اسحاق ڈار نے ٹیکس ایمنسٹی کے امکان کو مسترد کر دیا

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد ٹیکس ایمنسٹی کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق وزیرِخزانہ اسحٰق ڈار نے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کو بتایا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کی وجہ سے کسی بھی طرح کی ٹیکس ایمنسٹی کی گنجائش موجود نہیں ہے۔

گزشتہ سال وزیرِ خزانہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ پہلا موقع تھا کہ اسحٰق ڈار قومی اسمبلی کی کمیٹی میں شریک ہوئے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت کی کہ وہ ٹیکس دہندگان کے ایک سے زیادہ غیر منقولہ اثاثوں کے ڈیمڈ رینٹل پر نیا ٹیکس لاگو کرتے وقت ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے تحفظات کو دور کریں۔

کمیٹی کے چیئرمین قیصر احمد شیخ نے کووڈ-19 کے دوران بڑے کاروباری اداروں کو 3 ارب ڈالرز سے زائد کے قرضوں کی فراہمی پر سوال اٹھایا اور حیرت کا اظہار کیا کہ ایسی سبسڈی والی اسکیمیں صرف امیروں کو ہی کیوں دستیاب تھیں اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے اس سے مستفید کیوں نہیں ہوئے۔

Back to top button