اسامہ کا سراغ لگانے والا شکیل آفریدی کتنے برے حال میں ہے؟

القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں مبینہ طور پر امریکہ کی مدد کرنے والا پاکستانی ڈاکٹر شکیل اپنی 23 برس قید کی سزا میں سے نو برس سلاخوں کے پیچھے گزار چکا ہے اور برے حالات میں ہے۔ شکیل آفریدی کو مئی 2010 میں ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے بعد جاسوسی اور ملک سے غداری کے الزامات پر گرفتار کیا گیا تھا تاہم کاغذوں میں اسے یہ سزا القاعدہ کے سربراہ کی تلاش میں مدد دینے پر نہیں بلکہ ایک شدت پسند جہادی تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام میں سنائی گئی تھی۔ شکیل آفریدی نے اپنی اس سزا کا ابتدائی عرصہ پشاور کی سینٹرل جیل اورراولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں گزارا اور اب وہ ساہیوال کی اس ہائی سکیورٹی جیل میں قید ہے جسے ملک میں انتہائی خطرناک قیدیوں کو رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ پاکستان کے نیوکلیئر راز چوری کرنے کے الزام میں سزائے موت پانے والا بریگیڈیئر رضوان بھی ساہیوال جیل میں قید اپنی پھانسی کا انتظار کر رہا ہے۔
شکیل آفریدی کے بڑے بھائی جمیل آفریدی نے چند روز قبل اس سے جیل میں ملاقات کی۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے اس کا کہنا تھا کہ کرونا وبا کی وجہ سے وہ پانچ ماہ کے عرصے کے بعد اپنے بھائی سے ملنے میں کامیاب ہو سکا ہے جو کہ بری حالت میں ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ 11 جولائی کو اپنے بھائی سے ملا جبکہ اس سے قبل اس کی ملاقات 29 فروری 2020 کو ہوئی تھی۔ اپنی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے جمیل آفریدی، ڈاکٹر شکیل آفریدی کی صحت کے بارے میں شدید فکرمند دکھائی دیا۔ اس کا کہنا تھا کہ شکیل دورانِ اسیری بہت کمزور ہو گیا ہے اور اسکی طبیعت بھی ٹھیک نہیں۔ جمیل آفریدی کے مطابق ’جب میں نے جیل میں اس کی سرگرمیوں کے متعلق پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ جیل میں کچھ نہیں کر سکتا۔ ’اس کے پاس تو کوئی پینسل اور کاغذ بھی نہیں ہے کہ وہ کچھ لکھ سکے یا اپنی یادداشتیں محفوظ کر سکے۔ اسے تو کتابیں پڑھنے کی اجازت بھی نہیں ہے’۔
جمیل نے بتایا کہ شکیل آفریدی اپنے کیس کے بارے میں بہت پریشان اور فکرمند ہے۔ وہ نو برس سے قید میں ہے جو عمر قید سے بھی زیادہ لمبی قید ہو چکی ہے۔ اسکے مطابق شکیل آفریدی کو اس بات کا گلہ تھا کہ پشاور ہائی کورٹ میں اس کے مقدمے کی سماعت بار بار ملتوی ہو جاتی ہے اور کوئی پیش رفت نہیں ہو رہی؟ جمیل آفریدی کا کہنا تھا کہ شکیل کہتا ہے کہ اسے انصاف چاہیے، عدالتیں کیا کر رہی ہیں۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ اس نظام سے تو مایوس تھے لیکن خدا کی ذات سے مایوس نہیں تھے اور انھیں ضرور انصاف ملے گا۔ شکیل آفریدی کے مقدمے کی سماعت 30 جون 2020 کو ہونی تھی لیکن اس روز چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ چھٹی پر تھے اس لیے سماعت نہیں ہو سکی۔ شکیل آفریدی کے وکیل لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ اب تک اگلی سماعت کے لیے تاریخ مقرر نہیں کی جا سکی۔
لطیف آفریدی کا کہنا تھا 30 جون سے پہلے کی سماعت میں انھوں نے چیف جسٹس کے سامنے سارے حقائق رکھتے ہوئے موقف اپنایا تھا کہ اس مقدمے میں تاخیر کی جا رہی ہے جس پر عدالت نے اگلی سماعت پر اس کیس کو نمٹانے کے متعلق ریمارکس دیے تھے۔ ان کے وکیل کو اگلی سماعت میں پیش رفت کی امید ہے۔ لطیف آفریدی نے کہا کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ کیا فیصلہ ہو گا لیکن وہ موجود حقائق کی بنیاد پر دلائل دے سکتے ہیں جس سے وہ عدالت کو مطمئن کر سکتے ہیں اور ان حقائق اور دلائل کی بنیاد پر وہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ فیصلہ ان کے حق میں ہونا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ شکیل آفریدی کے خلاف جرم اب تک ثابت نہیں ہوا۔ لطیف آفریدی ایڈووکیٹ نے بتایا کہ شکیل آفریدی نے بہت وقت جیل میں گزار لیا ہے اور ادے ساہیوال جیل منتقل کرنا غلط اور غیر قانونی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے خاندان کے افراد کی ملاقات بھی مشکل سے ہوتی ہے اور اتنی دور کسی قیدی کو رکھنا انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے۔
یاد رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کو 2011 میں پشاور کے علاقے کارخانو مارکیٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس پر الزام لگایا گیا تھا کہ اس نے امریکہ کے لیے جاسوسی کی اور اسامہ بن لادن کے خلاف کیے گئے ایبٹ آباد آپریشن میں امریکہ کی مدد کی تھی۔ ان الزامات کے باوجود اسے سزا شدت پسند جہادی تنظیم کے ساتھ تعلق رکھنے کے الزام میں دی گئی تھی۔ اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ خیبر ایجنسی کی عدالت نے اسے تین مقدمات میں کل 23 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام سے پہلے شکیل آفریدی کو سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل فاٹا ٹرائبیونل میں دائر کی گئی تھی جہاں پہلے ٹرائیبیونل کے اراکین پورے نہیں تھے اور بعد میں ریکارڈ کی طلبی اور عدم تیاری کی وجہ سے سماعت نہیں ہو سکی تھی۔ خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے بعد بھی اب پشاور ہائی کورٹ میں بھی اس کے مقدمے کی سماعت متعدد مرتبہ ملتوی ہو چکی ہے۔ ڈاکٹر شکیل آفریدی کئی سال تک پشاور کی سینٹرل جیل میں قید رہا اور پھر سکیورٹی خدشات کے باعث ادے اڈیالہ جیل راولپنڈی منتقل کیا گیا تھا۔
