پاکستان میں کرپشن بڑھ گئی ، ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ

ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق عمران خان کے دور حکومت میں پاکستان کرپشن میں 120 سے 124 ویں نمبر پر آگیا ہے۔ کرپشن پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے کا کہنا یے کہ انکی رپورٹ کے ساتھ جاری کی گئی فائلز میں ایسی رپورٹ کی تیاری کے طریقہ کار کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ طریقہ کار کی فائل کے ابتدائیے میں لکھا ہے کہ سی پی آئی 2020 کا حساب 12 مختلف اداروں کے 13 مختلف ڈیٹا سیٹس کی مدد سے لگایا گیا جو گذشتہ دو برسوں میں بدعنوانی کے تاثر کا احاطہ کرتے ہیں۔ رپورٹ کے ساتھ متعلقہ فائلز کے مطابق 13 میں سے آٹھ اداروں کا ڈیٹا پاکستان میں بدعنوانی کے تاثر کو مرتب کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تاہم سورس ڈسکرپشن کی فائل کا مطالعہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ استعمال کیا گیا ڈیٹا 2019 اور 2020 کا ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دنیا کے 180 ممالک میں بدعنوانی کے تاثر کے بارے میں سالانہ فہرست جاری کی ہے جس کے مطابق پاکستان کی درجہ بندی میں چار پوائنٹ کی تنزلی ہوئی ہےٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے جاری کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) میں پاکستان کو 180 ممالک میں 124 ویں درجے پر رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ پاکستان کے پوائنٹس بھی 100 میں سے گذشتہ برس کے 32 کے مقابلے کم ہو کر 31 ہوگئے ہیں ۔ گذشتہ سال جاری ہونے والی 2019 کی رپورٹ میں 180 ممالک کی فہرست میں پاکستان کی درجہ بندی 120 تھی۔
یاد رہے کہ عالمی ادارے کی 2018 کی رپورٹ میں پاکستان کا سکور 33 اور درجہ بندی 117 تھی اور یہ سکور اس سے پہلے کے دو برسوں سے ایک درجہ بہتر تھا۔ پاکستان میں تحریکِ انصاف کی حکومت اگست 2018 سے برسراقتدار ہے اور مسلسل ملک سے کرپشن اور بدعنوانی کے خاتمے کے عزم کا اظہار اور اس سلسلے میں دعوے کرتی رہی ہے۔ وزیرِ اعظم عمران خان بھی بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ ملک سے بدعنوان عناصر کا خاتمہ کیے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ ان کے دور میں پاکستان میں احتساب کا قومی ادارہ نیب بھی سرگرم رہا ہے اور اس نے حزبِ اختلاف کے اہم رہنماؤں کے خلاف بدعنوانی اور کرپشن کے مقدمات قائم کیے ہیں۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ 2020 کے انڈیکس میں شامل ممالک میں سے دو تہائی کا سکور 50 سے کم رہا جبکہ اوسط سکور 43 تھا۔
ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان ممالک میں بدعنوانی زیادہ دیکھنے میں آئی ہے جو کرونا کی وبا سمیت دیگر عالمی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ اس رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ بدعنوانی جنوبی سوڈان میں ہے جس کی رینکنگ 180 اور سکور 12 ہے جبکہ سب سے کم بدعنوان ملک ڈنمارک اور نیوزی لینڈ ہیں جن کا سکور 88 اور درجہ بندی ایک اور دو ہے۔ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ میں ماہرین اور کاروباری شخصیات کی نظر میں 180 ممالک کے سرکاری محکموں اور شعبہ جات میں بدعنوانی کا جائزہ لیا گیا ہے۔رپورٹ کی تیاری کے لیے جو طریقۂ کار استعمال کیا گیا اس میں ان ممالک کو ایک سے 100 کے سکور دیے گئے
