پاکستان میں چینی عملے کے خلاف خود کش حملے نہ رک پائے


پچھلے مہینے کوہستان کے علاقے داسو میں چینی انجینئرز کی بس پر ایک خود کش حملے کے بعد پاکستانی حکام کی جانب سے چینی حکومت کو انکے باشندوں کی حفاظت بارے کروائی گئی یقین دہانیاں تب ڈھکوسلہ ثابت ہوئیں جب 20 اگست کے روز بلوچستان کے علاقے گوادر میں ایک اور خودکش حملہ آور نے ایک چینی قافلے کو نشانہ بناتے ہوئے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ خودکش دھماکے میں کم از کم دو بچے ہلاک اور ایک چینی باشندے سمیت کئی زخمی ہو گے۔ وزارت داخلہ پاکستان کے مطابق یہ خود کش حملہ تھا جس میں ایک چینی شہری زخمی ہوا اور دو پاکستانی بچے مارے گے۔ دھماکہ نگوری وارڈ کے علاقے میں زیر تعمیر ایکسپریس وے پر ہوا۔ گوادر کے مشرقی ساحل پر یہ روڈ گزشتہ تین سال سے زیرتعمیر ہے۔
وزارت داخلہ پاکستان کے مطابق جمعہ کی شام تین گاڑیوں میں چینی شہریوں کو فوج اور پولیس کی نگرانی میں کام سے واپس لے جایا جارہا تھا۔ جب چینی شہریوں کا قافلہ ایسٹ بے ایکسپریس وے پر ماہی گیروں کی کالونی کے قریب پہنچا تو اچانک ایک نوجوان لڑکا نکلا اور چینی شہریوں کی گاڑیوں کو ہدف بنانے کے لیے انی جانب بھاگا۔ تاہم اس موقع پر سادہ کپڑوں میں ملبوس فوج کے اہلکار حملہ آور کو روکنے کے لیے آگے بڑھے تو اس نے خود کو قافلے سے 15 سے 20 میٹر دور ہی اڑا لیا جس سے دو بچے تو مارے گے لیک چینی باشندے محفوظ رہے اور صرف ایک زخمی ہوا جسے گوادر ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ دھماکے کے حوالے سے جائے وقوعہ کی جو تصاویر سوشل میڈیا پر نظر آئیں ان میں انسانی اعضاءبکھرے ہوئے پڑے ہیں۔ ٹویئٹر پر اس خود کش حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔
تاہم اس واقعہ نے پاکستانی حکام کی جانب سے چینی حکومت کو دی گئی یقین دہانیوں کا پول دوبارہ کھول کر رکھ دیا ہے۔ یاد رہے اس سے پہلے جولائی کے مہینے میں داسو پاور پراجیکٹ پر کام کرنے والے چینی انجینئرز کی ایک بس کو خود کش کار بمبار نے نشانہ بنایا تھا جس سے نو چینی انجینئرز ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے بعد داسو پاور پروجیکٹ پر کام کرنے والی چینی کمپنی نے منصوبے پر کام بند کر دیا تھا۔ چین کے تحفظات دور کرنے کی خاطر پاکستان نے داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر کام کرنے والے انجینئرز کی حفاظت کے لیے آرمی کی دو پلاٹونوں کو اپر کوہستان، لوئر کوہستان، اور کولائی پالوس کے اضلاع میں تعینات کیا تھا جبکہ قراقرم ہائی وے کی سیکیورٹی بھی مکمل طور پر فوج کے حوالے کردی گئی تھی۔ چنانچہ ان اقدامات کے بعد چینی حکام نے داسو پروجیکٹ پر دوبارہ کام شروع کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔ تاہم اب داسو کے بعد گوادر میں ایک اور چینی قافلے پر خودکش حملے کے بعد اس بات کے واضح امکانات پیدا ہوگئے ہیں کہ گوادر میں بھی جاری منصوبوں پر چینی حکام کام روک دیں۔
خیال رہے کہ اس سے پہلے خیبر پختون خواہ کے ضلع اپرکوہستان میں زیر تعمیر 4 ہزار 3 سو 20 میگاواٹ کا منصوبہ 14 جولائی 2021 کو خودکش حملے کے بعد روک دیا گیا تھا جس میں 9 چینی ملازمین سمیت 13 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس واقعے پر احتجاج کے لیے چینی وزیر اعظم نے خود پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو فون کیا تھا اور اس دہشت گرد حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔ حملے میں مرنے والے انجینئیرز کا تعلق چین کی گزوہبا کمپنی تھا۔ پاکستانی حکام نے چینی حکومت کو داسو حملے میں ملوث چینی مسلم عسکریت پسند گروپ کے خلاف سخت ترین کارروائی کی یقین دہانی بھی کروائی تھی۔ یاد رہے پہ داسو ڈیم کے قریب ایک بس حملے میں 9 چینی انجینئرز کی ہلاکت کی تحقیقات میں چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کی آزادی کے جنگ لڑنے والے مسلم جہادی گروپ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آئے تھے جسکے بعد چین نے پاکستان اور افغان طالبان سے اس گروہپ کو کچلنے کا مطالبہ کیا تھا۔
چینی وزیراعظم نے فون کال کے دوران نہ صرف وزیراعظم عمران خان سے ای ٹی آئی ایم کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا بلکہ افغان طالبان سے بھی کہا ہے کہ افغانستان میں میں بھی اس مسلم جہادی گروہوں کے ٹھکانے ختم کیا جائے۔حال ہی میں افغان طالبان کے ایک وفد کی بیجنگ میں حکومتی عہدیداروں سے ملاقات کے دوران بھی طالبان سے مطالبہ کیا گیا کہ ان کے زیر تسلط افغان علاقوں میں موجود ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے ٹھکانے فوری طور پر ختم کئے جائیں تاکہ وہ چین کے خلاف کارروائیاں نہ کر پائیں۔ چین نے پاکستان سے بھی یہی مطالبہ کیا لیکن پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ پاک فوج نے ماضی میں آپریشن کلین اپ کے دوران وزیرستان میں موجود ای ٹی آئی ایم کے تمام ٹھکانے ختم کر دیے تھے اور زندہ بچ جانے والے عسکریت پسند افغانستان بھاگ گئے تھے۔ اب جب غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے دوران افغانستان پر طالبان تیزی سے قابض ہورہے ہیں تو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ساتھ چینی عسکریت پسند بھی سرحد پار کر کے پاکستان میں واپس آ رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک گروپ نے داسو میں چینی انجینئرز کی بس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جسکا مقصد پاک چائنا سی پیک پروجیکٹ کو نقصان پہنچانا تھا۔
خیال رہے کہ چین پاکستان میں ’ون بیلٹ ون روڈ‘ منصوبے کے تحت کئی ارب ڈالرز کا سرمایہ سی پیک کی صورت میں لگا رہا ہے۔ اس منصوبے کا مقصد چین کے مغربی صوبے سنکیانگ کو زمینی راستے سے گوادر کی بندرگاہ سے منسلک کرنا ہے جس سے چین کو بحیرہٴ عرب تک رسائی حاصل ہونے میں آسانی ہو گی۔ تاہم پاکستانی اور چینی حکام کے لیے تشویش کی بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع کوہستان میں تو چینی انجینئرز کی بس کو ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا تھا جبکہ گوادر میں خود کش حملے کی ذمہ داری بلوچستان لبریشن آرمی نے قبول کی ہے۔

Back to top button