اداکار عمران عباس آخرت کی تیاری کیوں کر رہے ہیں؟

انسان اگر اپنی آخرت کو یاد رکھتے ہوئے زندگی بسر کرے تو وہ کئی دنیاوی الجھنوں سے بچ جائے اور اس قلیل سی زندگی میں بڑے بڑے خواب سجانے میں وقت ضائع کرنے کی بجائے اگلے جہاں کی تیاری رکھے۔
ایسا ماننا ہے ڈرامہ انڈسٹری کے ٹیلنٹڈ اداکار عمران عباس کا جنہوں نے انتہائی کم وقت اور کم عمری میں اپنی پہچان بنا لی۔ لیکن عمران عباس اسے کامیابی نہیں سمجھتے بلکہ ان کی نظر میں کامیابی انسانیت کے درد کو محسوس کرنا اور سمجھنا ہے۔۔۔
حال ہی میں دئیے گئے ایک انٹرویو میں اداکار عمران عباس اپنی مرحومہ بہن کو یاد کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔ کہنے لگے کہ کتنے پیارے لوگ ہم سے کتنی اچانک بچھڑ جاتے ہیں۔ ایک دن مجھے بھی جانا ہے پھر میں کیوں بڑی بڑی منصوبہ بندیاں کروں اور خواب دیکھوں؟ اتنا آگے کا کیوں سوچوں؟ میں چاہتا ہوں کہ جتنا ہوسکے انسانیت کیلئے اپنی استطاعت کے مطابق کچھ کر جائوں، زیادہ کچھ نہیں کر سکتا تو کسی کو مسکرا کر دیکھ لینے میں بھی خوشی محسوس کروں، پرندوں کو دانا ڈال کر سکون محسوس کرلوں یا چیونٹی کو کچھ کھانے کو ڈال دوں۔ یعنی کسی بھی انداز میں اچھائی کر جائوں، کیونکہ یہ سب رائیگاں نہیں جائے گا۔۔۔
اداکار کا کہنا تھا کہ میں یوں محسوس کرتا ہوں کہ میں نے زندگی کا زیادہ وقت گنوا دیا اب جو باقی وقت بچا ہے اس میں جلد از جلد سب اچھا کر لوں۔ چاہتا ہوں کہ میں بے معنی رشتوں اور بے وقعت جذبوں میں مزید وقت ضائع نہ کروں۔
اداکاری میں قدم رکھنے کے حوالے سے اداکار عمران عباس نے کہا کہ ان کی کبھی اداکار بننے کی خواہش نہیں تھی اور آج بھی اپنے آپ کو انڈسٹری سے دور کرنا چاہتا ہوں، یہی وجہ ہے کہ ایوارڈز سمیت دیگر کئی تقاریب میں جانا چھوڑ چکا ہوں۔ عمران عباس نے مزید کہا کہ یہ زندگی بے حد قیمتی ہے مگر بہت مختصر ہے۔ اس کا ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے اور ہر گزرتے پل کو کسی ایسے کام میں گزارنا چاہیے کہ پچھتاوا نہ ہو بلکہ کچھ فائدہ حاصل ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ فائدے سے مراد جسمانی فوائد حاصل کرنا نہیں بلکہ روح کی تسکین ہے۔۔۔
عمران عباس کہتے ہیں کہ میں زندگی سے مایوس بالکل نہیں ہوں بلکہ زندگی سے بہت کچھ حاصل کر چکا ہوں، اداکاری میں پاکستان سے لیکر بھارت تک فلم کر آیا ہوں۔ شہرت اور پیسہ دونوں کمایا اور اس سب پر خد کا شکر گزار ہوں، تاہم اب زندگی میں سب سے زیادہ خوشی ماں کے پاس یا اپنوں کے پاس بیٹھ کر ہی محسوس ہوتی ہے اور یہی حقیقی خوشی ہے جس کا جتنی جلدی احساس ہو جائے اتنا ہی بہتر ہے۔
