پنجاب حکومت نے اسحاق ڈار کا گھر پناہ گاہ میں تبدیل کر دیا

پنجاب حکومت نے سابق وزیر خزانہ اورمسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحٰق ڈار کے لاہور میں واقع گھر کو غریبوں کے لیے پناہ گاہ میں تبدیل کردیا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے سابق وزیر خزانہ کے گھر کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کے فیصلے کے بعد اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاؤن ذیشان نصراللہ رانجھا کی نگرانی میں اسحٰق ڈار کے گلبرگ بلاک ایچ میں واقع گھر ہجویری ہاؤس کے 12 کمروں میں غریب اور بے گھر افراد کے لیے بستر لگوا دیے گئے۔ 4 کنال 17 مرلے پر محیط گھر میں موجود تمام کمرے ایئر کنڈیشنڈ ہیں، یوں یہ لاہور کی پہلی ایئر کنڈیشنڈ پناہ گاہ بن گئی ہے. محکمہ سوشل ویلفیئر کے زیرانتظام چلنے والی اس پناہ گاہ میں 50 لوگوں کی رہائش کا انتظام ہوگا.
قبل ازیں 12 کمروں پر مشتمل 4 کنال 17 مرے کی کوٹھی کی سرکاری بولی 18 کروڑ پچاس لاکھ روپے مقرر تھی۔ 28 جنوری کو ہجویری ہاؤس کی نیلامی کی بولی میں کسی ایک شہری نے حصہ نہیں لیا تھا۔اب وزیراعظم پاکستان عمران خان کو خوش کرنے کے لئے پنجاب حکومت نے سابق وزیر خزانہ کے گھر کو پناہ گاہ بنا دیا ہے۔
واضح رہے کہ 28 جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کے لاہور میں موجود گھر کی نیلامی سے روکتے ہوئے نوٹس جاری کردیا تھا۔ قبل ازیں اسلام آباد کی احتساب عدالت نے نیب کی درخواست پر 2 اکتوبر 2018 کو سابق وزیر خزانہ کی ضبط شدہ جائیداد نیلام کرنے کا حکم دیا تھا۔
واضح رہے کہ 28 جولائی 2017 کو پاناما پیپرز کیس میں سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو کو اسحٰق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا تھا جس کے بعد ان کے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے منجمد کردیے گئے تھے۔ بعدازاں نیب نے آمدنی سے زائد اثاثے بنانے کے 3 ریفرنسز میں اشتہاری قرار دینے اور سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی ملک میں موجود منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کی نیلامی کے لیے احتساب عدالت سے رجوع کیا تھا۔ جس پر 2 اکتوبر 2018 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے سابق وزیرِ خزانہ اسحٰق ڈار کے اثاثے نیلام کرنے کا حکم دے دیا تھا۔
بعدازاں اسحٰق ڈار کی اہلیہ تبسم اسحٰق نے سابق وزیر خزانہ کی جائیداد کی قرقی و نیلامی کو چیلنج کیا تھا اور اپنی درخواست میں موقف اپنایا تھا کہ اسحٰق ڈار نے لاہور کی یہ جائیداد انہیں تحفے میں دی تھی۔ تاہم احتساب عدالت نے جائیداد کی نیلامی روکنے کی درخواست کو مسترد کردیا تھا، جس کے ساتھ ہی قومی احتساب بیورو (نیب) کو مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی جائیداد کی نیلامی کی اجازت مل گئی تھی۔
