چیف جسٹس IHCکے خلاف سواتی کے الزام میں کتنا سچ ہے؟

فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے کے الزام میں گرفتار پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کی جانب سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے خلاف لگائے گئے جانبداری کے الزامات کی اصل حقیقت سامنے آ گئی ہے۔ عمران خان کے قریبی ساتھی فواد چوہدری کی جانب سے شیئر کئے گئے ہاتھ سے لکھے گئے بیان میں سواتی نے دعویٰ کیا تھا کہ اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے جج کو ان کی ضمانت کی درخواست کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو پوچھے بغیر تبدیل کر دیا گیا تھا۔ لیکن اب یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ خصوصی عدالت کے جج کے لیے نامزدگی اعظم سواتی کی درخواست ضمانت اور ان کی گرفتاری سے بھی قبل کر دی گئی تھی۔

سواتی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس عامر فاروق پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کے خلاف توہین آمیز ٹویٹس کے الزام میں مقدمہ درج ہونے کے بعد انکی گرفتاری اور ضمانت کی درخواست سے متعلق معاملے میں جانبدارانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ سواتی نے دعویٰ کیا کہ 26 نومبر کو خصوصی جج راجہ محمود کے سامنے پیش کی گئی ان کی ضمانت کی درخواست نامعلوم وجوہات کی بنا پر تب تک موخر کی گئی جب تک کہ جج راجہ محمود کو تبدیل کر کے انکی جگہ جج اعظم خان کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کی مشاورت کے بغیر تعینات نہ کردیا گیا۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ یہ تبادلہ قانونی طریقہ کار پر 2 دسمبر کو ان کی پمز ہسپتال سے گرفتاری کے بعد کیا گیا۔ سواتی نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس پر اظہار اعتماد کرتے ہوئے کہا کہ انکی درخواست ضمانت کسی اور جج کی عدالت میں منتقل کی جائے جہاں سے وہ ضمانت لے سکیں۔

دوسری جانب روزنامہ جنگ کے لیے سینئر صحافی قاسم عباسی کی رپورٹ کے مطابق سرکاری دستاویزات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ اسلام آباد کے خصوصی عدالتوں کے لیے جج اعظم خان کی نامزدگی اعظم سواتی کی گرفتاری اور ضمانت کی درخواست سے قبل کی گئی تھی۔ مزید یہ کہ جج کا  تبادلہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس عامر فاروق کی مشاورت سے کیا گیا تھا۔ دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ جسٹس اعظم خان کی بطور خصوصی عدالت جج اسلام آباد تقرری کے لیے معمول کا طریقہ کار اپنایا گیا تھا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اعظم خان سواتی نے 26 نومبر 2022 کو خصوصی عدالت اسلام آباد میں ضمانت کی درخواست دائر کی جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 21 نومبر کو اسلام آباد کی خصوصی عدالتوں میں بطور پریذائیڈنگ افسر تعیناتی کے لیے جج محمد اعظم خان کی نامزدگی کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ دستیاب نوٹیفکیشن میں لکھا ہے کہ مجھے یہ بتانے کی ہدایت کی گئی ہے کہ معزز چیف جسٹس آئی ایچ سی نے اسلام آباد جوڈیشل سروس کے درج ذیل جوڈیشل افسران کو خصوصی عدالتوں/ٹربیونلز، اسلام آباد میں تقرری کے لیے نامزد کرنے پر خوشی محسوس کی ہے۔

Back to top button