غدار صحافی اٹھائے جانے سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

پاکستان میں سر پھرے غدار ٹائپ کے صحافیوں کو اٹھائے جانے کے پے در پے واقعات کے بعد حال ہی میں اغوا کاروں کے چنگل سے رہائی پانے والے سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے اپنے ساتھیوں کو چند احتیاطی تدابیر اپنانے کا مشورہ دیا ہے جن پر عمل کرنے سے وہ اٹھائے جانے سے بچ سکتے ہیں۔
اپنی ایک ہلکی پھلکی طنزیہ تحریر میں جہاں مطیع اللہ جان نے سر پھرے صحافیوں کو اپنا تحفظ کرنے کی تدابیر بتائی ہیں وہیں پاکستانی معاشرے میں فکری گھٹن اور آزادی اظہار پر بڑھتی ہوئی قدغنوں اور اغوا کاروں کے بے لگام ہونے کے بڑے خطرے سے بھی آگاہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ مطیع اللہ جان کو گذشتہ مہینے اس وقت اسلام آباد سے اغوا کر لیا تھا جب وہ اپنی اپنی سکول ٹیچر اہلیہ کو چھوڑنے کے بعد واپس آرہے تھے۔ تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس واقعے کا نوٹس لے کر مطیع اللہ جان کو فوری بازیاب کروانے کا حکم دیا تھا جس کے بعد مبینہ اغوا کار رات کے وقت انہیں اسلام آباد کے نواح میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ اس واقعے کو کئی ہفتے گزر جانے کے باوجود پولیس اغوا کاروں کا سراغ نہیں لگا سکی حالانکہ یہ ایک کھلا راز ہے کہ انہیں اغوا کرنے والوں کا تعلق محکمہ زراعت سے تھا۔
مطیع اللہ جان کے اغوا کے چند ہفتے بعد ڈان اخبار کے سابق رپورٹر اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے جوائنٹ ڈائریکٹر ساجد گوندل کو بھی نامعلوم افراد نے اغوا کر لیا تھا اور کئی روز بعد عدسلت کی مداخلت پر چھوڑا تھا۔ اغوا کاروں کے پریشر کی وجہ سے ساجد گوندل نے واپسی پر یہ بہانہ بنایا کہ انہیں کسی نے اغوا نہیں کیا تھا بلکہ وہ دوستوں کے ہمراہ شمالی علاقہ جات کی سیر کے لئے چلے گئے تھے۔
اب اغوا کا روں کے چنگل سے خیر وعافیت سے گھر پہنچنے والے مطیع اللہ جان نے شریف شہریوں بالخصوص صحافی بھائیوں کو اغوا ہونے سے بچنے اور شمالی علاقہ جات کی سیر سے محفوظ رہنے کے لئے کئی مفید مشورے دیئے ہیں۔ مطیع اللہ جان اپنی ایک تحریر میں مشورہ دیتے ہیں کہ سر پھرے صحافی اپنے ساتھ ہونے والے کسی بھی غیرمعمولی حادثے، یا خود کو موصول ہونے والی بلواسطہ یا بلا واسطہ دھمکی کی صورت میں فوری طور اپنے قابل اعتماد ساتھیوں یا دفتر کے حکام کو تحریری طور پر یا ای میل وغیرہ کے ذریعے آگاہ کریں اور اس کے پیچھے ممکنہ وجوہات یا خدشات کا ذکر ضرور کریں۔ ایسا کرنا خاص کر اس وقت ضروری ہے، جب آپ سمجھیں کے اپکے ساتھ ہونے والا واقعہ آپکے پیشہ وارانہ معمولات سے بلواسطہ یا بلا واسطہ جڑا ہوا ہے۔ کسی بڑے حادثے کی صورت میں مقامی پولیس کو فوری طور پر رپورٹ کریں اور ہر صورت ایف آئی آر درج کروائیں۔
