اسحاق ڈار کا جلد وطن واپسی کاامکان، شاہدخاقان کا لاعلمی کا اظہار

یمسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی کا فیصلہ ہوگیا ہے اور انہیں دوبارہ وزیر خزانہ بنائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہاہے ۔
باخبر ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف مفتاح اسماعیل کی کارکردگی سے ناخوش ہیں ، اور اس وجہ سے انہوں نے اسحاق ڈار کو پاکستان کا بھیجنے فیصلہ کیا ہے، اسحاق ڈار کا جولائی کے دوسرے ہفتے میں پاکستان آنےکا امکان ہے وطن واپس آکر اسحاق ڈار پہلے بطور سینیٹر اپنا حلف لیں گے، جس کے بعد وہ وفاقی وزیرخزانہ کاعہدہ سنبھالیں گے،اس بات کا خیال رہے کہ خیال رہے کہ موجودہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل رکن پارلیمنٹ نہیں ہیں اس لیے وہ 6 ماہ سے زیادہ مدت تک وزارت کے عہدے پر نہیں رہ سکتے۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے رہنما سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے مجھے نہیں پتہ کہ اسحٰق ڈار وطن واپس آرہے ہیں۔ ڈار جب بھی وطن واپسی کا فیصلہ کریں یہ ان کا فیصلہ ہوگا۔ لیگی رہنما جب بھی وطن واپس آنا چاہیں انہیں کوئی نہیں روک سکتا ہے۔
انکا کہنا تھا ڈارجب بھی وطن واپسی کا فیصلہ کریں یہ ان کا فیصلہ ہوگا۔ پاکستان اسحٰق ڈار کا ملک ہے اور وطن واپسی ان کا حق ہے۔ و جب بھی وطن واپس آنا چاہیں انہیں کوئی نہیں روک سکتا ہے۔ عدالتی معاملات سے اسحاق ڈار خود آکر نمٹ لیں گے۔
شاہد خاقان نے کہا وزرات خزانہ فیصلہ وزیراعظم کا اختیار ہے جب بھی وہ فیصلہ کریں،آئین کی رو سے ہر وزیر وزیراعظم کی خوشی تک ہی اپنی نوکری کرتا ہے۔
واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق کے خلاف مختلف مقدمات درج ہیں، جن میں خاص طور پر ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے اثاثہ جات کی 22 سالہ تفصیلات جمع نہیں کرائیں، اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے اثاثہ جات کا 32 سال کا ریکارڈ پہلے ہی جمع کرارکھا ہے، سابق وزیرخزانہ نومبر 2017 میں علاج کی غرض سے لندن گئے تھے اور اس کے بعد سے وطن واپس نہیں آئے۔
