آئینی حدود میں رہنے والے تمام ادارے قابل احترام ہیں

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر و سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے آل پارٹیز کانفرنس(اے پی سی) سے خطاب میں کہا ہے کہ آج نوازشریف نے پاکستان کی اصل بیماری بتائی اور اس کا علاج بھی تجویز کیا۔پاکستان میں ویگو ڈالے والا کلچر ختم ہونا چاہیے، ادارے اپنی حدود میں رہیں تو سب قابل احترام ہیں، سینیٹ اور فیٹف قانون کے معاملے پر جو ہوا، یہ حکومت کیلئے کوئی فخرکا مقام نہیں۔
مریم نواز نے اے پی سی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو متحد ہوکر آگے بڑھنا ہوگا۔ووٹ کو جب عزت نہیں ملتی، تو پٹرول آٹا چینی، ادویات مہنگا ہونا علامات ہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ کیا ووٹ کی عزت یہ ہے؟ کہ عوام ووٹ کس کو ڈالتے ہیں اور نکلتا کسی اور کے نام ہے۔ اپوزیشن کو عہد کرنا ہوگا کہ ہم عوامی توقعات پر پورا اتریں گے، اور عوام کو حکومت سے نجات دلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے انگریز سے اس لیے آزادی حاصل نہیں کی تھی کہ اگر کوئی حق سچ کی بات کرے تو رات کو ویگو ڈالے والے اٹھا کر لے جائیں، ویگو ڈالے والا کلچر ختم ہونا چاہیے، ہراسمنٹ ختم ہونی چاہیے سیاستدانوں کی تضحیک ختم ہونی چاہیے،مریم نواز کا کہنا تھا کہ اپنی حدود میں کام کرنے والے سب ادارے قابل احترام ہے ، اگر کوئی ادارہ سب سے زیادہ قابل احترام ہے تو وہ پارلیمنٹ ہے، سب سے زیادہ قابل احترام لوگ عوامی نمائندے ہیں۔
مریم نواز نے مزید کہا کہکیا نوجوان نسل کو منظور ہے کہ ان کے نمائندوں کی تذلیل کی جائے، تمسخر اڑایا جائے، پھانسیاں ہوں؟انہوں نے کہا کہ انصاف اور امن وامان کی یہ صورتحال ہے کہ موٹروے زیادتی کیس کی 72سالوں میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ کیا پارلیمنٹ میں اپوزیشن ہار گئی اور حکومت جیت گئی؟ جس طرح سینیٹ اور فیٹف قانون کی منظوری کے موقع پر ہوا،یہ کوئی فخرکا مقام نہیں ہے، اپوزیشن میں بھی کالی بھیڑیں ہیں، لیکن فخر کیا جارہا ہے کہ اپوزیشن ہار گئی اور حکومت جیت گئی یہ فخر کا مقام نہیں ہے۔مریم نواز نے کہا کہ جس طرح سے مطیع اللہ جان کو اٹھا لیا جاتا ہے، جس طرح سے عرفان صدیقی کو ہتھکڑیاں لگا کر اڈیالہ لے کر جایا جاتا، جس طرح میر شکیل الرحمن کو جیل میں رکھا جاتا۔ یہ پاکستان کے لئے اچھا نہیں ہے۔ جسٹس شوکت صدیقی اور جسٹس فائز عیسی جیسے آئین اور قانون پسند ججز کو نشانہ بنایا جاتا ہے.
مریم نواز نے بھی آل پارٹیز سے خطاب میں کہا کہ نوازشریف نے تقریر میں پاکستان کی بیماری کا بتایا بلکہ علاج بھی تجویزکیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی نسل نوازشریف کی تقریر تین مرتبہ سنے اور ملکی مسائل اور ان کا علاج سمجھے، نوازشریف کی آواز ہرپاکستانی اور ہر جمہوریت پسندکی آواز ہے۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ بلاول اور میں نئی نسل کے نمائندے کی حیثیت سے ایسا پاکستان چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے، وہ سب ادارے قابل احترام ہیں جو آئین کی حدود میں رہیں تاہم سب سے قابل احترام ادارہ پارلیمنٹ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ہماری بہن کی جیسے بےحرمتی کی گئی، اس کی مثال نہیں ملتی لیکن بدنام زمانہ پولیس آفیسرکا دفاع قومی سانحہ ہے۔ مریم نوازکا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی اے پی سی بہت کامیاب رہی۔۔عمران خان حکومت کوگھرجانا ہوگااورایسی حکومت کو دوبارہ کبھی نہیں آنا چاہیے۔ شہبازشریف ایک وفاداربھائی ہیں، وہ نوازشریف کی ہرہدایت پرمن وعن عمل کرتے ہیں. انھوں نے مزید کہا کہ جسٹس فائز عیسی جیسے آئین اور قانون پر چلنے والے ججز کو نشانہ بنایا جاتا ہے، بے نظیر صاحبہ کا سینہ گولیوں سے چھلنی کردیا گیا میاں صاحب جو تین مرتبہ ملک کے وزیراعظم رہےجو ظلم انہوں نے برداشت کیے ہمارے خاندانوں نے برداشت کیے ان سب کے باوجود پاکستان کو اس نسل کی قربانیوں کا ثمر ابھی تک نہیں ملا.
خیال رہے کہ اپوزیشن کی اے پی سے سے خطاب میں نواز شریف کا کہنا تھا کہ عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنا سنگین جرم ہے، عوام کے حق حکمرانی کو تسلیم کیا جائے، 2018 کے عام انتخابات میں گھنٹوں آر ٹی ایس کیوں بند رہا؟ انتخابات میں دھاندلی کس کے کہنے پر کی گئی؟ اس کا سابق چیف الیکشن کمشنر اور سیکرٹری کو جواب دینا ہو گا جو دھاندلی کے ذمہ دار ہیں انہیں حساب دینا ہو گا۔
