اسمبلی جعلی، وزیر اعظم سلیکٹڈ، استعفے دے کر تحریک چلائیں

جمیعت علمائے اسلام کے سربارہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ موجودہ اسمبلیاں جعلی اور وزیر اعظم سلیکٹڈ ہیں ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں موجودہ نظام سے ہے. اسمبیلوں سے استعفی دے کر سلیکٹڈ حکومت کیخلاف تحریک چلائی جائے. سلیکٹڈ حکومت کو مارچ سے پہلے گھر بھیجنا ہو گا ورنہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری..
اپوزیشن جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 2018 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی، اسے ثابت کرنے کی ضرورت نہیں، ان کا کہنا تھا کہ کیا پارلیمنٹ میں قانون سازی بندوق کی نوک پر نہیں ہو رہی؟سخت مؤقف سےہٹانےکیلئےوفد آیالیکن میں نہیں مانا، وزیراعظم اور اسمبلی جعلی ہے، اسمبلیوں سے استعفیٰ دیں،سینیٹ بھی جعلی ہے، تمام قوانین سے لاتعلقی کا اعلان کیا جائے۔ہمارا مقابلہ عمران خان سے نہیں بلکہ اس نظام سے ہے.مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہمارے ملک کا جمہوری نظام بالکل تباہ ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی سے متعلق کمیٹی بنائی گئی جس کی توثیق آپ لوگوں نے کی لیکن میں نے پہلے دن سے اس اقدام کی مخالفت کی تھی۔اگر آپ نے ڈھیلے ڈھالے فیصلے کیے تو مارچ میں سینٹ انتخابات کی صورت میں ان جعلی لوگوں (حکومت) کے ہاتھ میں سینٹ کا ایک حصہ چلا جائے گا، پھر آپ کہاں کھڑے ہوں گے اور ملک کہاں کھڑا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘ہم بڑی صراحت کے ساتھ کہنا چاہتے ہیں کہ آج ہی فیصلہ کریں کہ ہم اسمبلیوں سے مستعفی ہوں گے، اگر انہی اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے ہیں جہاں کوئی کارکردگی نہیں ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ ہم شفاف الیکشن کے مقصد کے لیے کوئی کردار ادا کرسکتے ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘اگر ہم نے سول سپریمیسی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہیں تو پھر آپ عوام کے صفوں کے جانے کے لیے آئیں، تاجربرادری، وکلا، اساتذہ، ڈاکٹروں، مزدوروں، کسانوں اورصںعت کاروں کے پاس جائیں اور ان کے سے کہیں ہم اکٹھیں لڑیں اور ہمیں قوت سے ان کو اپنی صفوں میں لانا ہوگا’۔ان کا کہنا تھا کہ نیب کے بارے میں نواز شریف کے خیالات سے مفتق ہوں، جب 18 ویں ترمیم کے لیے آئینی اصلاحاتی کمیٹی بنائی گئی تھی تو ہم نے عرض کیا تھا کہ یہ ایک آمر جنرل پرویز مشرف کا بنایا ہوا ادارہ ہے، یہ ہمیشہ جمہوریت اور سیاست دانوں کے خلاف استعمال ہوگا اس لیے اس کو نکال دیں لیکن کس مصلحت کے لیے برقرار رکھا گیا آج تک پتہ نہیں چلا۔انہوں نے کہا کہ ‘آج اپنے پورے نظآم کو دیکھیں، اسمبلی جعلی، وزیراعظم جعلی، سینیٹ چیئرمین کے خلاف عدم اعمتاد ہوا اور جو کچھ ہوا میری زبان میں آج چیئرمین سینیٹ جعلی، پرسوں اقلیت کو اکثریت کہا گیا شاید وہاں کے ملازمین کو بھی گنا ہوگا’۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘اس گنتی پر ہمیں دیکھنا ہوگا کہ یہ غلط ہوئی ہے، پارلیمنٹ کی اکثریت کو اقلیت اور اقلیت کو اکثریت بنا کر بل منظور کرلیا، اب تو مجھے اسمبلی کا اسپیکر بھی جعلی لگتا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘جب پوری پارلیمنٹ جعلی ہوجائے، حکمران جعلی ہوں تو پھر ہم وہاں کس لیے بیٹھے ہوئے ہیں کیونکہ یہ سب ڈرامے وہاں ہوئے ہیں’۔پارلیمنٹ میں قانون سازی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘ایف اے ٹی ایف سے متعلق جو قانون سازی ہورہی ہے یہاں رکے گی نہیں، آپ کی ایٹمی صلاحیت کے خلاف بھی قرار داد آئے گی اور ایک دن اس پر دباؤ آئے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اب پھنس چکے ہیں، اس سے نکلنے کے لیے مضبوط فیصلے کرنے ہوں گے، ڈی نیوکلیئرائزیشن کا آپ انتظار کریں گے، اپنی عیاشیوں کو زندہ رکھنے کے لیے غلام بننا کوئی زندگی نہیں ہے’۔
سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ ‘پاکستان ہمارے لیے اول ہے، اس کی باعزت بقا ہمارے لیے اول ہے اور آئین کے مطابق ہمارا نظام چلنا چاہیے، کبھی صدارتی نظام کے لیے تجویز آتی ہے جبکہ ہم نے آئینی اصلاحاتی کمیٹی میں اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کاتعین کیا جائے’۔آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق آئینی کمیٹی پر ہونے والے اتفاق پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق 4 چیزوں پراتفاق ہوا تھا اسلام، جمہوریت، وفاقی طرز حکومت اورپارلیمانی نظام پر، آئین کا ایک ستون بھی گرجاتا ہے آئین گرتا ہے پھر ایک آئین ساز اسمبلی کے تحت آئین دینا ہوگا’۔انہوں نے کہا کہ ’70 برسوں سے جو چیزین طے شدہ ہیں وہ دوبارہ کھل جائیں کیا ہم اس کا متحمل ہیں، اس بات پر بھی غور کرنا ہوگا’۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘میڈیا کو اتنا کمزور اور مقید کیا گیا ہے کہ وہ ہمارے لاکھوں کے اجتماع اور ہماری تقاریر کو چینلوں میں دکھانے کے قابل نہیں رہے، ان کو باقاعدہ روکا جاتا ہے اور وہ رک جاتے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں میڈیا سے شکوہ اپنی جگہ پر لیکن ہمیں ان کی مظلومیت کو بھی سامنے رکھنا چاہیے اور ان کی آزادی کے لیے بھی ایک مضبوط مؤقف لینا چاہیے’۔انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان بڑی ہمت کے ساتھ میگا پروجیکٹس کی طرف جارہا تھا، سی پیک، توانائی سمیت اور دیگر منصوبوں کی طرف جارہا تھا لیکن آج سب کچھ رک گیا ہے’۔حکومت پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک غیرملکی سفیر نے بتایا کہ پاکستان اور پاکستانی قوم میگا پروجیکٹس کی متحمل نہیں ہے لہٰذا ہمیں مائیکرو اورمیڈیم سطح پر اکثر نو منصوبے شروع کریں گے، پھر انڈے اور کٹے ریاست کی پالیسیاں ہیں’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم زبانی گفتگو پر اکتفا نہیں کرسکتے کہ آپ ہمیں کہیں کہ ہم لڑیں گے اورپیچھے نہیں ہٹیں گے، آپ بہت پیچھے ہٹے ہیں، ان دو برسوں میں آپ ان کی بقا کا سبب بنے ہیں’۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘اب باقاعدہ لکھ کر طے کرنا ہوگا تاکہ ہم عوام کو دکھا سکیں اورجو اس سے پیچھے ہٹتا ہے تو اس کو قومی مجرم تصور کیا جائے گا، اتنی بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں اورپھر کمپرومائز کی طرف جاتے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں عملی اقدامات کی طرف جانا ہوگا، کمپرومائز کا راستہ بند ہوگا، آپ ہماری سیاسی تحریک کو مہمیز تو بخشتے ہیں لیکن جب آگے بڑھتے ہیں تو مصلحتیں سامنے آتی ہیں اور اپوزیشن کی جماعتوں سے بھی یہ برقرار رہتا ہے تو میں نہیں سمجھتا کہ ہم ایک دوسرے پر اعتماد کرکے کوئی تحریک چلاسکیں گے’۔انہوں نے کہا کہ ‘اعتماد کےلیے بھی ہمیں مؤثر باتیں کرنی ہوں گی اور اس تجدید عہد کرنا ہوگا، ہمیں حلف اٹھا کر یہاں سے نکلنا ہوگا، تحریری میثاق یہاں لکھنی ہوگی، اگر ہم چاہتے ہیں تو ہمارا ایک تنظیمی ڈھانچہ اوراپوزیشن کا ایک نام ہونا چاہیے’۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تمام قانون سازی، غیر منتخب اور غیرآئینی حکومت کے تمام بین الاقوامی معاہدوں سے لاتعلقی کا اعلان کرنا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ‘منی لانڈرنگ کے خلاف قانون سازی ہورہی ہے، پھر ہم کہتے ہیں کہ پیسہ دہشت گردوں کے پاس جاتا ہے تو میرے خیال میں اس پیسے کا بھی راستہ بند ہونا چاہیے جو ریاستی دہشت گردی کے حق میں چلاجاتا ہے’۔سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ ‘اگر آپ مضبوط فیصلہ کر اسمبلیوں سے استعفے دینے، سندھ کی صوبائی اسمبلی کو تحلیل کرنے اور ایک بھرپور سیاسی تحریک جس میں پارلیمنٹ میں قانون سازی سے اظہار لاتعلق ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ہمیں بہتر توقعات ہیں اور امید ہے آپ پوری قوم کی حوصلہ افزائی کریں گے’۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آل پارٹیز کانفرنس سے اپنے خطاب میں اسمبلیوں سے استعفے اور سندھ اسمبلی کو فوری طور پر تحلیل کرنے کی تجویز بھی دی۔ذرائع کا کہنا ہے کا اس موقع پر احتجاج کرتے ہوئے کہنا تھا کہ میرا خطاب میڈیا تو نہیں دکھا رہا لیکن اے پی سی نے بھی اسے نشر ہونے سے روک دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں آج ہی فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم اسمبلیوں سے مستعفی ہوں گے۔ وزیراعظم سمیت اسمبلیاں اور میرے نزدیک سینیٹ چیئرمین بھی جعلی ہے۔جے یو آئی سربراہ نے کہا کہ ہمیں اب زبانی نہیں بلکہ تحریری بات کرنی ہوگی۔ میڈیا کو اتنا قید کر دیا گیا ہے کہ وہ ہماری لاکھوں کے اجتماعات اور ہماری تقاریر نہیں دکھا رہے، ان کو روکا جاتا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج ہی فیصلہ کریں کہ ہم اسمبلیوں سے مستعفی ہو جائیں گے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اب میں زبانی دعوؤں پر یقین نہیں رکھتا۔ اب آپ بہت کہیں گے کہ ہم لڑیں گے لیکن آپ لوگ بہت پیچھے ہٹ چکے ہیں۔
