حکومت کا 1 کروڑ روپے تک بلاضمانت قرضوں کا اعلان
حکومت نے نیا کاروبار کرنے والے افراد کے لیے 1 کروڑ روپے تک بلا ضمانت قرضے دینے کا اعلان کر دیا، کاروبار میں نقصان کا بوجھ بھی حکومت برداشت کرے گی۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیر برائے صنعت و پیداوار خسرو بختیار نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس حوالے سے ایس ایم ای پالیسی کی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں 10 لاکھ مینوفیکچررز معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، 78 فیصد نمو ایس ایم ای کا شعبہ فراہم کررہا ہے، پالیسی میں ایس ایم ایز کے ذریعے کاروبار شروع کرنے والے کے اخراجات کم کیے گئے ہیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر نے سندھ حکومت سے بھی ایس ایم ای پالیسی میں حصہ ڈالنے کی درخواست کی ، ایس ایم ای کو تین درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں لو رسک، میڈیم اور ہائی رسک میں رکھا گیا ہے، لو رسک میں ٹرانسپورٹ، پبلک سروس سیکٹر، ہول سیل کو شامل کیا گیا ہے جس کے لیے این او سی کی ضرورت نہیں ہے، میڈیم رسک میں آٹو پارٹس، کٹلری، اسپورٹس وغیرہ شامل ہیں، اس کو 30 روز کے لیے این او سی دیا جائے گا جبکہ ہائی رسک میں بوائلرز وغیرہ سے متعلق کاروبار کو شامل کیا گیا ہے۔
حکومت نے مینوفیکچر سیکٹرز کے ٹیکس کے لیے ادائیگی کم کر دی، جس کی آمدنی 10 کروڑ سے کم ہے وہ 0.25 فیصد اور جن کی آمدنی 10 سے 25 کروڑ ہے ان کے لیے ٹیکس 0.5 کر دیا ہے، اور یہ فکس ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز کے لیے سب سے بڑا مسئلہ زمین کا ہے جس کے لیے پنجاب، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور وفاقی حکومتیں آسان اقساط پر قرضے دیں گی۔ اسی پالیسی میں 5 ارب روپے سمیڈا فنڈز کے لیے مختص کیے گئے ہیں جس کے تحت ایس ایم ایز سینٹرز قائم کریں گے۔
