اداکار یوسف خان اور نور جہاں کا سکینڈل کیوں بنا؟

نصف صدی تک لولی ووڈ پر چھائے رہنے والے معروف پاکستانی اداکار یوسف خان کا ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ سکینڈل بہت مشہور ہوا جسکے دوران دونوں نے ایک ساتھ ادائیگی حج کا مقدس فریضہ بھی سرا انجام دیا تھا۔

آدھی صدی کے فلمی سفر کے دوران یوسف خان نے کئی اُتار چڑھاؤ دیکھے۔ چونکہ فلمی زندگی اور سکینڈل لازم و ملزوم سمجھے جاتے ہیں، اس لیے یوسف خان بھی اس سے مستشنٰی نہیں تھے۔ ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ ان کی دوستی جب گہرے تعلقات میں تبدیل ہوئی تو فلم انڈسٹری میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔ جب دونوں ایک ساتھ حج پر گئے تو قومی اخبارات میں شہ سرخیوں کے ساتھ یہ خبر شائع ہوئی کہ نور جہاں اور یوسف خان کی شادی ہو گئی ہے۔ بہر حال جب دونوں نے اس کی تردید کی تو آہستہ آہستہ اس افواہ نے دم توڑ دیا۔

یوسف خان 10 اگست 1931 کو مشرقی پنجاب کے شہر فیروز پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اردو فلموں سے کام شروع کیا لیکن انکو اصل شہرت پنجابی سنیما سے حاصل ہوئی۔ یوسف خان نے اگرچہ 1954 میں فلم ’پرواز‘ کے ذریعے اپنا فلی کیرئر شروع کیا تھا لیکن پانچ برس تک لاہور اور کراچی میں مسلسل جدو جہد کے بعد انہیں شمیم آراء اور جمیلہ رزاق کے ساتھ ایک ایسی فلم میں کام کرنے کا موقع ملا جس نے مستقبل کا راستہ ان کے لیے صاف کر دیا۔ یہ تھی 1959 میں بننے والی فلم ’فیصلہ‘ جہاں سے ایک چائلڈ سٹار کے طور پر اداکارہ دیبا کی فلمی زندگی کا بھی آغاز ہوا۔ پچاس کے عشرے میں انہوں نے حسرت، بھروسا اور ناگن نامی فلموں میں بھی کام کیا، لیکن حسرت کی ہائی لائٹ اداکارہ صبیحہ خانم تھیں جبکہ بھروسا میں اداکار علاءالدین نے ناظرین کو مٹھی میں لے رکھا تھا۔ ناگن میں بھی لوگوں کی توجہ کا اصل مرکز یوسف خان نہیں بلکہ سولہ سالہ نوجوان رتن کمار تھا جو چائلڈ سٹار کے طور پر بمبئی اور لاہور میں بے پناہ شہرت کمانے کے بعد اب پہلی بار ہیرو کے طور پر نمودار ہوا۔

یوسف خان کو ان فلموں میں اپنی ثانوی حیثیت کا پورا احساس تھا لیکن ساتھ ہی یہ یقین بھی تھا کہ ان فلموں سے حاصل ہونے والا تجربہ رائیگاں نہیں جائے گا۔ چنانچہ ساٹھ کے عشرے میں انہوں نے پوری لگن سے اپنا کام جاری رکھا اور فلم پہاڑن، خاموش رہو، دروازہ، سسرال، ملنگی، حاتم طائی، چن ویر، بدلہ، باؤ جی، تیرے عشق نچایا اور مکھڑا چن ورگا جیسی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اب فلم سازوں پر یہ واضح ہو گیا تھا کہ وہ اردو اور پنجابی میں یکساں مہارت کے ساتھ اداکاری کر سکتے ہیں۔ ستّر کی دہائی یوسف خان کے فنی عروج کا زمانہ تھا جب انہوں نے غرناطہ، چن پُتر، بابل، عزت تے قانون، جنگُو، خطرناک، سِدھارستہ، ٹکراؤ، ہتھکڑی، شریف بدمعاش، وارنٹ، حشر نشر، شگناں دی مہندی اور ایکسی ڈینٹ جیسی فلموں میں کام کیا۔ لیکن اس دور کی اہم ترین فِلم ضدی تھی۔

1973 میں بننے والی اس فلم کی یوسف خان کے لیے وہی اہمیت تھی جو اس سے ایک برس پہلے بننے والی فلم بشیرا کی سلطان راہی کے لیے تھی۔ جس طرح بشیرا کے بعد سلطان راہی فلم سازوں کی نگاہوں کا مرکز بنے اسی طرح ضدی کے بعد فلم سازوں نے یوسف خان کی شخصیت کو بنیاد بنا کر انکے لیے کردار لکھوانے شروع کر دیے۔ اسّی کی دہائی میں ریلیز ہونے والی یوسف خان کی مشہور فلموں میں اللہ راکھا، نظام ڈاکو، رستم تے خان، جھورا دھی رانی، قسمت اور غلامی شامل ہیں۔ نوے کی دہائی میں یوسف خان کا فن پختگی کی آخری منزل کو پہنچ چکا تھا اور آسمان، خداگواہ، بت شکن، بے تاج بادشاہ، آن ملو سجنا اور عمر مختار جیسی فلمیں ان کی منتظر تھیں۔

اکیسویں صدی کے دہلیز پر پہنچ کر یوسف خان کو ایک ایسا پاکستانی اداکار ہونے کا منفرد اعزاز ملا جو مسلسل نِصف صدی سے فلموں میں نمودار ہو رہا تھا۔ 2000 میں ریلیز ہونے والی ان کی فلم بُڈھا گجر نے ثابت کر دیا کہ یہ ہاتھی مر کے بھی سوا لاکھ کا رہے گا۔ان کی آخری فلم اتھرا تھی جو 2006میں نمائش کے لئے پیش کی گئی ۔یوسف خان اور سلطان راہی کی جوڑی کو فلم بینوں نے ہمیشہ پسند کیا اور دو نوں اداکاروں کی ایک ساتھ فلم میں اداکاری فلم کی کامیابی ضمانت تصور کی جاتی تھی ۔ یوسف خان نے اپنی فن کارانہ زندگی میں لاتعداد

اعزازات بھی حاصل کئے جن میں 2006 میں حکومت پاکستان کی جانب سے عطا کردہ صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سرفہرست ہے۔انہوں نے فلم ضدی، جبرو اور بت شکن اور فلم خدا گواہ میں بہترین اداکاری پر نگار ایوارڈ بھی حاصل کئے۔ اس کے علاوہ انہیں 1999میں نگار ملینئم ایوارڈ بھی دیاگیا ۔یوسف خان ایک طویل عرصہ تک فلمی فن کاروں کی تنظیم مووی آرٹسٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان کے روح و رواں بھی رہے۔ ان کو کبوتر بازی کا بھی بہت شوق تھا اور ان کے پاس سینکڑوں نایاب قسم کے کبوتر موجود تھے جن کا وہ بچوں کی طرح خیال رکھتے تھے۔ ان کا یہ شوق آخری دم تک برقرا رہا۔ یوسف کا انتقال 20 ستمبر 2009 کو لاہور میں ہوا۔

Back to top button