردار سے مطمئن کیوں ہیں؟

معروف اداکار علی رحمن کے مطابق انھوں نے ڈرامہ سیریل ’’گرو‘‘ کے کردار کو ادا کرنے کیلئے پہلے باقاعدہ تحقیق کی ہے اور اس کردار کو جاننے کی کوشش کی ہے، شاید اسی لیے میں اپنے کردار سے مطمئن ہوں اور لوگ اس کو کافی پسند کر رہے ہیں۔
پاکستانی ڈراموں پر اکثر اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ ساس بہو کے گھریلو جھگڑے کی کہانیوں میں پھنس کر رہ گیا ہے لیکن ناظرین جانتے ہیں کہ اکثر روایت سے ہٹ کر بہت بہترین ڈرامے بھی پیش کیے جاتے ہیں جو معاشرے میں موجود پس پردہ مسائل کو سامنے لا کر اس پر بحث کے نئے زاویے فراہم کرتے ہیں۔
’گرو‘ ایک ایسا ہی ڈرامہ ہے، اس ڈرامے میں ٹائٹل کردار یعنی گرو کا کردار علی رحمٰن خان ادا کر رہے ہیں، گرو کا کردار کرنے میں بہت محنت اور وقت صرف ہوا، اب تک اس کی عکس بندی چل رہی ہے، اس لیے علی رحمٰن خوش ہیں کہ ان کی محنت رنگ لا رہی ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایک اداکار کو اس طرح کے کردار کی ضرورت ہوتی ہی ہے، کیونکہ عام طور پر ہمارے یہاں کردار ملتے جلتے ہی ہوتے ہیں اس لیے جب کوئی منفرد کردار ملے تو فوراً جھپٹ پڑنا چاہئے اس لیے پہلی ہی ملاقات میں حامی بھر لی تھی اور کہا کہ یہ تو مجھے ہی کرنا ہے۔
علی رحمٰن کے مطابق یہ بہت اچھی اور ایک بہت انسان دوست کہانی ہے جسے کرنے کا اپنا ہی لطف ہے۔ میں نے کبھی نہیں سوچا کہ لوگ کیا کہیں گے یا ٹائپ کاسٹ کر لیں گے کیوںکہ اتنا کام کرتے ہوئے یہاں تک آیا ہوں اور پھر ایک اداکار کو اور کیا چاہئے۔
اپنے کردار گرو کے بولنے کے انداز یا لہجے کے بارے میں علی رحمٰن نے بتایا کہ وہ بہت سے لہجے استعمال کرتے تھے، مگر ان میں مزہ نہیں آرہا تھا، وہ بہت سے ایسے افراد سے ملے بھی اور ان سے گفتگو کر کے بالآخر یہ لہجہ بنا ہی ڈالا جو کامیاب رہا، گرو کے کردار میں قربانی، ہمت اور محبت کا جذبہ شامل ہے اور یہی اس کا خاصہ ہے۔ ابھی تک آپ نے دیکھا کہ ایک بچی ملی ہے جس کے ماں باپ ڈھونڈے جا رہے ہیں، اب یہ بچی گرو کی زندگی کو کیسے متاثر کرتی ہے، یہ ہے اصل کہانی۔
اپنے کردار پر ہونے والی نکتہ چینی کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ’اصل میں کوشش تو تھی کہ اصل خواجہ سرا ہی کام کریں اور آڈیشنز بھی کیے گئے، لیکن ابھی اداکاری کے شعبے میں اتنے زیادہ خواجہ سرا ہیں نہیں، علی رحمٰن نے خاص طور پر جوائے لینڈ کا ذکر کیا کہ اس میں علینہ کا کردار انہیں کافی پسند آیا تھا، اداکاری میں سکرپٹ یاد کرنا ہوتا ہے، شوٹ پر طویل وقت گزارنا ہوتا ہے، تو اتنے اداکار ملے نہیں، اگرچہ میری خواہش ہے کہ مزید خواجہ سرا اس جانب آئیں۔
علی رحمٰن نے کہا کہ ان کے والدین کی جانب سے جو تعریف کی گئی وہ ان کے لیے سب سے اہم ہے، خاص کر جب ان کی والدہ نے فون کر کے انہیں سراہا۔جانان میں علی رحمٰن کا کامیڈی کردار کافی پسند کیا گیا تھا، لیکن اس کے بعد انہوں نے کامیڈی کردار نہیں نبھائے، اس بابت ان کا شکوہ ہے کہ ’سکرپٹ ہی نہیں آ رہا، کچھ کامیڈی میں دیکھنے کو نہیں مل رہا، جیسے جانان لکھی ہوئی تھی، ویسا اب کچھ آہی نہیں رہا۔
مختلف کردار کرنے والی علی رحمٰن زیادہ تر منفی کردار کرتے رہے ہیں کیونکہ وہ ایسے کردار پسند کرتے ہیں اور اس میں اداکاری دکھانے کا زیادہ موقع ملتا ہے اس وجہ سے وہ اسے ترجیح دیتے ہیں، علی رحمٰن کو اداکاری کی دنیا میں حریم فاروق اور عمران کاظمی کی بہت مدد حاصل رہی ہے جنہوں نے جانان اور دیگر تین فلموں میں ان پر بھروسہ کیا اس وجہ سے وہ ان دونوں کے شکر گزار ہیں۔
