نواز شریف کی واپسی کے خواہشمند مشرف کو کیوں بھول گئے؟

تین بار ملک کے وزیراعظم منتخب ہونے والے نواز شریف کو علاج کے لیے لندن بھجوانے کے بعد پاکستان واپس لانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے والی کپتان حکومت آئین شکنی پر سزائے موت کے مجرم پرویز مشرف اور شوگر سکینڈل کے مرکزی کردار جہانگیر ترین کو وطن واپس نہ لاکر دوہرے معیار اہنانے کا کھلا ثبوت دے رہی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے علاج کے لئے لندن میں مقیم سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کے لئے ہر پلیٹ فارم پر بھرپور کمپین چلائی اور اس مقصد کے لیے قانونی اور عدالتی جنگ بھی لڑی۔ بالآخر نواز شریف کو عدالت سے اشتہاری قرار دلوانے کے بعد اب حکومت پاکستان نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ نواز شریف کو پاکستان واپس لاکر جیل میں ڈالنے کے لئے قانونی کارروائی کا آغاز کرے۔
تاہم نواز شریف کے معاملے میں پھرتیاں دکھانے والی عمران خان کی حکومت دو دفعہ پاکستانی آئین کو پامال کرنے کے جرم میں سزائے موت پانے والے بھگوڑے پرویز مشرف اور شوگر سکینڈل کے مرکزی کردار جہانگیر ترین کو پاکستان واپس لانے کے حوالے سے کچھ کرنا تو کیا، سوچنا بھی نہیں چاہتی۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ کیا ان لوگوں کو سرخاب کے پر لگے ہیں یا یہ آسمان سے اترے ہیں کہ انہیں وطن واپس لا کر سزا کا سامنا کرنے کا کیوں نہیں کہا جاتا۔ بے لاگ احتساب کے دعویدار عمران خان نے اپنوں کے لئے ایک جبکہ سیاسی مخالفین کے لئے دوسرا قانون اپنا کر یہ ثابت کیا ہے کہ ان کا احتساب کا بیانیہ جھوٹا اور اپوزیشن دشمن ہے۔ مشرف اور ترین کے علاوہ عمران خان کے اپنے خلاف دائر کردہ کیس بھی پاکستان کی عدالتوں اور الیکشن کمیشن میں جمود کا شکار ہیں۔
نواز شریف کی نیب میں پیشیاں اور ان کے ان الزامات نے کہ صرف سیاستدان ہی عدالتوں کا سامنا کر تے اورمجرم ٹھہرائے جاتے ہیں سیاسی اور عوامی حلقوں میں ملا جلا ردعمل پیدا کیا ہے جس سے نئے پاکستان میں دوہرے معیار اپنانے کا سوال اٹھ رہا ہے۔ حال ہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے نواز شریف کو فوری طور پر وطن واپس طلب کیے جانے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور پرویز مشرف کے کیسوں میں دوہرے معیار اپنائے جا رہے ہیں۔ اس ملک میں ایک آئین شکن ملٹری ڈکٹیٹر کو اوپر سے نیچے تک تحفظ فراہم کیا جاتا ہے جبکہ ملک کے سابق وزیراعظم کے لئے قانون کا دہرا معیار اپنایا جاتا ہے۔ چنانچہ علاج کی خاطر عدالت سے اجازت لے کر لندن جانے والے سابق وزیراعظم کی ضمانت تو عدالت نے منسوخ کر دی لیکن غداری کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے آئین شکن سابق فوجی ڈکٹیٹر جنرل مشرف کو وطن واپس لانے کے لیے کبھی کسی عدالت نے کوئی کارروائی کرنے کی زخمت نہیں کی۔
واضح رہے کہ برطانیہ کا دارالحکومت لندن جہاں ہاں نواز شریف موجود ہے وہی ریاست پاکستان کو مطلوب مطلوب دو اور اشتہاری بھی ابھی پناہ لیے ہوئے ہیں۔ آئین پاکستان کے تحت بننے والی خصوصی عدالت سے آرٹیکل چھ کے تحت غدار وطن قرار پا کر 3 بار سزائے موت موت پانے والا سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف بھی لندن میں چھپا بیٹھا ہے۔ واضح رہے کہ نو مہینے قبل خصوصی عدالت سے سزا پانے والے مشرف نے عدالت سے سزا کے خلاف اپیل کی تھی تاہم عدالت نے یہ کہہ کر اپیل مسترد کر دی کہ مشرف سزا یافتہ ہے جب تک وہ عدالت کے سامنے سرینڈر نہیں کرے گا اس کی اپیل نہیں سنی جا سکتی۔ اسی قانون کی بنیاد پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے نواز شریف کو اپیل کا حق دینے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم ان دونوں افراد کے کیسز میں کپتان حکومت کے دوہرے معیار ننگے ہو کر سامنے آگئے ہیں۔ نو مہینے گزر گئے، مشرف کی اپیل مسترد ہونے کے باوجود اسے وطن واپس لا کر اسلام آباد کے ڈی چوک میں سرعام پھانسی کی سزا دینے کی بجائے حکومت آنکھیں بند کئے بیٹھی ہے۔ دوسری طرف نواز شریف کو وطن واپس لانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جارہا ہے۔
اسی طرح نون لیگ سے تعلق رکھنے والے سابق وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار بھی پاکستان سے برطانیہ منتقل ہو چکے ہیں تاہم کسی بھی کیس میں سزا یافتہ نہ ہونے کے باوجود کپتان حکومت اسحاق ڈار کو پاکستان واپس لانے کے لئے تمام حربے استعمال کر رہی ہے۔ کچھ عرصہ قبل حکومت نے اسحاق ڈار کو پکڑنے کے لیے انٹرپول سے بھی رابطہ کیا تھا تاہم انٹرپول نے یہ کہہ کر ریڈ وارنٹس پر عمل درآمد سے انکار کر دیا کہ اسحاق ڈار کے خلاف انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے اور انہیں محض سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے لہذا انٹرپول اسحاق ڈار کو گرفتار کرکے حکومت پاکستان کے حوالے نہیں کرے گی۔ سیاسی اور قانونی حلقوں کی جانب سے اسحاق ڈار کے کیس کا موازنہ وزیراعظم عمران خان کی ٹیم کہلانے والے سابق دست راست جہانگیر خان ترین سے کیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ چند ماہ قبل چینی سکینڈل میں مرکزی ملزم قرار پانے والے جہانگیرترین اپنے بیٹے کے ہمراہ ان دنوں لندن میں مقیم ہیں۔ حال ہی میں ایف آئی اے نے جہانگیر ترین اور ان کے بیٹے کو شوگر سکینڈل انکوائری کے سلسلے میں ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے تاہم جہانگیر ترین نے واضح کر دیا ہے کہ ان کے خلاف کیس بے سروپا اور مفروضوں پر مبنی ہے اس لئے وہ پاکستان آکر ایف آئی اے کے روبرو پیش نہیں ہوں گے۔ جہانگیر ترین کا موقف سامنے آنے کے باوجود کپتان حکومت کی جانب سے ان کے خلاف کسی قسم کی قانونی کارروائی کا عندیہ نہیں دیا گیا جس سے ایک بار پھر یہ ثابت ہو رہا ہے کہ تحریک انصاف کے ہمدردوں کے لیے پیمانے اور ہیں جبکہ اپوزیشن رہنماؤں کے لئے لیے احتساب کے پیمانے کچھ اور ہیں۔