دوسری طرف اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں جمعیت علمائے اسلام ( جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی تقریر لائیو نشر نہ ہوسکی۔اے پی سی کے دوران مولانا فضل الرحمان نے تقریر لائیو نشر نہ کرنے پر میزبان پیپلزپارٹی سے احتجاج کیا۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ حکومت تو ہماری آواز پبلک میں جانے سے روکتی ہے لیکن اے پی سی نے بھی ہماری تقریر ائیر ہونے سے روکی، یہ نامناسب بات ہے، اس پر ہم پیپلز پارٹی اور منتظمین سے احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتے ہیں۔اس پر پی پی چیئرمین نے کہا کہ ایم ایم اے میں آپ کی دوسری جماعت کی درخواست پر یہ ان کیمرا ہے، اس کے بعد پریس کانفرنس ہوگی۔بلاول کے مؤقف پر مولانا فضل الرحمان نے جواب دیا کہ یہ ان کیمرا تو نہیں تھا۔اس دوران شیری رحمان نے کہا کہ ہمیں کہا گیا تھا آپ لوگوں نے درخواست کی ہے۔ اس پر سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ہم نے کوئی درخواست نہیں کی۔
بعدازاں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے معاملہ رفع دفع کروایا۔اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے بھی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی تقریر کیوں نہیں دکھائی گئی ؟ افسوس ہوا۔


قبل ازیں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دو روز میں دوسری مرتبہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف سے رابطہ کیااور حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے مشاورت کی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے میاں محمد نواز شریف کو ٹیلی فون کیا، دونوں رہنماؤں نے اپوزیشن کی کثیرالجماعتی کانفرنس کے ایجنڈے اور تحریک انصاف حکومت کے خلاف تحریک سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا۔ذرائع کا بتانا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ نون کی قیادت نے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لئے اسمبلیوں سے استعفے دینے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کیخلاف تحریک عدم اعتماد کے آپشنز پر غور کیا۔مولانا فضل الرحمان اور میاں نواز شریف کے درمیان تحریک انصاف حکومت کے خلاف پوری قوت کے ساتھ احتجاج اور جیل بھرو تحاریک چلانے کے معاملات پر مشاورت کی گئی، مسلم لیگ نون کے قائد نے مولانا فض الرحمان کی تجاویز سے اتفاق کیا۔
قبل ازیں پیپلزپارٹی نے اے پی سی کیلئے جو تجاویز تیار کیں ان میں وزیراعظم، اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعلیٰ پنجاب کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی تجاویز بھی شامل ہیں، کانفرنس میں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان میثاق جمہوریت کی طرزکا نیا معاہدہ ہونے کا امکان ہے۔ اے پی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے بھی باقاعدہ تحریری معاہدہ ہو گا۔ اپوزیشن کی کوئی جماعت تحریری معاہدے سے پیچھے نہیں ہٹ سکے گی۔ پیپلز پارٹی رہنماوں میں یوسف رضا گیلانی، قمرزمان کائرہ، شیری رحمان سمیت دیگررہنما کانفرنس میں شریک ہیں جبکہ ن لیگی وفد میں مریم نواز، شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال، خواجہ آصف اور دیگر رہنما شامل ہیں۔ جے یو آئی کی جانب سے مولانا فضل الرحمان، مولانا عبدالغفور حیدری اور اکرم خان درانی اے پی سی میں موجود ہیں۔کثیر الجماعتی کانفرنس کے میزبان چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو ہیں، نیشنل پارٹی، اے این پی، بی این پی مینگل کے وفود بھی شریک ہیں۔ جماعت اسلامی نے اپوزیشن جماعتوں کی بیٹھک میں آنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ محمود خان اچکزئی، اسفند یار ولی، آفتاب شیرپاؤ، میر اسراراللہ زہری، مولانا اویس نورانی، پروفیسر ساجد میر اور نیشنل پارٹی کے نمائندگان بھی کانفرنس میں شریک ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button