پچھلی حکومت میں خوش تھے ،اتحادیوں کے حکومت سے شکوے

پارلیمنٹ میں میں اتحادیوں نے حکومت سے شدید گلے شکوے کر ڈالے جبکہ اجلاس کے دوران وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور گوادر سے آزاد رکن قومی اسمبلی اسلم بھوتانی ایک دوسرے سے الجھ پڑے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے اظہار خیال کرتےہوئے کہا کہ وزیراعظم پچھلے ڈیڑھ دو ماہ میں تین دفعہ گوادر گئے ہیں، وہاں پر بڑی ڈویلپمنٹ ہو رہی ہے۔
اسلم بھوتانی نے اتحادیوں کی ساتھ نہ روا سلوک کو نہ انصافی قرار دے دیا ان کا مزید کہناتھا کے ہم پچھلی حکومت میں خوش تھے ،انھوں نےکہا کہ آصف زرداری کی محبت میں اس حکومت میں آگئے جبک تبدیلی کامقصد کچھ اور تھا اب کچھ اور نظر آ رہا ہے۔
انکا کہنا تھا حکومت سے کوئی بات کرو تو منہ دوسری طرف کر لیتے ہیں نہ کسی کمیٹی کی سربراہی ملی نہ کوئی وزارت ملی خاموش ہو کر بیٹھے ہیں جس پر خالد مغزی کا کہنا تھا ابھی بھی وقت ہے اپنے رویے درست کرلیں ہم تو سمجھ رہے تھے تبدیلی نظرآئے گی۔
بلوچستا ن عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر خالد مگسی نے کہا کہ سوکھا اخلاق ہی دکھادیں، ہماری پارٹی کی بھی شکایات ہیں ، ہمیں آن بورڈ ہی نہیں لیتے، شکایتوں کوٹھیک کرلیں ابھی بھی وقت ہے، اپنے رویوں کو درست کر لیں، ورنہ چپ کرکے بیٹھے ہیں،ہماری شکایت کا ازالہ کیا جائے، ہمیں وزارت بھی دیتے ہیں تو بغیر قلمدان کے۔
جس پر سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے دونوں اراکین کو ایک دوسرے سے مخاطب نہ ہونےکی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ خواجہ آصف بیٹھ کر اسلم بھوتانی اور احسن اقبال کیساتھ بیٹھ کر بات کریں
