افغان طالبان پاکستان کے لیے جلد بن جائیں گے وبال جان

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سلیم صافی نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی کامیابی کسی بھی وقت پاکستان کے لئے وبالِ جان بن سکتی ہے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیہ میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ امریکہ اور طالبان کے مذاکرات کے دوران سیاسی شعور رکھنے والوں نے بہت شور مچایا کہ اس ڈیل سے پہلے بین الافغان مفاہمت ضروری ہے لیکن ایسا نہ ہوا اور معاہدہ کر لیا گیا۔ پھر اس معاہدے پر عمران خان اور شاہ محمود قریشی شادیانے بجانے لگے کہ یہ ڈیل صرف ہماری وجہ سے ہوئی۔ لیکن پھر جب جون جولائی میں امریکی افواج کے انخلا کی تکمیل کا مرحلہ آیا اور بین الافغان مفاہمت کے کوئی آثار نظر نہ آئے تو افغانستان میں خونریزی کے آثار نظر آنے لگے۔ تب عمران خان کہنے لگے کہ بے یقینی کی یہ ساری صورت حال امریکی افواج کے بے وقت اور غیرذمہ دارانہ انخلا کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ گویا ایک سال قبل ہم امریکیوں کے انخلا پر آمادگی کا جشن منارہے تھے اور ایک سال بعد اس کا ماتم کررہے تھے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ دوسری جانب اشرف غنی اور اُن کے مشیر مفاہمت کی ہر کوشش کو سبوتاژ کرتے رہے، اسی طرح طالبان کا رویہ بھی بےلچک تھا۔ اِس دوران افغان فوج ایک کے بعد ایک ضلع چھوڑ کر طالبان کے حوالے کررہی تھی، چنانچہ پاکستان میں یہ سوچ فروغ پانے لگی کہ امریکہ اور افغان طالبان کی در پردہ کوئی انڈر اسٹینڈنگ ہوئی ہے جس سے پاکستان میں تشویش مزید بڑھ گئی۔ اس دوران طالبان تیزی سے کابل کے گرد گھیرا تنگ کرنے لگے۔ لیکن اشرف غنی نہ صرف مطمئن دکھائی دے رہے تھے بلکہ اپنی فوج کے ذریعے طالبان کو بھرپور مزاحمت کی دھمکیاں بھی دے رہے تھے۔ صدر غنی اور امریکیوں کے اعتماد کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ طالبان نے امریکیوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ چھ ماہ تک کابل پر قبضہ نہیں کریں گے لیکن اس دوران یکدم حالات نے پلٹا کھایا اور کابل کے ارد گرد کے صوبے طالبان کے قبضے میں آنے لگے۔
صافی کہتے ہیں کہ کابل کے دروازے پر کھڑے ہوکر طالبان نے شاید امریکہ کے ساتھ اِس انڈر اسٹینڈنگ کی وجہ سے اعلان کیا کہ وہ کابل میں داخل نہیں ہوں گے لیکن اگلے روز ایک تو وہ کابل میں داخل ہو گئے اور دوسرا ماضی کے برعکس اپنے مخالفین کو قتل کرنے کی بجائے اشرف غنی سمیت سب شہریوں کے لئے عام معافی کا اعلان کردیا۔ اسی طرح انہوں نے خواتین سے متعلق بھی ماضی کے برعکس رویہ اپنا لیا تاکہ دنیا کو اپنی مخالفت کا موقع فراہم نہ کیا جائے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ پھر گزشتہ 20 برس میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ افغانوں کے غصے کا نشانہ امریکہ اور اشرف غنی بن گئے۔ ادھر امریکہ میں میڈیا، سول سوسائٹی اور سیاستدانوں نے جوبائیڈن کو آڑے ہاتھوں لیا اور شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں افغانستان میں طالبان کی واپسی کا ذمہ دار قرار دیا۔ چنانچہ جوبائیڈن کو قوم سے خطاب کرنا پڑا جس میں انہوں نے پاکستان کا تو ذکر تک نہیں کیا لیکن اشرف غنی اور ان کے ساتھی افغان سیاستدانوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اب ایک طرف تو افغانستان میں وہ طالبان جن کی مدد کا پاکستان پر الزام لگتا رہا، بدلے ہوئے نظر آئے۔ دوسری طرف پہلی مرتبہ پاکستان کی بجائے اشرف غنی اور امریکہ نفرت کا نشانہ بننے لگے اور تیسری طرف امریکہ نے پاکستان کی بجائے اشرف غنی کو افغانستان میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس لئے پاکستان میں ایک بار پھر وزیراعظم، وزرا صاحبان، مذہبی جماعتیں، ٹی وی اینکرز اور دانشور جشن منانے لگے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ اب ہم جیسے طالب علم التجائیں کر رہے ہیں کہ جشن منانے کی ضرورت ہے اور نہ ماتم کرنے کا کوئی جواز، لیکن پختون قوم پرست سوگ میں ہیں جبکہ باقی لوگ جشن منانے سے باز نہیں آرہے حالانکہ ابھی صورت حال واضح نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس وقت بہتری کے بھی امکانات ہیں اور تباہی کا بھی خطرہ ہے۔ لیکن زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ہم ماتم کررہے ہوں گے۔ وجہ یہ ہے کہ سردست تو طالبان نے مخالف سیاسی عناصر کے ساتھ مل کر مشترکہ نظام بنانے کی بات کی ہے لیکن جب انہوں نے اپنی امارات اسلامی بحال کی تو اس میں شمالی افغانستان کے رہنماؤں کی شمولیت کا امکان بہت کم نظر آتا ہے۔ جب طالبان دیگر افغان دھڑوں کو ساتھ لے کر چلنے پر آمادہ نہیں ہوں گے تو یہ امکان بہت کم ہے کہ مغربی ممالک انکی حکومت کو تسلیم کریں گے۔ اب اگر مغربی ممالک کے بغیر پاکستان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرے گا تو ایک بار پھر دنیا کے غصے کا نشانہ بنے گا۔ سلیم صافی کہتے ہیں کہ اب ایسے عالم میں جبکہ حکومت نے اپنی معیشت آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے منسلک کر دی ہے اور ایف اے ٹی ایف کی تلوار ہمارے سر پر لٹک رہی ہے، اگر امریکہ اور اس کے اتحادی پاکستان پر غصہ اتارنے لگے تو اندازہ لگا لیجئے کہ پاکستان کی کیا حالت ہوگی۔ اللّٰہ کرے میرا اندازہ غلط ثابت ہو لیکن مجھے تو لگتا ہے کہ کسی بھی وقت طالبان کی کامیابی پاکستان کے لئے وبالِ جان بھی بن سکتی ہے۔
