کیا اسحاق ڈار کا گھر پناہ گاہ میں تبدیل کرنا قانونی ہے؟

وزیراعظم عمران خان کی ذاتی ہدایت پر پنجاب حکومت نے ن لیگ کے مرکزی رہنما اسحاق ڈار کے قرق شدہ گھر کو غریب اور نادار افراد کے لئے ایک پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا ہے حالانکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے چند روز قبل اس کی نیلامی کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا تھا۔ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنے گھر کو پناہ گاہ بنائے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عمل غیر قانونی اور وزیر اعظم کی جانب سے کھلی توہین عدالت ہے۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ڈار کے گھر کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کا حکم کپتان نے براہ راست وزیراعظم ہاؤس سے جاری کیا گیا جس کے بعد اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاؤن ذیشان نصراللہ رانجھا کی نگرانی میں گلبرگ بلاک ایچ میں واقع گھر ہجویری ہاؤس کے 12 کمروں میں غریب اور بے گھر افراد کے لیے اوپر نیچے ڈبل بستر لگوا دئیے گئے۔ ذرائع نے بتایا کہ یہ تمام بستر حکام نے ایمرجنسی بنیادوں پر داتا دربار سے منگوائے چونکہ ابھی اس پناہ گاہ کے لیے حکومت کی جانب سے کسی قسم کا کوئی بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔ ابتدائی طور پر ڈار کی رہائش گاہ میں دس افراد کے لیے بستر لگوائے گئے ہیں جن کی تعداد بڑھائے جانے کا امکان ہے۔
چار کنال 17 مرلے پر محیط گھر میں موجود تمام کمرے ایئر کنڈیشنڈ ہیں، یوں یہ لاہور کی پہلی ایئر کنڈیشنڈ پناہ گاہ ہوگی۔ یاد رہے کہ 1999 میں سابق فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے مسلم لیگ ن کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد شریف فیملی کے گھروں کو بھی عارضی پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا تھا تاہم بعد میں ملک واپسی پر عدالتی کارروائی کے ذریعے شریف فیملی نے اپنے گھر واپس کے لیے تھے۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے نیب نے اسحاق ڈار کے گھر کو بیچنے کی کوشش کی تھی، بارہ کمروں پر مشتمل ہجویری ہاؤس کی ابتدائی بولی 18 کروڑ 50 لاکھ رکھی گئی تھی۔ 28 جنوری کو ضلعی انتظامیہ کے ذریعے نیلامی کروائی لیکن کوئی خریدار نہیں آیا جبکہ نیلامی کے عمل کے دوران ہی سابق وزیر خزانہ کے سٹاف کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ سے نیلامی روکنے کا حکم بھی دیا گیا۔ ایسے میں حکومت پنجاب کی جانب سے ہی اس گھر کو بطور پناہ گاہ استعمال کرنا غیر قانونی اور توہین عدالت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری طرف پنجاب حکومت کی ترجمان مسرت چیمہ کے مطابق حکومت نے اسحاق ڈار کے گھر کو غریب افراد کے لئے پناہ گاہ میں اس لیے تبدیل کیا ہے کیونکہ عدالت نے گھر بیچنے پر حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ہی نیب کی درخواست پر 2 اکتوبر 2018 کو سابق وزیر خزانہ کی ضبط شدہ جائیداد نیلام کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت کا یہ حکم اس تناظر میں تھا کیونکہ 28 جولائی 2017 کو پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو کو اسحٰق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس کے بعد ان کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے منجمد کردیے گئے تھے۔ بعدازاں اسحٰق ڈار کی اہلیہ تبسم اسحٰق نے سابق وزیر خزانہ کی جائیداد کی قرقی و نیلامی کو چیلنج کیا تھا اور اپنی درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ اسحٰق ڈار نے لاہور کی یہ جائیداد انہیں تحفے میں دی تھی۔ تاہم احتساب عدالت نے جائیداد کی نیلامی روکنے کی درخواست کو مسترد کردیا تھا، جس کے ساتھ ہی قومی احتساب بیورو کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی جائیداد کی نیلامی کی اجازت مل گئی تھی۔
رواں برس 28 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک بار پھر اس عمارت کی نیلامی کے حوالے سے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے اسے بیچنے سے روک دیا تھا۔ تاہم اسحق ڈار کے گھر کو بیچنے میں ناکامی پر شرمندگی کا شکار پی ٹی آئی حکومت نے اب اسے پناہ گاہ میں تبدیل کرکے اپنی شرمندگی مٹانے کی کوشش کی ہے۔
