اسامہ بن لادن شہید ہے یا نہیں؟ شاہ محمود کی بولتی بند ہو گئی

ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران ایک افغان صحافی نے تب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بولتی بند کر دی جب اس نے یہ سوال داغ دیا کہ کیا وہ القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن کو شہید سمجھتے ہیں یا نہیں؟ سوال کا جواب دینے کے بجائے شاہ محمود قریشی گڑبڑا گئے اور سکتے میں آ گئے۔ مشکل یہ تھی کہ اگر وہ اسامہ کو شہید قرار دیتے تو پھنستے اور اگر ایسا نہ کرتے تو بھی پھنس جاتے۔ چنانچہ انہوں نے سر نیچے پھینک کر سوچنا شروع کر دیا اور پھر بولے کہ اس سوال کو چھوڑ دیجیے، میں اس کا جواب نہیں دوں گا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے افغان چینل ’طلوع نیوز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں سابق القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت سے متعلق کیے گئے سوال نے اب سوشل میڈیا پر بھی یہ بحث شروع کر دی ہے کہ اسامہ بن لادن ’شہید‘ ہیں کہ نہیں۔ ’طلوع نیوز‘ کے میزبان لطف اللہ نجفی زادہ نے اس انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان کے ایک بیان کا حوالہ دیا جب انہوں نے گذشتہ سال پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے اسامہ بن لادن کو ’شہید‘ قرار دیا تھا۔ اسی حوالے انہوں نے شاہ محمود قریشی کا موقف پوچھ لیا۔ انہوں نے جواب میں کہا کہ: ’وزیراعظم عمران خان کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا ہے‘۔ اس پر اینکر نے پوچھا کہ کیا آپ خود اسامہ بن لادن کو شہید سمجھتے ہیں؟ اس پر شاہ محمود قریشی نے لمبی خاموشی اور خاصی ہچکچاہٹ کے بعد کہا: ’میں اس سوال کا جواب نہیں دوں گا۔‘ (I will let that pass)
سوشل میڈیا پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے اس جواب پر سنجیدہ اور مزاحیہ دونوں طرح کے تبصرے جاری ہیں۔ فواد رحمان نامی صارف نے شاہ محمود قریشی کے جواب کو پاکستان کی خارجہ پالیسی کا نچوڑ قرار دیا۔
امریکہ میں موجود پاکستانی امور پر تبصرہ کرنے والے تجزیہ کار مائیکل کگل مین نے ٹوئٹر پر لکھا: ’شاہ محمود قریشی کا جواب اس بات اشارہ نہیں کہ وہ اسامہ بن لادن کو شہید سمجھتے ہیں بلکہ یہ پاکستان میں سیاسی حقائق کی طرف اشارہ کرتا ہے جس کی وجہ سے انہیں اس سوال کو چھوڑنا پڑا۔‘ عامر غوری نے ٹوئٹر پر شاہ محمود قریشی کے جواب پر لکھا کہ ’کچھ لوگوں کو ایسی کلاسوں کے لیے بھیجنا چاہیے کہ جہاں سکھایا جائے کہ ٹی وی انٹرویوز کی تیاری کیسے کی جائے۔‘
یاد رہے کہ شاہ محمود کی طرح عمران خان سے بھی 2016 میں ایسا ہی سوال کیا گیا تھا، جس پر انہوں نے جواب دینے سے معذرت کرلی تھی۔ اے آر وائی کے ایک پروگرام کے میزبان وسیم بادامی نے بھی یہی سوال عمران خان سے کیا تھا تو انہوں نے تب بھی جواب دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس حوالے سے دفاعی تجزیہ کار ماریہ سلطان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے لیے بن لادن کا مسئلہ، خاص طور پر جس طرح ان کے خلاف ایبٹ آباد آپریشن کیا گیا، وہ عالمی سطح پر بہت زیادہ شرمندگی کا سبب بنا۔