اسلام آباد میں بیوروکریسی کو 25 ارب مالیت کے پلاٹس الاٹ

ایک متنازعہ الاٹمنٹ پالیسی کے تحت اسلام آباد میں 400 سینئر حکومتی افسران کو 25 ارب روپے کے اضافی پلاٹس الاٹ کرنے کا انکشاف ہوا ہے حالانکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور وزارت قانون اس عمل کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے۔ ان پلاٹس کے لیے مجموعی ادائیگی صرف 1.6 ارب روپے کی گئی ہے۔ سینئر صحافی زاہد گشکوری کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں گزشتہ 15 برس کے دوران 400 بیوروکریٹس نے مجموعی طور پر 25 ارب روپے مالیت کے اضافی قیمتی سرکاری پلاٹس حاصل کیے ہیں۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق، یہ قیمتی پلاٹس 22 گریڈ کے سینئر سول افسران کو گزشتہ حکومتوں کی منظور کی گئی متنازعہ پالیسی کے تحت دیئے گئے ہیں، ہر پلاٹ کا سائز 500 مربع گز ہے۔ ان افسران میں ججز، وفاقی سیکرٹریز، ڈائریکٹر جنرلز، خودمختار اداروں کے سربراہان، اور سینئر بیوروکریتس شامل ہیں، جنہوں نے ان پلاٹوں کی مد میں مجموعی طور پر 1.6 ارب روپے ادا کیے ہیں۔ ان سول ملازمین میں سے 80 فیصد ریٹائر ہو کر ان پلاٹس کے علاوہ اضافی ایک کنال زمین بھی حاصل کرچکے ہیں۔
جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق سیکرٹری انچارج ہائوسنگ اینڈ ورکس یونس ڈھاگا نے 10 جولائی، 2014 کو ایک خصوصی سمری تب کے وزیراعظم نواز شریف کو بھجوائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ موجودہ حکومت کی سینئر سول ملازمین کے لیے مراعات متعارف کروانے کی پالیسی پر حکومت کو نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس پالیسی میں گریڈ 22 کے افسران کو اضافی پلاٹ دینے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق تب کے وزیراعظم نواز شریف نے مئی 2015 میں اس پالیسی کو بحال کرتے ہوئے اپنی سابقہ ہدایات کو ہی معطل کردیا تھا۔
اس طرح تین درجن کے قریب سینئر ترین سول افسران نے، جن میں سے زیادہ تر ریٹائرڈ ہو چکے ہیں، مجموعی طور پر چار چار پلاٹس حاصل کیے جو کہ پولیس فاؤنڈیشن، سی ڈی اے اور فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ فاؤنڈیشن سے حاصل کیے گئے۔ چونتیس سے زائد گریڈ 22 کے افسران نے، جو کہ ریٹائرڈ ہو چکے تھے، انہیں اضافی ایک کنال پلاٹ نہیں ملا۔ چنانچہ ان میں سے کچھ افسران عدالت بھی گئے جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے گزشتہ برس وفاقی کابینہ سے جواب بھی مانگ تھا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اس الاٹمنٹ پالیسی کو متنازعہ قرار دیتے ہوئے ان پلاٹوں کی الاٹمنٹ ختم کرنے کی بھی سفارش کی تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق وزارت قانون نے ان پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی تحقیقات کے بعد انھیں غیر قانونی قرار دیا تھا۔ تاہم اس معاملے میں وزارت قانون کی بھی نہیں سنی گئی کیونکہ پاکستان میں بیوروکریٹ سیاستدانوں سے زیادہ تگڑے ہوتے ہیں۔
