اقوام متحدہ نے طالبان کے امیر کو دہشت گرد کیوں قرار دیا؟

امریکہ کی جانب سے افغان طالبان کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرنے کے تین ماہ بعد اقوام متحدہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے بیورو آف ساؤتھ اینڈ سینڑل ایشیئن افیئرز نے اقوام متحدہ کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود کو دہشت گرد لیبل کرنے کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے یاد دلوایا ہے کہ ’امریکہ نے اپنے طورپر نور ولی محسود کو ستمبر 2019 میں دہشت گرد قرار دے دیا تھا۔‘
یاد رہے کہ کالعدم دہشتگرد تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے جون 2018 میں اپنے سربراہ ملا فضل اللہ کی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد نور ولی محسود کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کیا تھا۔ نور ولی کو دہشت گرد قرار دینے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اس پر القاعدہ کی جانب سے دہشت گردانہ کارروائیوں کی مالی معاونت کرنے، منصوبہ بندی اور مدد کرنے کے الزامات ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکہ کے ساتھ امن معاہدہ کرتے وقت افغان طالبان نے یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ اب ان کے القاعدہ کے ساتھ کسی قسم کے کوئی تعلقات نہیں۔
تاہم پاکستانی طالبان کی جانب سے ابھی تک کسی قسم کا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا اور خیال کیا جاتا ہے کہ القاعدہ کے مفرور سربراہ ڈاکٹر ایمن الظواہری پاک افغان سرحدی علاقے میں کہیں چھپے ہوئے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد بھی بیت اللہ محسود نے نے 2007 میں اسامہ بن لادن اور ڈاکٹر ایمن الظواہری کے ایما پر اسلام آباد میں لال مسجد پر فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد رکھی۔
اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دئیے جانے والے مفتی نور ولی ٹی ٹی پی کے بانی امیر بیت اللہ محسود کے قریبی ساتھی تھے اور ماضی میں تحریک طالبان کی اہم ذمہ داریاں سنبھالتے آئے ہیں۔ 42 سالہ مفتی نور ولی نے طالبان کی تاریخ پر ایک کتاب بھی تحریر کی تھی جس میں کئی اہم دعوے کیے گے جیسے کہ بےنظیر بھٹو کی شہادت میں ٹی ٹی پی کا ہاتھ ہونا اور اسکی فنڈنگ کہاں کہاں سے ہوتی ہے۔ نور ولی محسود جنوبی وزیرستان کے علاقے تیارزہ میں پیدا ہوئے اور وہ فیصل آباد، گوجرانوالہ اور کراچی کے مختلف مدارس میں زیر تعلیم رہ چکے ہیں۔
حکومت پاکستان نے ابھی تک مفتی نورولی محسود کو دہشت گرد قرار دینے کے اقوام متحدہ کے فیصلے پر کوئی ردعمل نہیں دیا لیکن دفترخارجہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس فیصلے پر خوش ہے۔ طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان میں جب پاکستانی فوج نے آپریشن ضربِ عضب شروع کیا تو مفتی نور ولی محسود نے اس محاذ پر پاکستانی افواج کے خلاف لڑائی میں شرکت کی۔ سنہ 2014 میں امریکی ڈرون نے جنوبی وزیرستان کے علاقے سروکئی میں نور ولی محسود کے ایک ٹھکانے کو بھی نشانہ بنایا تھا تاہم وہ اس حملے میں محفوظ رہا اور آٹھ طالبان مارے گئے تھے۔ مفتی نور ولی محسود نے 690 صفحات پر مبنی ‘انقلاب محسود، ساؤتھ وزیرستان – فرنگی راج سے امریکی سامراج تک’ نامی ایک تفصیلی کتاب لکھی تھی۔
اس کتاب میں پہلی مرتبہ تحریکِ طالبان پاکستان کی جانب سے پیپلز پارٹی کی رہنما اور سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو شہید پر کارساز، کراچی اور راولپنڈی میں حملوں کی بھی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ اس سے قبل طالبان اس سے انکار کرتے رہے ہیں۔ مفتی نور ولی محسود کے بقول کتاب لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ شدت پسند ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ سکیں اور انھیں مستقبل میں نہ دہرائیں۔ کتاب میں مفتی نور ولی نے اعتراف کیا تھا کہ طالبان گروہ اور تنظیمیں ماضی میں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے تحریک ہی کی چھتری تلے ڈاکہ زنی، بھتہ خوری، اجرتی قتال جیسی کارروائیوں میں ملوث رہیں۔
کتاب میں اپنی ذرائع آمدن کے بارے میں نور ولی نے بتایا کہ 2007 میں جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ مختلف قسم کے اسلحے اور گاڑیوں سے لیس ایک فوجی قافلے کے اغوا کے واقعے کے بعد حکومت سے ایک معاہدے کے تحت یہ سب اشیا چھ کروڑ روپے کے بدلے واپس لوٹائی گئی تھیں۔ طالبان نے ان پاکستانی فوجیوں کو کئی ماہ تک اپنی حراست میں رکھا تھا اور بات چیت کے نتیجے میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ اس وقت اس رہائی اور سامان کی واپسی پر کسی رقم کا کسی نے کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔
اب اقوام متحدہ نے 15 جولائی کے روز کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے رہنما نور ولی محسود کو القاعدہ کے حلیفوں کی جانب سے دہشت گردانہ کارروائیوں کی مالی معاونت، منصوبہ بندی اور مدد کرنے پر ’عالمی دہشت گرد‘ قرار دے دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 1267 آئی ایس آئی ایل اور القاعدہ سینکشن کمیٹی نے نور ولی محسود کو داعش اور القاعدہ پر پابندیوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ پابندی کے بعد نور ولی محسود کے اثاثے منجمد اور اس پر سفری پابندیاں عائد ہوگئیں ہیں۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے کہ جب پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گردانہ کارروائیوں کا زور کافی حد تک ٹوٹ چکا ہے اور امریکہ افغان طالبان کے ساتھ امن معاہدہ کر چکا ہے۔