‘’ دنیا بھر میں اس وقت مسئلہ ہے کہ ابھی تک تشریح نہیں کی جا سکی کہ بین الاقوامی دہشت گرد کون ہے اور اگر کسی کو آپ بین الاقوامی دہشت گرد کہہ رہے ہیں تو اس بین الاقوامی دہشت گردی کے خلاف آپ کون سے حربے استعمال کریں گے اور کن ریاستوں کو استعمال کریں گے۔‘ ان کا کہنا تھا: ’یہ تو نہیں ہو سکتا کہ آج آپ کے کہنے کے مطابق ایک گروہ دہشت گرد بن جائے اور دوسرا گروہ اسے دہشت گرد نہ سمجھے۔ یا تو آپ اس بات کا فیصلہ کریں کہ جو گروہ ریاست کی اجازت کے بغیر طاقت کا استعمال کریں تو انہیں دہشت گرد قرار دیا جائے۔‘
ماریہ نے کہا یاد رہے کہ القاعدہ کی بنیاد سی آئی اے نے رکھی اور پھر اس تنظیم نے افغان جہاد میں روسی افواج کے خلاف بڑا اہم کردار ادا کیا تھا۔ بعد ازاں کچھ لوگ متنفر ہوئے اور انہوں نے امریکہ کے خلاف کارروائی شروع کر دی۔ اس کے علاوہ القاعدہ کا ایجنڈا زیادہ تر مغربی ممالک کے خلاف تھا۔ اس لیے اس پر دو رائے پائی جاتی ہیں۔‘ دوسری جانب جنرل ریٹائر امجد شعیب کا کہنا تھا کہ ’افغان صحافی کے اس سوال پر شاہ محمود قریشی کو کہنا چاہیے تھا کہ میں کوئی علامہ یا مولوی نہیں کہ میں فتوے صادر کروں۔‘ امجد شعیب نے کہا: ’کیوں کہ اسامہ بن لادن متنازع آدمی ہیں، بعض لوگ انہیں شہید سمجھتے ہیں بعض نہیں سمجھتے، بعض دہشت گرد کہتے ہیں لہٰذا یہ کسی عالم دین سے پوچھنا چاہیے کہ وہ شہید تھے کہ نہیں۔‘ اسامہ بن لادن کے حوالے سے پاکستان کی ریاستی پالیسی سے متعلق سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ ’ہماری پالیسی یہ تھی کہ ہم اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنا چاہتے تھے اور اس کا ٹرائل کرنا چاہتے تھے، کیونکہ ہر آدمی جس پر الزام ہوتا ہے، اس کا حق ہے کہ اسے صفائی کا موقع دیا جائے۔‘
شاہ محمود قریشی کے بیان پر سوشل میڈیا پر جہاں سنجیدہ بحث ہو رہی ہے، وہیں مزاحیہ تبصرے بھی جاری ہیں۔
صحافی عادل شاہ زیب نے طنزاً لکھا: ’دو اہم انٹرویوز دیکھنے کے بعد۔۔ بہتر یہی ہو گا کہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں غیر ملکی صحافیوں کی پاکستان میں داخلے پر فوراً پابندی لگالیں۔ جب تک انٹرنیشنل میڈیا اور لوکل جلسے کا فرق ٹھیک سے نہ سمجھ لیں، تب تک انٹرویوز صرف مقامی محب وطن صحافیوں کو ہی دینے کی سٹریٹیجی جاری رکھیں۔‘ خاتون صحافی نائلہ عنایت نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’اگلی بار جب اسامہ بن لادن کے بارے میں کسی پاکستانی عہدیدار سے پوچھا جائے تو پالیسی بیان کے طور پر کہہ دیا جائے کہ اسامہ بن لادن سیاح تھے۔‘ نائلہ نے سوال کو ’آؤٹ آف سلیبس‘ بھی قرار دیا۔ اسی طرح ندیم فاروق پراچہ نے شاہ محمود قریشی کے جواب میں وقفے پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کی تصویر کے ساتھ لوڈنگ کی تصویر لگائی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جواب ابھی ’لوڈ‘ ہو رہا ہے۔