اپنے پیشہ وارانہ کام کے سلسلے میں کسی بھی خاص یا خفیہ شخصیت سے ملاقات سے پہلے اپنے قابل اعتماد ساتھی یا دوست کو مطلع ضرورکریں۔ تھوڑے سے بھی خدشے کی صورت میں تحریری طور پر ملاقات کے بظاہر مقصد، تاریخ، مقام اور وقت کے بارے میں اپنے دفتر کے حکام کو مطلع کر کے ملاقات کے لیے جائیں۔ اپنے دفتر کے قابل اعتماد ساتھیوں اور قریبی دوستوں کے ساتھ اپنے اہل خانہ کے تمام ٹیلی فون نمبر ضرور شئیر کریں تاکہ ہنگامی حالت کی صورت میں کام آ سکیں۔ اسی طرح اپنے دفتر کے قابل اعتماد ساتھیوں اور قریبی دوستوں کے رابطہ نمبر اپنے گھر میں خاص جگہ پر آویزاں کر دیں۔ اپنے گھر سے نکلتے وقت اپنی ممکنہ واپسی کے وقت کا بتا کر نکلیں اور ضروری سمجھیں تو اپنے اس روز کے معمولات کا ذکر بھی اہل خانہ سے ضرور کریں۔ دوران سفر کسی بھی خدشے یا خطرے کے پیش نظر اپنی لائیو لوکیشن واٹس ایپ یا فائنڈ فرینڈز ایپ کے ذریعے مستقل طور پر اہل خانہ یا قریبی دوست کے ساتھ شیئر کریں۔دفتر یا کسی دوسرے عوامی مقام پر اپنی گاڑی ہمیشہ ایسی جگہ پارک کریں، جہاں سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہوں۔ وقت ضرورت ویڈیو مل جانے کی توقع بے شک نہ رکھیں۔ اپنے گھر اور دفتر میں پولیس ایمرجنسی رابطہ نمبروں کی فہرست آویزاں رکھیں۔
اپنے سمارٹ فون پر اپنے ای میل، ٹویٹر، فیس بک اور واٹس ایپ اکاؤنٹس کے پاس ورڈز اپنے اہل خانہ بشمول بالغ بچوں سے ضرور شیئر کریں، جو آپ کے اغوا ہونے کی صورت میں فوری طور پر ان پاس ورڈز کو بدل دیں تا کہ اغواکار ان اکاؤنٹس کا غلط استعمال نہ کر سکیں۔ اغوا کی صورت میں کسی دوسرے فون یا گھر کے ڈیسک ٹاپ سے اہل خانہ ان اکاؤنٹس تک ہنگامی رسائی حاصل کر سکیں۔ اپنے اہل خانہ سے یہ طے رکھیں کہ ہنگامی صورت حال میں ٹویٹر یا دوسرے اکاؤنٹس سے کیا پیغام کیسے شئیر کرنا ہے اور کن کن قریبی دوستوں کو فوری مطلع کرنا ہے۔ اغوا کے بعد بازیاب ہونے کی صورت میں اپنے ساتھ ہونے والے سلوک سے متعلق پولیس، اہل خانہ، قریبی دوستوں اور عام عوام کو درست حقائق سے ضرور آگاہ کریں تاکہ باقی شہریوں اور ناقد صحافیوں کو بھی ایسا کرنے کا حوصلہ ملے، جس سے اغوا کاروں کا مورال ڈاؤن ہو گا۔
مطیع اللہ جان کے مطابق آخر میں سب سے اہم نقطہ یہ ہے کہ موجودہ دور میں کامیاب و کامران صحافیوں کے آزمودہ طریقے کے مطابق آپ ایسا کوئی کام ہی نہ کریں، جس سے اس ملک کے اغوا کاروں کے مالی و سیاسی مفادات کو نقصان پہنچتا ہو۔ نہ صرف آپ محفوظ رہیں گے بلکہ ترقی بھی کریں گے۔ مطیع اللہ جان خبردار کرتے ہوئے واضح کیا کہ مذکورہ تمام طریقے آپ کو سو فیصد محفوظ رہنے کی ضمانت نہیں دے سکتے کیونکہ ان طریقوں کو یہ اغوا کار حضرات بھی بغور پڑھ چکے ہوں گے۔ مگر پھر بھی یہ تحریر ان اغوا کاروں کی اپنی ہی آئندہ نسلوں کے کام آ سکتی ہے اگر وہ پاکستان میں ہی جینے مرنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو۔
مطیع اللہ جان نے لکھا میری ایک گزارش یہ بھی ہے کہ مغوی کے اہل خانہ، دوستوں، پیشہ وارانہ ساتھیوں، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور عام عوام کے علاوہ حکومت اور عدلیہ کو ان واقعات پر بھرپور ردعمل دینا چاہیے۔ سب سے بڑی ذمے داری حکومت اور پولیس کی ہے، جس کے بعد عدلیہ کو بھی ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے چاہئیں۔آخر میں شکریئے کے ساتھ ایک خصوصی نوٹ میں مطیع اللہ جان نے حکومت سے اپیل کہ وہ اغوا کاروں سے اپیل کرے کہ خدارا اس ملک پر رحم کھائیں اور اور سر پھرے صحافیوں کو اٹھا اٹھا کر اپنا وقت ضائع کرنا بند کر دیں کیونکہ اگر انہیں اٹھائی جانے کی عادت پڑ گئی تو پھر انہیں سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔
