اسلام آباد کی فضاؤں میں ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ کی افواہیں

موجودہ حکومت کے معاشی مشکلات میں گھر جانے کے بعد اب اسلام آباد کی فضاؤں میں ایک ٹیکنوکریٹ سیٹ کے وجود میں آنے کی افواہیں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان افواہوں میں تیزی تب آئی جب سابق وزیر اعظم عمران خان نے یہ بیان داغا کے نئی فوجی قیادت اگلے برس مارچ اپریل تک نئے انتخابات کرانے پر آمادہ نظر آتی ہے۔ تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہونے والا اور موجودہ حکومت اپنی آئینی معیاد ہر صورت پوری کرے گی۔ نیا دور کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کی فضاؤں میں ایک بار پھر کسی ‘ٹیکنوکریٹ’ سیٹ اپ کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ پاکستان میں جاری سیاسی کشیدگی ختم کرنے اور بڑھتے ہوئے معاشی بحران سے نمٹنے کے لئے لایا جانا والا ممکنہ عبوری سیٹ اپ دو سال تک چلے گا۔ نیا دور سے بات کرتے ہوئے ایک وفاقی وزیر نے بتایا کہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ آپ سیاسی لوگ ہیں اسلئے مشکل فیصلے کرنے سے گھبراتے ہیں، لیکن وقت کی ضرورت یہ ہے کہ معیشت کی بحالی کے لئے مشکل فیصلے کئے جائیں۔ اس لیے ہمیں نکال کر ٹیکنوکریٹس پر مشتمل دو سال کی عبوری حکومت لانے کی بات ہو رہی ہے جو کہ ہمیں کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔

وفاقی وزیر نےکہا کہ ہم نے عمران خان کو ہٹا کر جب حکومت سنبھالی تو معیشت برے حال میں تھی۔ ہم نے آئی ایم ایف سے قرضے کی ڈیل بحال کرانے کے لئے تیل، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں بہت مجبوری میں اضافہ کیا اور اپنا سیاسی مستقبل بھی داؤ پر لگا دیا لیکن اب فوجی اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ ہم خاموشی سے سائیڈ پر ہو جائیں۔ وزیر موصوف نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھائی لوگوں نے ملک اپنے لاڈلے کے حوالے کیا اور اس کے ہاتھوں اسے معاشی طور پر تباہ و برباد کروا دیا، لیکن اب ہمیں انکے لاڈلے کا گند صاف کرنے کے لیے آئینی مدت بھی پوری نہیں کرنے دی جارہی ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ دو سال تک ٹیکنوکریٹ حکومت چلانے کے بعد پھر سے کسی نئے لاڈلے کو لا کر کرسی پر بٹھا سکتی ہے۔ تب تک ہمیں سائیڈ لائن کیا جا چکا ہو گا۔ نئے پلان میں نہ ہم قابل قبول ہیں اور نہ عمران خان، اب یہ کوئی نیا لاڈلا لانا چاہتے ہیں۔ لہذا ہم نے اپنی پارٹی لیڈرشپ کو بتا دیا ہے کہ ہم ایسے کسی منصوبے کا حصہ نہیں بنیں گے جس میں عوامی نمائندوں کو میدان سے باہر کر کے ملک کسی ٹیکنوکریٹ کو سونپ دیا جائے۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع نے ان افواہوں کی تردید کی ہے کہ موجودہ حکومت کو وقت سے پہلے گھر بھجوا کر کوئی ٹیکنوکریٹ سیٹ اپ لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کی آئینی مدت پوری کرنے کے حوالے سے اتفاق رائے پایا جاتا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے  حکومت پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فوجی قیادت غیر سیاسی ہونے کا اعلان کر چکی ہے اور الیکشن کروانا یا ٹیکنوکریٹ حکومت بنانا فوج کا اختیار نہیں۔ حکومتی ذرائع پر امید ہیں کہ اگست تک موجودہ پارلیمنٹ کی مدت پوری ہو جائے گی اور تب تک معاشی معاملات بھی بہت حد تک بہتر ہو جائیں گے جسکے بعد موجودہ حکومتی اتحاد نئے الیکشن میں چلا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ اگر اس دوران ملکی معیشت سنبھل نہ پائی تو اس بات کا بھی امکان ہے کہ انتخابات میں کچھ تاخیر کر دی جائے جس کی آئین میں بھی گنجائش موجود ہے۔

Back to top button