اسلام آباد پولیس اہلکار کس سفیر کو راز بیچنے پر گرفتار ہوا؟

وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ایک اے ایس آئی لیول کے پولیس اہلکار کو انتہائی خفیہ معلومات ایک ‘غیر ملکی سفیر’ کو بیچنے کے الزام میں گرفتار تو کر رکھا ہے اور اسکا جسمانی ریمانڈ بھی لے لیا ہے، لیکن نہ تو چالان میں اور نہ ہی عدالت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ حساس خفیہ معلومات کس طرح کی تھیں اور خریدنے والے سفیر کا تعلق کس ملک سے ہے۔ یہ سوال بھی جواب طلب یے کہ پولیس میں اے ایس آئی لیول کے اہلکار کو کس طرح حساس اور خفیہ معلومات تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد نے 14 دسمبر کے روز گولڑہ پولیس سٹیشن کے گرفتار شدہ پولیس اہلکار کو جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا تھا۔ گرفتار پولیس اہلکار اے ایس آئی ظہور احمد اس وقت سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اسکے خلاف آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی کیا وجہ ہو سکتی یے۔ یاد رہے کہ اس جرم کے تحت گرفتار کسی بھی شخص پر غداری کا مقدمہ چلتا ہے لیکن ماضی میں کبھی کسی پولیس اہلکار کو اس جرم میں گرفتار نہیں کیا گیا۔ پولیس اہلکار کو 6 ہفتے پہلے نومبر میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن اس کی گرفتاری ظاہر نہیں کی جا رہی تھی۔ اسکے خلاف مقدمے کا اندراج 13 دسمبر 2021 کو کیا گیا جبکہ اسے 14 دسمبر کو ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد فیضان حیدر گیلانی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے انسداد دہشت گردی وِنگ کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کے مطابق گولڑہ پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر اے ایس آئی کو خفیہ دستاوزات یا معلومات ’غیر ملکی سفیر یا ایجنٹ‘ کو دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ اسے پولیس کے ایس آئی کی گرفتاری سے ایف آئی اے نے آگاہ کیا جبکہ اس سے تحقیقات ایف آئی اے کر رہی ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے درج ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ اسے باوثوق ذریعے کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اے ایس آئی گولڑہ ظہور احمد ایک غیر ملکی سفر یا ایجنٹ سے ملاقات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ایف آئی آر میں متعلقہ شخص کی سفید رنگ کی ٹیوٹا کرولا کا رجسٹریشن نمبر بھی درج ہے اور ساتھ لکھا گیا ہے کہ اے ایس آئی کی اس ملاقات کا مقصد خفیہ معلومات یا دستاویزات فراہم کرنا تھا جو کہ ملکی مفاد کے خلاف ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اے ایس آئی نے غیر ملکی سفیر یا ایجنٹ سے میٹرو بس سٹیشن کے پاس جناح ایونیو پر ملنا تھا۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ان معلومات کی بنا پر ایک ٹیم تشکیل دی گئی جو وہاں پہنچی۔ بتایا گیا ہے کہ وہاں موجود ذریعے نے تصدیق کی کہ ٹیوٹا کرولا میں جس کے شیشے کالے تھے، اے ایس آئی کو کہیں لے جایا گیا ہے تاہم ایف آئی اے کی ٹیم کو تجویز دی گئی کہ وہ وہیں انتظار کریں۔ ایف آئی آر کے مطابق کچھ دیر بعد وہی ٹیوٹا کرولا اے ایس آئی کو واپس اسی مقام پر اتار کر چلی گئی جس کے بعد ایف آئی اے کی ٹیم نے اسے گرفتار کر لیا۔
ایف آئی اے کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ اے ایس آئی کے پاس دو فون تھے اور اس کے ہاتھ میں ایک لفافہ تھا لیکن وہ غیر ملکی سفیر کے ساتھ اپنی ملاقات کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کر سکا۔
ایف آئی اے کی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ ملزم نے موقع پر ہی انکشاف کیا کہ وہ غیر ملکی سفیر یا ایجنٹ کو خفیہ معلومات یا دستاویزات فراہم کرنے کے بدلے پیسے لے رہا ہے۔ ایف آئی آر میں درج ہے کہ بادی النظر میں اے ایس آئی کا یہ اقدام 1923 کے آفیشل سیکریٹ ایکٹ اور انسداد کرپشن ایکٹ 1947 کے تحت قابل سزا جرم ہے اور اس غداری کا کیس چلایا جا سکتا ہے۔ ایف آئی اے کا دعویٰ ہے کہ اے ایس آئی کی تحویل سے 50 ہزار کیش، اے ٹی ایم کارڈز اور یو ایس بی بھی برآمد ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ 30 نومبر 2021 کو گولڑہ پولیس سٹیشن کے اسی اے ایس آئی کی گم شدگی کی خبریں سوشل میڈیا پر منظر عام پر آئی تھیں، تاہم پولیس نے ان کی گمشدگی کا کوئی مقدمہ درج نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد اس اے ایس آئی کے فون سے انکی اہلیہ کو ایک پیغام موصول ہوا تھا کہ وہ مری گئے ہوئے ہیں۔ پھر دو روز بعد وہ واپس گھر پہنچ گئے لیکن اب انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔ دودری جانب پولیس ذرائع نے تصدیق کی کہ اے ایس آئی مری نہیں گئے تھے بلکہ ایک ادارے کی جانب سے تفتیش کی غرض سے لیجائے گئے تھے۔ تاہم ان کی گمشدگی کے پیچھے کیا وجوہات تھیں اور انھیں کس غیر ملکی سفیر یا ایجنٹ سے ملنے پر گرفتار کیا گیا ہے اس بارے میں پولیس حکام بات کرنے سے گریزاں ہیں۔
