اسحاق ڈار کا رہائشگاہ کو پناہ گاہ میں بدلنےکیخلاف عدالت سے رجوع کا فیصلہ

مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پنجاب حکومت کی جانب سے اپنی رہائشگاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے لاہور کے پوش علاقے گلبرگ میں واقع اسحاق ڈار کی رہائشگاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کر کے 12 کمروں میں بستر بھی لگا دیئے تھے۔
مسلم لیگ ن کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جاری ویڈیو بیان میں سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنی رہائشگاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے وزیراعظم اور پنجاب حکومت کا گٹھ جوڑ قرار دیا۔ اسحاق ڈار نے کہا ہےکہ پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور میں 1988 سے واقع میری رہائشگاہ کو بے گھر لوگوں کے لیے وقف کرنا توہین عدالت ہے کیونکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 27 جنوری کو اس کیس میں حکم امتناع جاری کیا تھا۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے توہین عدالت پر ہم اسلام آباد ہائی کورٹ میں جائیں گے۔
جب یہ میری رہائشگاہ کی نیلامی میں ناکام ہوئے تو عمران نیازی اور پنجاب حکومت کے گٹھ جوڑ نے میری رہائشگاہ کو بے گھر لوگوں کے لیے پناہ گاہ بنادیا ہے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد انکا یہ اقدام توہین عدالت ہے.@MIshaqDar50 pic.twitter.com/BExPGCn7zN
— PMLN (@pmln_org) February 8, 2020
اسحاق ڈار نے بتایا کہ حکومت نے یہ تمام اقدامات مفرور ہونے پر لیے ہیں لیکن بنیادی طور پر مفرور ہونے کا فیصلہ بھی غیر قانونی ہے کیونکہ اس حوالے سے سپریم کورٹ میں ہماری درخواست موجود ہے، جب حکومت نے میری رہائشگاہ کو نیلامی کا فیصلہ کیا تو ہم نے درخواست دائر کی تھی، سپریم کورٹ کا مؤقف ہے کہ اپنی باری پر درخواست پر سماعت کی جائے گی۔
رہنما ن لیگ نے کہا کہ میرے خلاف سارا کیس ہی فراڈ اور بدنیتی پر مبنی ہے، جے آئی ٹی کی رپورٹ ایک بہت بڑے جھوٹ پر مبنی ہے کہ میں نے 20 سال تک پاکستان میں ٹیکس ریٹرن نہیں دی حالانکہ گزشتہ 36 سال سے میری ایک ایک ٹیکس ریٹرن کی رسیدیں دستیاب ہیں اور ہر چیز ڈاکومینٹڈ ہے۔
