اسد طور پر حملہ کرنے والی خفیہ ایجنسی ننگی ہو گئی

اسلام آباد میں سینئیر صحافی اور یو ٹیوب ولاگر اسد علی طور کو انکے گھر میں گھس کر شدید تشدد کا نشانہ بنانے اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوانے والے اسی خفیہ ایجنسی کے لوگ تھے جو اب بالکل بھی خفیہ نہیں رہی بلکہ الف ننگی ہو چکی ہے۔ چوک میں ننگی ہو جانے والی اسی ایجنسی نے ماضی قریب میں مطیع اللہ جان کو اغوا کیا تھا اور ابصار عالم کو گولی ماری تھی۔ اسد طور پر حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے تینوں ملزمان کی شناخت آسانی سے ہو سکتی ہے لیکن اس کا کوئی امکان اس لیے نظر نہیں آتا کہ مطیع اللہ جان اور ابصار عالم کے واقعات میں بھی سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب تھی اور ملزمان نظر آرہے تھے لیکن پولیس نے یہ موقف اختیار کیا کہ چہروں کی شناخت نہیں ہو پائی۔ ظاہر ہے اسلام آباد پولیس ملک کی ننگی ترین انٹیلی جنس ایجنسی سے زیادہ طاقتور تو نہیں۔
اسد علی طور پر ہونے والے حملے کے پیچھے موجود لوگوں کے حوالے سے کسی کو کوئی غلط فہمی نہیں ہے۔ سب جانتے ہیں کہ طور کو کس ایجنسی نے ننگا یو کر کیوں اور کس کے حکم پر تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ اسکا مقصد طور اور اس قماش کے دیگر سرپھرے اور باغی صحافیوں کو ایک واضح پیغام دینا ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی کے سیاسی کردار پر تنقید کرنے والوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہو گا۔ اسلام آباد کی صحافی برادری کا کہنا ہے کہ اس واقعے نے ثابت کر دیا ہے کہ عمران خان حکومت کا جرنلسٹس پروٹیکشن بل صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے جس کا مقصد دنیا کو ماموں بنانا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ موجودہ حکومت اور اس کو اقتدار میں لانے والے طاقتور اداروں کی فاشسٹ اور آمرانہ ذہنیت کا ہے جو کہ بدل نہیں پا رہی۔
یاد رہے کہ اسد طور کے ساتھ تشدد کا افسوسناک واقعہ منگل 25 مئی کی شب رات ساڑھے گیارہ بجے اسلام آباد کے سیکٹر ایف الیون میں پیش آیا جب بظاہر تین "نامعلوم افراد” طور کے فلیٹ میں زبردستی داخل ہوئے اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انھیں زدوکوب کیا۔ اسد علی طور نے پولیس کو اپنے بیان میں بتایا ہے کہ ان پر تشدد کرنے والے افراد پستول سے مسلح تھے اور انھوں نے انہیں پستول کے بٹ اور پائپ سے مارا پیٹا۔ اسد طور کا کہنا ہے کہ ان پر حملہ کرنے والے افراد نے انھیں ٹھوکریں ماریں اور ان پر غدار ہونے کا الزام لگاتے ہوئے سے ان سے زبردستی ‘پاکستان زندہ باد’ کے نعرے لگوائے حالانکہ وہ ایک محب وطن پاکستانی ہیں۔
اسد طور کے فلیٹ کے سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ کرنے والے تینوں افراد چہرے پر ماسک پہنے ہوئے تھے اور انھیں زود و کرب کرنے کے بعد باآسانی فرار ہو گئے۔ ان میں سے دو افراد نے سفید شلوار قمیض پہن رکھی ہے جو کہ خفیہ والوں کا عمومی لباس ہے جو کہ انہیں ننگا کر دیتا ہے جبکہ تیسرے نے، جو کہ گنجا ہے،کالی پینٹ اور ٹی شرٹ پہن رکھی ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں اسد کو زخمی حالت میں اپنے ہاتھ پاوں بندھے ہوئے فلیٹ سے گھسٹ کر باہر نکلتے اور مدد کے لیے پکارتے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد بلڈنگ کے لوگ اکٹھے ہو کر ان کے ہاتھ پاؤں کھولتے ہیں۔
یاد رہے کہ اسد علی طور اپنی عدالتی رپورٹنگ اور حکومت اور ریاستی اداروں پر تنقیدی یو ٹیوب ویڈیو بلاگز کی وجہ سے جانے جاتے ہیں۔ گذشتہ برس راولپنڈی کی پولیس نے سوشل میڈیا پر اداروں بالخصوص فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے، پوسٹس ڈالنے اور تبصرہ کرنے کے الزام میں اسد طور کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا تھا۔ پچھلے ہفتے اسد طور نے یوٹیوب پر اپنی ایک ویڈیو میں انکشاف کیا تھا کہ ان کو خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے ننگی دھمکیاں دی جارہی ہیں اور ایک طاقتور خفیہ ایجنسی کے دو حاضر سروس افسران نے ان کے والدین کو گھر جاکر دھمکایا ہے۔
خیال رہے کہ یہ اسلام آباد میں حکومت کے ناقدین صحافیوں پر حملے کا حال ہی میں تیسرا واقعہ ہے۔ چند ہفتے قبل ایک اور صحافی ابصار عالم ایف الیون میں ہی تب زخمی ہو گئے تھے جب ان پر گھر کے قریبی پارک میں چہل قدمی کرتے ہوئے فائرنگ کی گئی۔ اس سے کچھ مہینے پہلے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کو تو دن دیہاڑے اسلام آباد سے اغوا کر لیا گیا تھا۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس ننگی ہونجانے والی ایجنسی کے حملوں کا شکار یہ تمام صحافی نہ صرف فوج اور آئی ایس آئی کے سیاسی کردار کے مخالف ہیں بلکہ موجودہ حکومت کے بھی ناقد ہیں اور اسی لیے نہ تو پچھلے کسی حملے میں ملوث افراد کا پتہ چل سکا ہے اور نہ ہی اسد علی طور کو تشدد کا نشانہ بنانے والوں کے بارے میں پتہ چل سکے گا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ جو ایجنسی الف ننگی ہو کر یہ حملے کرواتی ہے اس کے آگے پاکستانی عدالتیں اور قانون نافذ کرنے والے تمام ادارے کھسی ہو جاتے ہیں۔ یہ وہی برہنہ ایجنسی ہے جس نے پورے پاکستانی کے میڈیا مالکان کو کھسی کر کے رکھ دیا ہے چنانچہ اسد طور اور مطیع اللہ جیسے باغی صحافی آزاد صحافت کرنے کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا سہارا لیتے ہیں۔ کیونکہ باغی سوچ رکھنے والے باضمیر صحافیوں کو کھسی کرنا ممکن نہیں ہوتا چنانچہ انہیں ڈنڈے کی مدد سے سبق سکھایا جاتا ہے۔
اسد طور پر حملے کی صحافی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت مذمت کی گئی ہے۔ اسد طور پر حملے کی خبر عام ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں مذمت کا سلسلہ شروع ہوا وہیں حال ہی میں صحافیوں کے تحفظ کے لیے منظور کیے جانے والے قانون کی اہمیت پر بھی سوال اٹھائے جانے لگے۔ صحافی برادری کے علاوہ حکومتی نمائندوں کی جانب سے بھی اسد علی طور پر کیے جانے والے حملے مذمت کی گئی ہے۔
وزارت اطلاعات و نشریات فواد چودھری کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اسد طور پر کیے گئے حملے کی روایتی مذمت کرتے ہوئے ایس ایس پی اسلام آباد کو ہدایات دی گئیں کہ وہ اس حملے کی فوری تفتیش کریں۔ ایسی ہدایات ماضی میں مطیع اللہ جان کے اغواءاور ابصار عالم کو گولی مارے جانے کے بعد بھی دی گئی تھیں لیکن سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب ولیس اور دیگر اداروں کو جاری ہونے والے بار بار کے احکامات کے باوجود بھی کسی ملزم کا کوئی سراغ نہیں مل سکا حالانکہ سب جانتے ہیں کہ اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں کے احکامات اسلام آباد میں کس دفتر سے جاری ہوتے ہیں۔
دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل جنوبی ایشیا کی جانب سے بھی اس حملے کی مذمت کی گئی۔ ادارے کی ٹویٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی میں صحافیوں کے تحفظ کے بل اسی ہفتے پیش کیے جانے کے بعد صحافی کے خلاف اسی کے گھر میں پُرتشدد حملے پر ادارے کو شدید تشویش ہے۔ ہم حکام سے اپنا مطالبہ دہراتے ہیں کہ وہ صحافیوں کو زیادہ سے زیادہ تحفظ فراہم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے۔ صحافی مطیع اللہ جان نے ٹویٹ کیا کہ ‘یہ سنجیدہ اور انتہائی قابل مذمت ہے۔ حکومت اپنے شہریوں اور صحافیوں کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔ ایمنسٹی نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ وزیر داخلہ شیخ رشید اور وزیر اعظم عمران خان کو اتنا بے بس اور بے شرم نہیں ہونا چاہیے۔’
اسد طور پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر سینئر صحافی ریما عمر نے لکھا کہ حکومت کی جانب سے ’صحافیوں کے تحفظ کے بل‘ کا جنازہ اٹھ چکا ہے۔ حکومتی بل اس طرح کے بے رحمانہ تشدد کو روکنے اور مجرموں کو سامنے لانے میں کس طرح مدد فراہم کرے گا جب کہ ایسے گھناؤنے جرائم کرنے والوں کو مکمل استثنیٰ حاصل ہے؟ ‘
اس معاملے پر علی ڈار کا کہنا تھا کہ اسد علی طور نے ہمیشہ مظلوموں کے لیے آواز اُٹھائی اور حق کے ساتھ چٹان بن کر کھڑے ہوئے۔ آج ہم سب پر فرض ہے کہ ان کے لیے اور اس نظام کی تبدیلی کے لیے اُٹھ کھڑے ہوں جس کو بدلنے کی کوشش کرنے پر آج اسد کو نشانِ عبرت بنانے کو کوشش کی گئی۔‘
معروف سماجی کارکن گلالئی اسماعیل نے بھی اسد علی طور پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا ’اسد طور سچ بولنے اور اپنی صحافتی ذمہ داریوں کو نبھانے کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ حملہ آوروں کو جوابدہ ہونا چاہیے۔ تشدد صحافیوں کو خاموش نہیں کرسکتا۔‘
